Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

افغان ہندوستان کے حکمران (٢)

October 30, 2021 0 1 min read
Afghans
Afghans
Afghans

تحریر : میر افسر امان

سلطان محمود تغلق کی موت کے بعد ١٤٥١ء میں لاہور اور سرہند کے پٹھان صوبے دار بہلول لودھی نے دہلی پر قبضہ کر کے ایک بار پھر مضبوط کومت قائم کر دی۔ اس نے جونپور بھی فتح کر لیا یہاں ایک آزاد حکومت بن گئی تھی۔گو کہ یہ ایک چھوٹی حکومت تھی۔لودھی خاندان میں سکندر لودھی جو بہلول لودھی کا بیٹا تھا،نے زیادہ شہرت حاصل کی۔آگرہ شہر کی بنیاد اس نے ڈالی تھی۔اس زمانے میں آگرہ کا نام سکندر آباد تھا۔شہر آباد ہونے کے بعد سکندرلودھی نے دہلی کے بجائے آگرہ کو اپنا دالحکومت بنایا۔وہ ایک سادہ بادشاہ تھا شاہی لباس میں راحت محسوس نہیں کرتا تھا۔ہر وقت رعایا کے ترقی و تربیت میں مصروف رہتا تھا۔جاڑے میں غریبوں میں کپڑے اور شالیں تقسیم کرتا تھا۔ہر چھ ماہ بعد محتاجوں کی فہرست اس کے سامنے پیش کی جاتی تھی جن کو وہ کھانا کھلاتا تھا۔ اس نے غربت ختم کرنے کے ہر وہ طریقے اختیار کیے جو دہلی کے بادشاہوں کا وطیرہ تھا۔سکندر لودھی میںایک واقعہ سے ایسا کہ معلوم ہوتا ہے نیکی اس کے اندر رچی بسی تھی۔ اپنے بھائی باریک شاہ سے لڑائی کر رہا تھا کہ ایک فقیر اس سے ملا اورکہاکہ اس جنگ میں تمھاری فتح ہو گی۔ سنکدر لودھی نے فقیر کا ہاتھ چھڑک کر کہا کہ جب دو مسلمانوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہو تو ایک حکم نہیں لگانا چاہیے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جس میں اسلام کی خیر ہو وہ کام ہو۔ علماء کی قدر کرتا تھا شہریعت کے فیصلوں کا پابند تھا۔سکندر لودھی کے زمانے میںہندوئوں نے فارسی زبان پڑھناشروع کی تھی۔سکندر کے بعد اس کا بیٹا ابراھیم لودھی تخت پر بیٹھا ۔مگر یہ نااہل حکمران تھا۔ ١٥٢٦ء میں بابر نے کابل سے آکر ابرھیم لودھی کو پانی پت کے میدان میں شکست دی۔

سلاطین دہلی اور اس دور میں اسلامی تہذیب شہر شہر پہنچ گئی۔سری نگر،جونپور،ٹھٹھہ احمد آباد مانڈوو آگرہ، بیدر، بیجاپور اور احمد نگر کے شہر وجود میں آئے۔ یہ شہر علم و ادب کا مرکز بن گئے۔ فن تعمیر نے بڑی ترقی کی۔ حیدر آباد میں چار میناراور لکھ مسجد بنی۔ بیدر میں محمدود گاوان کا مدرسہ تعمیر ہوا جوابھی بھی موجود ہے۔ بیجا پور میں ابراہیم عادل شاہ کا مقبرہ بنا۔ جس کا گنبد دنیا کا سب سے بڑا گنبد ہے۔ ٹھٹھہ، مانڈو، لکھنوتی میں بھی علیشان عمارتیں بنی۔اس دور میں بزرگان دین میں سید محمود گیسو داراز قابل ذکر ہے۔ یہ ایک سو پچاس سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔گجرات میں علی بن احمد مہائمی کا نام قابل ذکر ہے۔ان کی عربی میں لکھی ہوئی تفسیر ”تبصر الرحمان”مستند تفاسیر میں شامل ہوتی ہے۔ گجرات کی علمی شخصیت شاہ وجیہ الدین گجراتی نے تین سو کے قریب کتابیں اور رسالے لکھے۔ گجرات کے محمد طاہر پٹنی نے اسماء ا لرجال پرکتابیں لکھی۔ جس میں”مجمع بجار الانوار” سب سے مشہور ہے۔ یہ کتاب حدیث کی مستند ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے محمد طاہر پٹنی پوری عرب دنیا میںجانے جاتے ہیں۔جونپور کی علماء میں قاضی شہاب دولت آبادی،ملا محمد جونپوری، برہانپور کے علی متقی اوردہلی کے علماء میں شیخ عبداللہ تلنبی کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس دور کے بڑے مورخ ہندو شاہ فرشتہ جس کا پورا نام ملا قاسم ہندوشاہ ہے اور تخلص فرشتہ ہے۔ وہ اصلاً ایرانی ہے اور بچپن ہی میں احمد نگر آ گیا تھا۔اس نے تاریخ فرشتہ ،ابرہیم عادل شاہ ثانی کے حکم پر لکھی۔ ہندوستان کی بہترین تاریخوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میںمحمود غزنوی سے مغل بادشاہ اکبر کی وفات تک پورے ہندوستان کی صوبائی حکومتوںکی تاریخ بیان گئی ہے۔سلطنت دہلی کے زوال کے بعد ١٤٠٠ء سے ١٦٠٠ء تک کا یہ عرصہ تقریباً دو سو سال پر محیط ہے۔اس کے بعد بابر نے سلطنت مغلیہ قائم کی۔ ہمایوں کو شکست دینے کے بعد شیر شاہ سوری نے پانچ سال تک حکومت کی۔

شیر شاہ سوری ،افغانوں کے ہندوستان کے حکمرانوں میں ایک مسلم بہادر جرنیلوں میں سے ایک بہادر مسلم جرنیل شیر شاہ سوری بھی گزرا ہے۔ بقول اُس کے اُسے بادشاہت اُس وقت ملی جب اُس کی زندگی کی شام ہو رہی تھی۔ گو کہ اسے ہندوستان پر صرف پانچ سال حکومت کرنے کا موقعہ ملا مگر اس پانچ سالہ دور حکومت میں اس نے دہلی پر حکمرانی کے ساتھ ساتھ رفائہ عامہ کے کئے کام بھی کیے۔ اس کے سب سے مشہور رفائہ عامہ کے کاموں میںپشاور سے کلکتہ تک سڑک اعظم( گرینڈ ٹرنک روڈ،جی ٹی روڈ) ہے۔ یہ پاک و ہند میں اپنی مثال آپ ہے۔اتنے قلیل دور حکمرانی میں اتنی بڑی سڑک تعمیرکرنا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اس سڑک کے ہر کوس پر ایک سرائے، ایک کنواں اور ایک پختہ مسجد ہوتی تھی جس میں امام اور موذن تعینات تھا ۔ جن کو شاہی خزانے سے وظیفے ملتے تھے۔ مسافروں کے آرام کے لیے سرائوں کے دو دروازے ہوتے تھے ایک مسلمانوں اور دوسرا ہندوئوں کے لئے مخصوص تھے۔ پینے کے پانی کے لیے سڑک کے کنارے باولیاں( کنویں) تعمیر کیے گئے جس سے مسافر پینے کا پانی حاصل کرتے تھے۔ ان میں کچھ باولیاں ا ب بھی جی ٹی روڈ کے کنارے پر موجود ہیں۔ان باولیوں میں نیچے اُتر کر پانی حاصل کرنے کے لیے سیڑیاں بنائی تھی۔ راقم نے یہ کنوئیں واہ کینٹ میںاور جی ٹی روڈ سے پنجاب کے آخری شہرحضرو مورٹتے

ہوئے ہٹیاں کے مقام پر دیکھی ہیں۔سڑک کے دونوں کناروں پر پھل دار درخت لگائے گئے۔ شیرشاہ سوری کے رفائہ عامہ کے کارناموں میں سے ایک اور کارنامہ ڈاک کا نظام ہے۔ ڈاک کا نظام اس طرح رائج کیا گیا کہ سڑک کے کنارے چوکیاں بنائی گئی تھی۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار ڈاکیا، ڈاک کا تھیلاایک چوکی سے دوسری چوکی تک پہنچاتا تھا اگلی چوکی پر تیار گھڑا گھوڑا اس ڈاک کے تھیلے کو اگلے چوکی تک پہنچاتا تھا۔اس طرح ڈاک آخری منزل تک قلیل وقت میں پہنچ جاتی تھی۔ شیر شاہ سوری کا اقتدار میں آنے کی روداد کچھ اس طرح ہے۔ اس کا نام جو اس کے والدین نے رکھا تھا وہ فریدخان تھا۔شیرشاہ ١٤٨٦ء میں پیدا ہوا اور١٥٤٥ء میں حادثاتی طور پرفوت ہوا۔بہادر سپاہی ہونے کی وجہ سے اس نے مغل بادشاہ ظہرالدین بابر تک رسائی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد پٹنہ کے حاکم کی فوج میںملازم ہو گیا اور جرنل کے عہدے تک پہنچ گیا۔ پٹنہ کے حاکم کی موت کے بعد اس کا جانشین بنا ۔پھر پٹنہ کے حاکم کی بیوی کا انتقال ہوا تو پٹنہ کا حاکم بن گیا۔مغل بادشاہ بابر شراب کا رسیا تھا۔

حکومت کے تمام انتظامات اس کے وزیر چلاتے تھے جور شوت خور تھے۔ اس کی حکومت کمزور ہو رہی تھی کہ اس کا بیٹا نصیر الدین ہمایوں تخت پر بیٹھا ۔شیر شاہ سوری نے اس سے لڑ کر مغل بادشاہت کا خاتمہ کر کے دہلی کا حکمران بن گیا۔ ہمایوں شکست کے بعد سندھ کے راستے ایران بھاگ گیا۔ شیر شاہ سوری نے پنجاب میں سلطان پور کے مقام پر مغلوں کو فوجی کمک پہنچانے والے پٹھوار کے سلطان سارنگ اور گکھڑوں کے ساتھ جنگ کی ۔ان کو شکست دینے کے بعد روات کے مقام پر فوجی چوکی بنائی۔گکھڑوں، جن پر شہاب الدین غوری کو گائوں دھمیک، سوہاوہ جہلم کے مقام پر عشاء کی نماز ادا کرتے ہوئے شہید کرنے کا الزام ہے۔ملت اسلامیہ کی مختصرتاریخ میں شہاب الدین کو ایک اسمٰعیلی نے فدائی حملہ کر کے شہید کیا تھا کیونکہ شہاب الدین نے اوچھ اور ملتان کی اسٰمٰعیلی حکومت کو ختم کیا تھا۔ ممکنہ طور پر ہمایوں کی ایران سے واپسی اور مغل سلطنت حاصل کرنے کی کوشش میں مغلوں کے ساتھ پرانے تعلوقات اور جنگ جُو علاقے میں رہنے والے گکھڑوں کی سرکوبی اور اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی غرض اور اس خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے شیر شاہ سوری نے جہلم کے قریب دریائے سندھ اور جہلم کے درمیان ناقابل تسغیر قلعہ تعمیر کرنے کے لیے اپنے وزیر تعمیرات شاہو سلطانی کو تعینات کیا۔ شاہو سلطانی نے جی ٹی روڈ پر واقع منڈی شہر جی ٹی روڈ جس کو، اب روہتاس کے نام سے مو سوم کیا جاتا ہے نالہ کھان کے کنارے جگہ منتخب کر کے پٹھوار کے گکھڑوں کی سرکوبی کے لیے قلعہ روہتاس تعمیر کیا۔ اس کی تعمیر میں بیک وقت تین لاکھ مزدروں نے حصہ لیا۔اس کی تعمیر پر اس وقت اخراجات ایک ارب اکیس کروڑ پچھتر ہزار روپے ہوئے۔

روات قلعہ آٹھ سال کی مدت میں تعمیر ہوا۔قلعے کے ابتدائی حصہ میں شاہی مسجد،شاہی محلات، مان سنگھ محل، رانی محل، لنگر خوانی،پھانسی خانہ اور١٢ دروازے بنائے گئے۔تعمیر شروع کرنے کے وقت اسکارقبہ ١٣٠ ایکڑ زمین رقبہ پر محیط تھا۔ بعد میں شیر شاہ کے حکم سے اس کے رقبے میں توسیع کر دی گئی اور قلعہ کا کل رقبہ ٣٠٠ ایکڑپر محیط کر دیاگیا۔قلعہ میں تین پوشیدہ دروازے بھی بنائے گئے۔ شیشی دروازے کے اوپر بنائے گئے برج میں اندرونی حصہ پر کلمہ شہادت اور آیات کرسی تحریر ہے۔ دوسرے دروازوں کے اندر درود شریف ،اللہ اور رسولۖ کے باری باری نام تحریر ہیںجو آج بھی شیر شاہ سوری کی اسلام پسندی کا نادر نمونہ پیش کر رہی ہے۔قلعے کی وسیع بیرونی دیوار کے اندرون حصہ پر چلنے کے لیے راستہ بنایا گیا ہے۔قلعہ کے اندر ایک بڑی باولی(کنواں) بنائی گئی ہے۔ یہ ٢٧٠ فٹ گہری اور چارمحرابی چوکھٹوں کے نیچے اُترنے کے لیے١٥٠ سیڑھیاں کے دو رویہ بلند دیواریں ہیں۔ نیچے اترنے کے لیے ہر پندرہ سیڑیوں کے بعد ایک وسیع سیڑھی بنائی گئی ہے تاکہ بندہ سانس لے سکے۔کنویں کا محیط ٣٥ گز ہے۔گہرائی ٣٠٠ فٹ ہے۔ باولی میں آج تک پانی موجود ہے مگر استعمال نہیں کیا جاتا۔اس باولی کو دور دور سے لوگ دیکھنے کے لیے سیاح اب بھی آتے ہیں۔جب شیر شاہ سوری کا انتقال ہواتو اس کے بعد اس بیٹے سلیم شاہ،فیروز شاہ عادل شاہ ، ابراھیم سوری اور سکندر سوری تقریباً دس سال حکمران رہے۔

اس کے بعد شیر شاہ سوری کے خدشات کے عین مطابق گکھڑ سردارا دم خان نے ہمایوں کو ہندوستان آنے کی دعوت دی جس پر ہمایوں ایران کی فوج کی مدد سے پہلے پنجاب اور اس کے بعد ہندوستان پر پھر قابض ہو گیا۔ مغلوں کے زوال کے بعد اس قلعہ پر ١٧٦٦ء میں سکھوں نے قبضہ کر لیا۔رنجیت سنگھ اس قلعہ میں کافی عرصہ قیام پذیر رہا۔سکھ شاہی محلات کے اندر سے قیمتی پتھروں کو اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ہمایوں ہندوستان میں افراتفری کا عالم دیکھ کر پشاور کے راستے ایران کی مدد سے جب پنجاب پر حملہ آور ہو تھا تواسوقت تاتار خان رہتاس قلعہ کا گورنر تھا۔ اس کے قائم مقائم گورنر آدم خان قلعہ روہتاس ہمایوں کے حولے کرنے کے لیے روات تک آگے بڑھ کر قلعہ ہمایوں کے حوالے کر دیا۔ ہمایوں روہتاس کی طرف بڑھا۔ جب ترکی کی پہاڑیوں سے اتر رہا تھا۔ اس نے دور سے زمین کی بلندیوں پر انڈے کی ماند سفید براق قلعہ کھڑا پایا اور کہا کہ یہ کیا ہے۔جواب دیا گیا یہ شیر شاہ سوری کا قلعہ روہتاس ہے۔ حکم دیا اسے فوراً گرا دیا جائے اور زمین کے برابر کر دیا جائے۔ جب ہمایوں روہتاس آیا تو بیرام خان نے عرض کیا بادشاہ سلامت اب یہ سارا علاقہ آپ کے زیر سایہ ہے۔اس کو زمین بوس کرنے میں وقت لگے گا۔آپ نے بڑے کارنامے سرانجام دینے ہیں اور دہلی پہنچنا ہے ۔ لہٰذا آپ کا حکم بجا کر اس کے سوہل دروازے کے تین کنگر گرا دیے جاتے ہیں ہمایوں کو یہ تجویز پسند آئی۔ توپ سے تین کنگرے گرا دیے گئے۔ جن کو بعد میںانگریز سرکار نے دوربارہ مکمل کیا۔ پٹھوار کا یہ علاقہ فوجی جوان پیدا کرنے میں ہمیشہ زرخیز رہا ہے۔ مغلوں، انگریزوں اور اب بھی پاک فوج میں پٹھوار کے بہادر جنگ جُو مشہور ہیں۔ ہندوستان کے قلعے مسلمان حکمرانوں کی شان و شوکت کے مظہر ہیں۔ راقم نے شیرشاہ سوری کا بنایا ہواروہتاس قلعہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ، ١٩٨٧ء میں بھارت جانے کا اتفاق ہوا۔دہلی میں مغل بادشاہ کے بنائے ہوئے لال قلعے کودیکھنے کا موقعہ ملا۔سرخ پتھر سے تعمیر کیا گیا لال قلعہ اب بھی اپنی شان شوکت کے ساتھ

برقرار ہے۔قلعے کی اونچی دیواروں کے ارد گردکئی فٹ چھوڑی اور کافی گہری پانی کی کھائی جس میں پانی موجود ہوتاتھا۔ نہ گھڑ سواروں کوآگے بڑھنے کی ہمت تھی اور نہ ہی ہاتھوں سے چلائے گئے تیر اتنی اونچی دیواروں تک پہنچ سکتے تھے۔ قلعے کی دیواروں پر بارود کے گولے مار کر قلعے کی دیواروں کو گہرایا جا سکتا تھا۔ اب تو لڑائی میں ٹینک، توپیں، راکٹ لائنچر،میزائل اور نہ جانے کون کون سا جدید اسلح ایجادہوگیا ہے کہ ان قلعوں میں کوئی بھی فوج پناہ نہیں لے سکتی۔بہر حال پاک و ہند میںپھیلے یہ قلعے اپنے دور کی شان وشوکت کے مظہر تھے۔ جس میں شیر شاہ سوری بہادر مسلم جرنیل کا تعمیر کردہ روہتاس کا قلعہ بھی شامل ہے۔ اللہ ہمارے پاکستان کو مستحکم کرے تاکہ ہم اپنے ازلی دشمن بھارت کے شر سے محفوظ رہیں۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
Afghans India Mir Afsar Aman muslims Rulers war افغان جنگ حکمران مسلمانوں ہندوستان
Joe Biden
Previous Post امریکا کا افغان عوام کیلیے مزید 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان
Next Post پاکستان: کورونا سے 10 اموات، 650 سے زائد کیسز رپورٹ
Pakistan Corona Cases

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close