Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انقلاب کا خواب

May 10, 2014 0 1 min read
Shakeel Chughtai
Poet
Poet

برلن بیورو کے مطابق یورپ کے ممتاز ایشین صحافی و شاعر،سیاسی تجزیہ نگار، کالم نویس،ریڈیو و ٹی وی فنکار،کئی ادبی، صحافتی،سیاحتی،سیاسی، سماجی و رفاہی تنظیمات کے اعزازی سربراہ شکیل چغتائی کا نیا کالم اپنا انٹرنیشنل کے ذریعہ حاضر ہے: کالم لکھے کافی عرصہ ہو گیا۔کبھی ذاتی مسائل،گھریلو پریشانیاں، بیماریاں آڑے آتی رہیں، کبھی عدیم الفر صتی اور کبھی کوئی سفر درپیش رہا۔ بہرحال اب جبکہ ١١ مئی کا دن سر پر آگیا ہے،میراکالم وقت کی ضرورت ہے۔ جی ہاں جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے پاکستانیوں کی اکثریت ملک عزیز میں انقلاب کا خواب دیکھتی رہتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوتا۔اس کا حشر وہی ہوتا ہے جو علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خوابوں کا ہوا ہے۔پاکستان کا خاکہ،اسکے حصول کی جدوجہد،اس کا قیام یہ سب ان خوابوں کے حصے تھے مکمل خواب نہیں۔

پاکستان کے عوام توروٹی ، کپڑے اور مکان کے ساتھ ساتھ حقیقی جمہوریت ،عادلانہ نظام حکومت، قانون کی بالادستی اور حقوق کی برابری، قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر ملازمتوں کے حصول،ہنر مندی اور صلاحیت کی بناء پر یکساں ترقی کے مواقع،مقابلہ اور محنت کے حساب سے زراعت، تجارت، سیاحت،صحافت اور ثقافت کے میدانوں میںبرتری کی منازل کے خواب دیکھتے دیکھتے اپنی عمر گزار دیتے ہیں۔پھر وہ یہ خواب اپنی اولادوں کو منتقل کر کے اس ملک کی مٹی میںدفن ہو جاتے ہیں اور کچھ کو تو وہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ ہجرت پر مجبور ہوکر کسی اور دیس جا بستے ہیںاور واپسی کے خواب دیکھتے ہوئے کبھی تابوت میں واپس ہوتے ہیں اور کبھی پردیس کی مٹی میں ہی گم ہو جاتے ہیں۔

اب تک پاکستان میںکئی فوجی اور سیاسی حکمرانوں نے عوام کو جوخواب دکھائے،ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر پورا نہیں ہوا۔جزوی طور پر کامیابیاںان کا مقدربنیں۔ذوالفقار علی بھٹو کا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا خواب میاں نواز شریف کے دور حکومت میں پورا ہوا، اسلامی بلاک کا خواب ادھورا رہ گیا۔ایوب خان کا بنیادی جمہوریت کا خواب پورا تو ہوا مگر اسکی غلط تعبیر نے عوام کے خواب چکنا چور کر دئے۔ جنرل ضیاء الحق کا اسلامی نظام حکومت کا خواب پورا نہ ہوا،صرف شریعت کورٹ تک جا کر بات ختم ہوگئی۔بے نظیر بھٹو کے خوابوں کو انکے بابا کی طرح بڑی طاقتوں کی نظر لگ گئی اور ان دونوں کو یہ خواب دیکھنے کی سزا دی گئی۔پرویز مشرف کا صحافت کی آزادی کا خواب پورا ہوکر خود ان کے گلے پڑ گیااور کارگل پر قبضہ اور برتری کا خواب میاں نواز شریف نے بڑی طاقتوں سے معذرت کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔

آصف زرداری نے کئی وعدے پورے کئے،اسیطرح نواز شریف نے بھی،مگر حالات میںبنیادی تبدیلی نہ لاسکے،عوام کا خواب پورا نہ ہوا،
اب پاکستان کی دو اہم شخصیات نے پاکستان کے عوام کو انقلاب اور تبدیلی کے خواب دکھائے ہیں اور عوام نے اس پر ایک بار پھر لبیک کہا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ دونوں میں سے کون آخری وقت تک اس خواب کی تعبیر کے لئے ڈٹا رہتا ہے۔کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی آئندہ سیاسی،سماجی اور تاریخی حیثیت کے تعین کا سوال ہے۔انہیں ہر فیصلے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا ہوگا۔

ان میں سے ایک پاکستان تحریک انصاف کے سر براہ عمران خان ہیں،جو پہلی مرتبہ تبدیلی کا نعرہ لے کر سیاست میںتبدیلی کی بنیاد بنے۔ان کی موجودہ تحریک تبدیلی کے ساتھ ساتھ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہے۔تاہم وہ اسی نظام کے تحت تبدیلی چاہتے ہیں،اسلئے اسے انقلاب کی تشریح کے مطابق انقلابی تحریک نہیں کہا جا سکتا۔یہ ایک احتجاجی تحریک ضرور ہے،جو انکے بتائے ہوئے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی سے منسلک ہے۔ اگر حکومت انکی بات مان لیتی ہے توتحریک کا مقصد پورا ہو جائے گا۔تاہم وہ اس مرتبہ بھی اپنی تحریک کو علیحدہ چلانا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ بظاہر تو یہی ہے کہ انکے خیال میں ان کا موقف ڈاکٹر طاہر القادری سے بالکل مختلف ہے۔

وہ اس نظام کو ختم کرنے کے حق میں نہیںہو سکتے۔اول تو وہ خود ایک صوبے میں حکومت چلا رہے ہیں اور چلتی ہوئی حکومت کون چھوڑتا ہے۔دوسرے وہ اور انکے کئی نامور ساتھی یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ کسی بھی انقلابی تحریک کے نتیجہ میں ہونے والی تبدیلی کا سہرا کسی اور کے سر بندھے۔کیونکہ وہ ”تبدیلی” کے نعرہ کو صرف PTI اور عمران خان تک محدودرکھنا چاہتے ہیں۔جبکہ پاکستان کی کئی اور پارٹیاں بشمولMQM, APML, PAP بالترتیب الطاف حسین،پرویز مشرف اور شیخ رشیدکی قیادت میں ”تبدیلی” کے نعرے بلند کرتی رہی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ١١ مئی کو اپنا وزن کسی ایک کے پلڑے میں ڈالتی ہیں یا سیاسی مصلحت کے تحت دونوں جگہ شرکت کر کے اپنے تعلقات برقرار رکھتی یا بہتر بناتی ہیں۔

جہاں تک پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک انقلاب کا تعلق ہے،ان کے خطابات اور اعلانات کی روشنی میں یہ اس فرسودہ اور کرپٹ نظام کے خلاف اعلان جنگ ہے،جس میں ایک فریق کی فتح تک یہ جنگ جاری رہتی ہے۔اس مرتبہ انہوں نے خود صلح صفائی کے تمام راستے بند کردئے ہیں۔لہٰذابظاہر تو یہی لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب قوم کوحقیقی انقلاب کے راستے پر لے جانا چاہتے ہیں۔تاہم انہوں نے فی الحال اس تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے اس میں شرکت کا نہیں۔وہ قائد انقلاب کے طور پراس وقت ہی سامنے آئیں گے جب وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر موسم کی صعوبتیں ،حکومت کی زیادتیاں اورمخالفین کی باتیںبرداشت کر رہے ہوں گے۔ان کے پیروکار تو ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں،مگر انقلاب کی کامیابی کے لئے لازم ہے کہ انقلاب کا ہر سپاہی، ہر کارکن، ہر متوالا قائد انقلاب کے پیچھے ہو۔اس کی باتوں پر یقین رکھتا ہو، اس کے احکامات کی پیروی کرے، اس کے ان تمام فیصلوں کو قبول کرے ،جو انقلاب کی منزل آسان بناتے ہوں،جو امن کی راہ پر چلتے ہوئے انقلابی تبدیلی کا باعث بنیں،جو عدم تشدد پر کاربند رہتے ہوئے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوں۔یہ وقت گھر میں بیٹھنے کا نہیں،طاہر القادری کی آواز میں آواز ملانے کا ہے۔اسکے ساتھی بن کر کھڑے ہونے کا ہے،اس کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا ہے۔انقلاب صرف سوچنے سے نہیں عمل کرنے سے آیا کرتے ہیں۔ انقلاب کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں مگر مقاصد انقلابی رہتے ہیں۔

Afghanistan
Afghanistan

یہ نہ فرانس ہے، نہ روس، نہ مصر ہے ،نہ لیبیا،نہ ایران ہے، نہ ترکی،نہ یوگوسلاویہ ہے، نہ بوزنیا اور نہ ہی افغانستان۔ یہ مملکت خداداد پاکستان ہے،اس کا نقلاب بھی پاکستانی طریقے سے ہی آئے گا اور وہ راستہ عوام کو ڈاکٹر طاہر القادری نے بتا دیا ہے،جس میں نہ کوئی پتہ ٹوٹے گا اور نہ کوئی گملہ،نہ کسی کے کاروبار کا نقصان ہوگا، نہ املاک اور ٹرانسپورٹ کا۔یہ وہ پرامن انقلاب ہے جو عوام کی طاقت سے آئے گا۔لہٰذا اسے کامیاب بنانے کے لئے عوام کی ضرورت ہوگی۔اگر عوام اس وقت بھی اپنی حالت بدلنے کے لئے میدان میں نہیں آئے تو انکی حالت کبھی نہیں بدلے گی۔عوام کو اپنی تمام تر سیاسی،مذہبی،مسلکی،قومیتی اور گروہی وابستگیاں بھلا کرپاکستان میں عوامی حکومت کے قیام کی راہ استوار کرنے کے لئے اس انقلاب کا ساتھ دینا ہوگا۔فارسی کی مثال ہے ” آزمودہ را آزمودن جہل است” یعنی آزمائے ہوئوں کو آزمانا جہالت ہے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے منتخب پارلیمان کو ربڑ اسٹامپ قرار دیتے ہوئے استعفےٰ دے کر اور پھر طویل عرصے تک تخلیقی اور رفاہی کاموں میں مصروف رہ کر ثابت کیا تھا کہ وہ تخلیق اور رفاہ عامہ کواسمبلی سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے طویل عرصے کی غیر حاضری کے بعد اسلام آباد تک لانگ مارچ کر کے دوبارہ سیاست میں نام پیدا کیا ہے۔گو اس لانگ مارچ کے نتائج وہ نہیں نکلے جن کی عوام کو توقع تھی،وہ بددل بھی ہوئے،ناامید بھی،مگر ان کا اعتماد ابھی مجروح نہیں ہوا،جس کا اظہار ١١ مئی کو ہوگا۔

پچھلی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو دھوکہ دیا گیا یا انہوں نے دھوکہ کھایا،اس پر بحث ہو سکتی ہے۔مگر یہ طے شدہ بات ہے کہ ان کی تمام باتیں سونے میں تولنے کی قابل تھیں،وہ سچی ثابت ہوئیں،دشمنوں کو بھی ماننا پڑاکہ طاہر القادری نے آئینی بات کی تھی۔یہ اور بات ہے کہ اس وقت بکا ہوا میڈیا، تنخواہ دار اور لفافہ اینکر،جانبدار سیاسی تجزیہ نگار،نام نہاد کالم نگار،نام نہاد آزاد عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت پنجے جھاڑ کر انکے پیچھے پڑ گئی۔انکامذاق اڑایا گیا،انہیںغیرمحب وطن غیر ملکی قرار دیا گیا،انکی پٹیشن سنی ہی نہیں گئی۔اس سے ایک تو ڈاکٹر صاحب کی ان تمام اداروں کے بارے میں خوش فہمی ختم ہوئی اور دوسرے مجھ جیسے عوام کو، جو ان ملک دشمن عناصر کی چالیں سمجھ رہا تھا،ان سے مزید ہمدردی پیدا ہوئی۔

آج بھی یہ منافق اینکر،تیسرے درجہ کے سیاستدان،چھاج کے ساتھ چھلنی کا درجہ رکھنے والے پارٹی عہدیدار اور وزرائ،اپنے تئیں عقل کل سمجھنے والے کالم و تجزیہ نگار،پیسوں کی زبان بولنے والے صحافی ڈاکٹر طاہرالقادری کو فوج اور بیرونی طاقتوں کا ایجنٹ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی دل و جان سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہیں اور اس انقلاب کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔اللہ نے توفیق اور وقت دیا تو ہم اور ہمارے ساتھی ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہم ان کے سامنے سچائی کے اظہار سے نہیں گبھراتے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوںکہ اس مرتبہ ہم اپنے قائدین اور رہنمائوں کو آخری فیصلے تک ہلنے نہیں دیں گے۔ہم ان کے لئے خون کی بازی لگانے کو تیار ہیں،مگر دم آخر ان کا چہرہ خود پر جھکا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں،ان کے ہاتھوں لحد میں اترنا چاہتے ہیں۔ یہ جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے۔

ابھی تو اس کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔اصل معرکہ تو جب ہوگا جب قائد انقلاب اس قوم کی قیادت کے لئے خود میدان میں اتریں گے۔اس وقت میں یہ کہتا ہوا ان کے ہمراہ ہوں گا،انشاللہ:
میں انقلاب کی خاطر نکل کے دیکھوں گا ٭ تو رہنما ہے ترے ساتھ چل کے دیکھوں گا
میں کام آگیا انجم تو یاد رکھنا مجھے ٭ اگر میں زندہ رہا خواب کل کے دیکھوں گا

Shakeel Chughtai
Shakeel Chughtai
Share this:
Tags:
dreams Fate May needs انقلاب خواب خوابوں ضرورت قیام مئی
Faisalabad
Previous Post فیصل آباد میں نویں جماعت کا طالب علم آپریشن کے بعد لڑکی بن گیا
Next Post خیبرپختونخوا حکومت کا پشاور ایئرپورٹ پر پولیو کاؤنٹر قائم کرنے کا فیصلہ
Airport

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close