Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

افغانستان: تحریک اسلامی اور کمیونسٹوں کا تصادم (٢)

October 21, 2021 0 1 min read
Afghanistan
Afghanistan
Afghanistan

تحریر : میر افسر امان

بلکہ سردار دائود کے دوسرے دورہ کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان پیش رفت بھی ہوئی۔ اس دوران لاہور کے شالامار باغ میں پاکستان کے ایک سیاستدان نے سردار دائو سے کہا کہ کیا آپ افغانستان اورپاکستان کے درمیان کنفیڈیشن بنانے کے حق میں ہیں؟۔ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ایسے فیصلوں سے پہلے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ایک خاص ماحول پیدا کرنے کے بعد اس قسم کے اقدامات کامیاب ہوا کرتے ہیں۔مطلب کی افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلوقات میں مثبت سوچ پیدا ہورہی تھی کہ عبدلقادر ڈگروال کی قیادت میں انقلاب بر پاہ کرکے سردار دائود کو ہلاک کر دیا گیا۔اس دوران پیپلز پارٹی کے اخبار” مساوات” نے کیمونسٹ تبدیلی کے حق میں خبر شائع کی تھی۔ جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین دوالفقار علی بھٹو نے افغان مجائدین کی مدد کی تھی۔بھٹو کی پھانسی کے بعد جب بیگم نصرت بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرمین سربرای بنی تو افغان مہاجرین کو بھگوڑے کہا تھا اور روس کی مکمل حمایت کی تھی۔روس نے افغانستان پر پاکستان کے حملے کا ہوا کھڑا کیے رکھا۔ ایک وقت حفیظ اللہ امین نے کہا تھا کہ اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم روس سے مدد کی اپیل کریں گے۔اس خواہش کو روس نے پسند کیا اور ٢٨ دسمبر ١٩٧٩ء کو پاکستان کے وزیرخارجہ آغا شاہی کے دورہ کابل سے بہت ہی پہلے بڑے پیمانے پر افغانستان میں فوجیں داخل کر دیں۔پاکستان نے روس کی اس کاروائی پر آغا شاہی کادورہ منسوخ کر دیا۔پھر روس نے حفیظ اللہ پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر اقتدار سے ہٹا دیا۔ اسی الزام میں گولی مار کر ہلاک کر دیا اور ببرک کارمل کو افغانستان کا اقتدار دے دیا۔ ببرک کارمل وہ شخص ہے کہ جب وہ کیمونسٹ بنا تو اسے اپنے خاندان نے قبول نہیں کیا تھا۔ ببرک کرمل کے والد نے اسے از خود عدالت سے رجوع کر کے اس کو عاق کر دیا تھا۔اس بات معلوم ہوتا ہے کہ افغان معاشرے میں کیمونسٹوں کو اتنی آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا۔

اس سوچ سے روس کی خواہش پوری ہو گئی ۔ اس کو روس کے صدر برزنیف کے خارجہ پالیسی کے ترجمان یہ کہتے ہوئے تصدیق کر دی کہ افغانستان پر روسی قبضہ کا اقدام سلطنت روس کو جنوبی سرحدوںتک بڑھانا ناگزیر تھا۔روس کے صدر نے بھی بیان دیا تھا، ہم افغانستان میں اس وقت تک رہیں جب تک ہماری سرحدیں محفوظ نہیں ہو جاتیں ۔ یہ اسی قسم کا بیا ن تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان کے خلاف پاکستان کا مصنوی قسم کا واویلہ پیدا کیا گیا تھا۔اب ببرک کارمل کی نام نہاد حکومت تھی اور روس خود مجائدین سے لڑ رہا تھا ۔ہر طرف مجائدین ہی مجائدین نظر آتے تھے۔ہر طرف روس کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور افغان کے مجائدین کی طرف سے ہڑتالوں کی اپلیں، شب ناموں کی تقسیم اور دیگر احتجاجی اقدامات تھے۔ مزاحمت کے نعرے بلند ہوتے تھے۔ روسی فوج جلوسوں پر فائرنگ کرتی رکاوٹیں گھڑی کرتی۔اس وقت کے افغانیوں کے مطابق مزاحمت جاری رہے گے جب تک اس ملک میںکیمونزم کی جگہ اللہ کا نظام قائم نہیں ہو جاتا۔

ایک مغربی اخبار نویس مارسس ایلائسن نے جنوری ١٩٨٠ء میں بازار میں ایک افغان سے ملاقات کی۔ چائے کی چسکی لگاتے ہوئے اس نے اس سے پوچھا کہ لڑائی کیا نیا رخ اختیار کیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ برف سے اٹے ہوئے بازار میں افغانی نے بتایاکہ صبر کرو برف پگلنے دو، یہ دس سال کابچا بھی جنگ میںشریک ہو جائے گا۔افغانستان کے گھر گھر میںلڑائی ہو گی۔ افغان عوام کا یہ دعویٰ کچی مبالغہ نہیں۔نہ ہی بہادری اورزعم کی نشاندہی کرتاہے۔ بلکہ یہ ایک حقیت ہے۔اس کا اعتراف لندن آبزرور کے پریم بھاٹیہ نے افغان مجائدین کی تین روزہ قید کے ددران کیا۔ پریم بھاٹیہ کے بقول” افغان انیسویں صدی کی ازکار فتہ بندوقوں سے روس کے سپاہیوں ، افسروں، ٹینکوں ،آرمڈ گاڑیوں ، آواز سے زیادہ تیز رفتار بمباروں، توپ بردار ہیلی کاپٹروں، راکٹوں ، نیپام بموں، اور زہریلی گیس کے بموں، کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں۔ قندھار کا گورنر اپنا محل چھوڑ کر قندار ایئر پورٹ پر روسیوں کی کڑی حفاظت میں پناہ گیزن ہو چکا ہے”
نیویارک کے نامہ نگار نے ٢٩جنوری ١٩٨٠ء کوتحریر کیا”ببرک کارمل حکومت کے کام کرنے کی کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔کارمل کابل کی جنوبی حصہ میں واقع گرمائی محل میں مقیم ہے۔ جس کے گرد روسیوں کی بہت بڑی جمعیت ہر وقت ہرقسم کے اسلحہ سے لیس حفاظت پر مامور رہتی ہے۔ ببرک کارمل کے بیانات براستہ ماسکو نشر ہوتے ہیں۔ ببرکارمل نے کسی نئے پروگرام کا اعلان نہیں کیا۔ اور نہ ہی کابل کے جنوبی حصہ میں اپنی جلاوطنی ختم کر کے پیپلز پیلس میں منتقل ہونے کے کسی ارادہ کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ پیپلز پیلس کی حفاظت کے لیے چاروں طرف زمین سے فضا میںبمار کرنے والے میزائل نصب کیے جا چکے ہیں۔

افغان پیدائشی طور پر جنگجو ہیں۔افغانیوں نے پونے دو سال کے اندر جو صورت حال پیدا کر دی تھی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان عوام کا ضمیرمردہ ہوا نہ روح کچلی جا سکی۔ افغانیوں ننے جنگی مہارت رکھنے والے اعلی دماغوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ افغانستان عملاً روس کے لیے ویت نام بن چکا ہے۔

افغانستان کے عوام ایسے معاشرے کی پیداوار ہیں جہاں فرد کی آزادی کا تصور اتنا راسخ اور پختہ ہے کہ اسے دنیا کے کسی ترقی یافتہ معاشرہ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں عام مارنا اور مرنازندگی کے روز مرّہ کا معمول ہے۔ ہر آدمی کے پاس اسلحہ ہے اور آزادی کا تحفظ بھی اپنے طاقت پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ایک اور وجہ کہ کیمونسٹ انقلاب سے پہلے افغان حکومت نے اپنے بیس سال کے شہریوں کے لیے فوجی ملازت لازمی کر رکھی تھی۔وہ مذید بیس سال تک ”ریزر و فوجی” کی حیثیت میں رہتے تھے۔اس سے انہیں اسلحہ کے استعمال کی تربیت مل جاتی تھی۔افغان دین اور غیرت پر حملہ معاف نہیں کرتے۔

کیمونسٹوں نے ایسے بھیانک اور نا قابل جراہم کیے۔ لہٰذا افغان اپنی اس جنگ کو بھی برطانوی استعمار لے خلاف تین جنگوں یا روسی زائوں کے خلاف پہلی جنگ کی ماند منطقی انجام تک پہنچانے سے پہلے سپر ڈال دیںگے۔ ایں خیال و محال است و جنوں!

مظالم کی کہانی یہ ہے کہ ملاشور بازار جو افغانستان کا مشہور دینی خاندان ہے۔ اس خاندان کا ایک فرد ایک فرزند محمد ابراھیم مجددی بیان کرتے ہیں کہ رات کے وقت ان کے گھر کوگھیر لیا گیا ۔سیکڑوں فوجی ان کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔ فوج دروازے توڑ کر ان کے گھر داخل ہوئے۔ مرودوں عورتوں اوربچوں سب کو گرفتار کر لیا۔ کپڑے تک تبدیل کرنے کی مہلت نہ دی اور جیل میں بند کر دیا۔ اس سے آگے کیا ہو ا غیرت کی وجہ سے وہ بتا نہیں رہے تھے۔افغانستان میںترکئی حکومت نے پہلی دفعہ عورتوں کی گرفتار شروع کی۔ایک افغانی نے بتایا کی ترکئی حکومت میں نابالغ لڑکیوں قید کی گئی جس میں ایک بھی پتہ نہیں چلا کہ کدھر گئیں۔ مرووں کو جب جیل میں قتل کر دیا جاتا تو حکام کہتے کہ وہ پاکستان فرار ہو گیا۔ ایسے میں جب عورتیں اپنی مرودں کی تلاش میں جیل حکام سے رابطے کرتیں، تو عورتوں سے بے شرم کیمونسٹ کہتے کہ تمھارے مرد ایران اور پاکستان بھاگ گئے۔ تمھیں صرف مرد ضرورت ہے تو ہم فراہم کر دیتے ہیں۔

ترکئی نے ایک ایسی حر کت کی کہ ڈیڑھ ہزار افغان لڑکیوں کو جمع کیا اور انہیں روس بیھجوا دیا۔ والدین نے احتجاج کیا تو ان پر تشدد کیا گیا۔ اس حلات میں کیمونسٹوں کے خلاف نفر ت میں اضافہ ہوا۔افغان فوج کے لوگ فوج سے بھاگ کر مجائدین کے ساتھ شامل ہو گئے۔ تین سال تک روسی صرف چھاونیوں تک محدود رہے۔فرانس کے عظیم دانشور فلسفی ژان ساتر نے ٢٥ جنوری ١٩٨٠ء کو کہا تھا کہ ” سویٹ یونین نے ایک چھوٹے ملک افغانستان کے خلاف کاروائی کی ہے جو پہلے ہی اس کے خلاف تھا۔اس لیے سویٹ یونین کے خلاف تادیبی اقدام کیا جانا چاہیے” جبکہ افغان عوام روس کو شکست دینے میں لگے ہوئے ہیں۔

فرانس کے ایک اور دانشور ساکالر الیگزنڈر بینگسن نے ٢٣ مارچ ١٩٨١ء کو افغانستان میں روس کی جارحیت اور افغان مجائدین کی جد و جہد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا”روس کا افغانستان پر حملہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ کیمونسٹوں نے ١٩٧٨ء میں افغانستان پر حکومت قائم کرنے کے بعد افغان عوام کو اپنے خلاف کر لیا ہے۔پچھلے تین سالوں میںافغان حریت پسند مضبوط ہوئے ہیں ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی روس افغانستان میں قدم جمانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔پروفیسربینگسن کہتے ہیں کہ میں یہ بات سمجھ نہیں سکا کہ روس نے افغانستان کے خلاف جارحیت کا رتکاب کیوں کیا؟ اس کے پیچھے کون سا فوری یا مستقل کا مقصد پوشیدہ تھا۔ میں اس کسی بھی دوسرے مسئلہ کے ساتھ متعلق نہیں کر سکتا میں صرف یہی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ روس کا آپریشن افغانستان میں کیوں کامیاب نہیں ہوا”(باقی آیندہ ان شاء اللہ)

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
Afghan refugees afghanistan Mir Afsar Aman pakistan people politicians russia افغان مہاجرین افغانستان پاکستان روس سیاستدان عوام
Terrorism
Previous Post دہشت گردی کا منطقی انجام
Next Post نارکوٹکس کنٹرول بیورو کا شاہ رخ خان کے گھر پر چھاپہ
Shah Rukh Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close