
لندن (جیوڈیسک) افغانستان کے حریف صدارتی امیدواروں نے لندن میں نیٹو اجلاس کے لیڈروں کو ایک پیغام میں اطلاع دی ہے کہ وہ جلد یونٹی حکومت قائم کر کے غیر ملکی فوجوں کے افغانستان میں مزید قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔
افغانستان میں صدارتی الیکشن کے بعد ووٹوں کی گنتی پر پیدا تعطل ابھی تک قائم ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی کوششوں سے طے پانے والی ڈیل کے بعد بھی یونٹی حکومت قائم نہیں ہو سکی۔ نیٹو سمٹ پر صدارتی امیدواروں نے ڈیل پر جلد عمل کا کہا ہے۔
اِس معاہدے پر منصب صدارت سے جلد فارغ ہونے والے صدر حامد کرزئی نے دستخط کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق نیٹو کی رکن ریاستوں کے لیڈروں کے لئے پیغام سے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخابات کے بعد پیدا شدہ ڈیڈلاک پر پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اِس پیغام میں حریف صدارتی امیدواروں نے نیٹو اتحاد کے رہنماوں پر واضح کیا کہ وہ غیر ملکی فوجوں کے افغانستان میں مزید قیام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اِس پر وہ حکومت سازی کے فوری بعد دستخط کر دیں گے۔
اس معاہدے پر دستخط کے بعد 2014 کے بعد بھی نیٹو کی جانب سے افغان فوج اور پولیس کی تربیت اور مشاورت کا عمل جاری رکھا جا سکے گا۔
