
کابل (جیوڈیسک) سوانح عمری کے مطابق ملا عمر کی پیدائش 1960ء میں ملک کے جنوبی صوبے قندھار کے ضلع خاریز کے چاہِ ہمت نامی گائوں میں ہوئی تھی۔ تحریر میں طالبان اپنے سپریم لیڈر کا ذکر مُلا محمد عمر ’مجاہد‘ کے نام سے کرتے ہیں اور اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہوتی قبیلے کی شاخ تومزئی سے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان کے والد مولوی غلام نبی ایک معزز عالم اور سماجی شخصیت تھے اور مُلا عمر کی پیدائش کے پانچ سال بعد ہی وہ وفات پا گئے تھے جس کے بعد ان کا خاندان صوبہ ارزگان منتقل ہو گیا تھا۔ اس سوانح میں کہا گیا ہے کہ سوویت فوجوں کے افغانستان پر حملے کے بعد ملا عمر مذہبی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے مدرسے میں جاری تعلیم چھوڑ کر جہادی بن گئے تھے۔
تحریر کے مطابق 1983ء سے 1991ء کے درمیان فوجی کارروائیوں میں روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے مُلا عمر چار بار زخمی ہوئے اور ان کی دائیں آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔ 1994ء میں ملا عمر نے جنگی سرداروں کے درمیان قبائلی لڑائی سے نمٹنے کے لئے مجاہدین کی قیادت کی جس کے بعد 1992ء میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد 1996ء میں انہیں ’امیر المومنین‘ کا خطاب دیا گیا اور وہ طالبان کے سپریم لیڈر بن گئے۔ سوانح میں کہا گیا ہے کہ کابل پر قبضہ کرنے کے بعد مُلا عمر نے وہاں اسلامی امارات آف افغانستان کی بنیاد رکھی جس کے خلاف شرعی قانون کو برداشت نہ کر پانے والی دنیا کی مغرور کافر قوتوں نے مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر دی۔
ملا عمر کی ’کرشماتی شخصیت‘ کے عنوان والے حصے میں کہا گیا ہے کہ مُلا عمر متحمل مزاج کے ہیں اور انھیں جلد غصہ نہیں آتا اور یہ کہ وہ ملنسار ہیں اور کبھی خود کو اپنے ساتھیوں سے بڑا نہیں سمجھتے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے پاس نہ تو گھر ہے، نہ ہی کوئی غیر ملکی بینک اکائونٹ۔ سوانح عمری میں موجودہ حالات میں ان کی روزانہ سرگرمیاں کے عنوان سے بھی ایک حصہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سنگین حالات میں دشمن مسلسل ان پر نظر رکھ رہے ہیں لیکن ان کے معمول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔
پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل یہ سوانح عمری مُلا عمر کے افغان طالبان کے سپریم کمانڈر کے طور 19 سال پورے ہونے کے موقع پر شائع کی گئی ہے۔ اس تحریر کے مطابق مُلا عمر کا پسندیدہ ہتھیار آر پی جی 7 ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک عام زندگی جیتے ہیں اور کمال کی حسِ مزاح کے مالک ہیں۔
