
کابل (جیوڈیسک) افغان طالبان نے خود کش حملے کے لیے 10 سالہ بچی کو بھیجنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے خلاف حکومتی پروپیگنڈا ہے۔
طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا کہ ہلمند میں پولیس پر خود کش حملے کے لیے 10 سالہ بچی کو نہیں بھیجا، حملے کے لیے لڑکیوں کو استعمال کرنا نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ افغان ثقافت اور روایات کے بھی خلاف ہے۔
پولیس نے لڑکی کے والد کو گرفتار کر کے بھائی کی تلاش شروع کر دی۔ 2 روز قبل گرفتار کی گئی بچی کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی طالبان کمانڈر ہے اور اسی نے دھماکے کے لئے اسے بھیجا تھا۔
