Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اکبرالہ آبادی

November 15, 2020 0 1 min read
Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

تاریخ انسانی میں کم و بیش بتیس اقوام یا تہذیبوں کا ذکر ملتا ہے جو غلامی کی اندھیری غارمیں دھکیلی گئیں اور پھر ہمیشہ کے لیے کرہ ارض کے سینے سے انتقال کر کے تاریخ کے صحیفوں میں دفن ہو گئیں۔امت مسلمہ پر بھی تقریباََ تین سوسالوں تک غلامی کے مہیب سائے لہراتے رہے اوراس دوران بدترین حالات بھی دیکھنے میں آئے،خاص طورپر امت کا فکری اغوااورایک ذہنی غلام طبقے کی پیدائش اورآج تک اس کاوجود امت کے لیے کسی المیے اورسانحے سے کم نہیں ہے۔اس مفلوج و معذور غلامانہ ذہن کی متفوقانہ موجودگی میں کسی تخلیقی کارکردگی وفقاہی کارگزاری سے محرومی امت مسلمہ کی وہ آزمائش ہے جس کے نتیجے میں ذہنی و نظریاتی پسماندگی اورعلمی و تعلیمی وتحقیقی زوال کے تسلسل میں ہنوز اضافہ ہی ہورہاہے۔اس مذکورہ تصویرکے تاریک رخ کے دوسری جانب روشن و تابناک پہلو یہ بھی ہے کہ دورغلامی میں بھی امت کی کوکھ سرسبزوشاداب رہی اوراعلی درجے کی قائدانہ صلاحیتوں کے حامل لوگ اس امت میں جنم لیتے رہے۔اس گرانقدرطبقے میں نابغہ روزگار نفوس قدسیہ نے امت کے سواد اعظم کا قبلہ درست رکھنے کا کوہ گراں جیسا فریضہ بڑی کامیابی سے سرانجام دیا۔گزشتہ صدی کے نصف تک امت پر سے غلامی کی زنجیروں میں آنے والے رخنے اسی طبقے کی جدوجہد کا ثمرہ تھے۔جناب اکبرالہ آبادی انہیں لوگوں میں سے ہیں جو دورغلامی میں پیداہونے کے باوجود غلامی سے مبرا و بلندترتھے اور ایام آزادی کا سہرا بجاطورپر ان کے سرپر سجنے کامستحق وسزاوارہے۔

جناب اکبرالہ آبادی(1846-1921) کااصل نام ”سیداکبرحسین رضوی”تھااوربحیثیت شاعر آپ ”اکبر”ہی تخلص کرتے تھے۔16نومبر1846ء آپ کایوم پیدائش ہے اور یہ یوپی کے ضلع الہ آباد جیسے مشہور علاقے کاایک چھوٹاسا ”بار”نامی قصبہ ہے۔ابتدائی تعلیم حسب رواج گھرمیں ہی اپنے والد محترم جناب سید تفضل حسین رضوی (نائب تحصیلدار)سے حاصل کی البتہ کچھ عرصہ کے لیے مولوی محمدفاوق کے سامنے بھی زانوئے تلمذتہ کیا۔مشن سکول الہ آباد نامی سرکاری تعلیمی ادارے سے تکمیل تعلیم کے بعد محکمہ تعمیرات میں ملازمت اختیارکی۔کچھ مدت ایسٹ انڈیا ریلوے میں بھی ملازم رہے لیکن 1869ء میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے ”مختاری”نای مقابلے کے مروجہ امتحان میں کامیابی کے بعدنائب تحصیلداربھرتی ہوگئے۔ بہترین کی کارکردگی کی بنیادپرایک ہی سال بعد1870میں آپ کو ہائی کورٹ میں مسل خوانی کے اعلی ترمقام پر ترقی مل گئی۔عام آدمی ہوتے توکامیابیوں کی یہی سیڑھیاں شادیانے بجانے کے لیے کافی تھیں،کیونکہ اس زمانے میں کسی مسلمان نوجوان کاایسے مراتب تک پہنچ جانا کسی جوئے شیرسے کم نہ تھا۔لیکن جناب اکبرالہ آبادی نے اسی پر اکتفانہ کیااور 1872ء میں وکالت کے امتحان میں کامیابی کے بعد 1880ء تک وکالت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کو اسی سال منصف بناکرمیزان قضا تفویض کردیاگیا،اس وقت کی اصطلاحات کے مطابق یہ ”عدالت خفیفہ”یعنی چھوٹی عدالت جسے آج کل غالباََ سول کورٹ کہتے ہیں، کہاجاتاتھا۔1898میںسرکارکی جانب سے ”خان بہادر”اورمخزن لاہور کی طرف سے ”لسان العصر”کے خطابات سے نوازاگیااور1903ء میں خرابی صحت کی بناپر قبل از وقت ملازمت کو خیرآبادکہ دیا۔1857ء کی جنگ آزادی،پہلی عالمی جنگ عظیم اورموہن داس مہاتماگاندھی کی امن تحریک کے ابتدائی ایام جیسے تین اہم ترین عالمی و مقامی تاریخی واقعات براہ راست آپ کے مشاہدے میں آئے تھے۔آپ نے دوشادیاں کیں، آپ کے فرزندسیدعشرت حسین رضوی کوبھی ایک زمانہ جانتاہے۔

اکبرالہ آباد کی وجہ شہرت ان کی ظرافت آمیز اور طنزیہ بامقصد شاعری ہے۔اردو دانی آپ کو وراثت اورماحول سے براہ راست ملی تھی کیونکہ اردوکی جنم بھونی میں ہی آپ نے پرورش پائی تھی۔آپ کاعہد دورعروج اور دورغلامی کے عین درمیان میں واقع ہواتھا کہ قدرت نے آپ کو ایک کی باقیات اوردوسرے کی شروعات کابلاواسطہ مشاہدہ کرایاتھا۔دورعروج کا تربیت یافتہ معاشرہ آپ نے بنظرغائردیکھا،یہ وہ معاشرہ تھا جس نے اپنے سابق حکمران مغلیہ خاندان سے وراثت میں اعلی علمی و ادبی ذوق،شعائرآزادی اور ملی شعور پایاتھا۔انگریز نے مغلیہ دور کے اس خام مال کو اپنے استعمال میں لا کر بہترین نظام چلاکر دکھایا۔اسے اپنے خلف رو حکمرانوں سے دیانت دار عملہ،انسانی حقوق کاپاسداراور لسانی تعصب سے پاک ماحول،شاندارمذہبی رواداری سے آراستہ ملک، اپنے فن میں ماہر افرادکاراورحفظ مراتب میں اپنے سے بڑوں کے فرمانبردار،اطاعت شعاراور تابع فرمان ملازمین میسر آئے۔جناب اکبرالہ آبادی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے بنظرعمیق دیکھاکیا۔بدیسی حکمران نے بڑی چابکدستی سے ہندوستانی معاشرے کے ان خصائص عالیہ کوبتدریج بدترین لعائین غلامی میں بدل دیا۔گورے سامراج نے انگریزی ذریعہ تعلیم،سیکولر جمہوری سیاسی نظام ،غدارپرورجاگیردارانہ ذہنیت اورلڑاو اور حکومت کروکے فارمولوں کی بنیادپردورعروج کی اعلی روایات کو غلامی کے قبیح وملعون رویوں میں بدل دیااور اپنے پیچھے ایک بگڑاہوا،متعصب،اخلاقی گراوٹ کی انتہاپر پہنچاہوا،فکری طورپر بانجھ،مذہبی انتہاپسندی سے بھراہوا،قتل و غارت گری ، بدامنی اورصدی کی سب سے بڑی ہجرت اور مہاجرین پر شب خون کے ذریعے لوٹ مار،انسانیت سے عاری اور خواتین کی آبروریزی اور محرمات کی بے حرمتی کرنے والا اورمعاشی آکاس بیل کاحامل نظام زندگی چھوڑ گیااورفساد کے ایسے بیج بو گیا کہ نسلیں آج تک اس آتش انگریزکاایندھن بن رہی ہیں ۔جناب اکبر الہ آبادی نے بدترین حالات کی یہ نہج اپنی فراست سے اسی وقت محسوس کر لی تھی اور انہوں نے اپنے شاعرانہ کلام میں کھل کر اس کااظہارکیاہے۔

جناب اکبرالہ آبادی کا کمال فن تھاکہ انہوں نے اتنی تکلیف دہ حقائق کوبڑے دلچسپ اور ہلکے پھلکے انداز سے پیش کیا۔وہ سرکاری ملازم تھے اورانہیں یہ خوف بھی لاحق ہو سکتاتھاکہ براہ راست تنقیدوتنقیص کے باعث ان کا ولایتی آقا انہیں ذریعہ روزگار سے محروم کر سکتاہے بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ انہیں پس دیوار زنداں بھی دھکیلاجاسکتاتھا،اور 1857ء کی جنگ آزادی میں وہ یہ سب سفاک مظالم دیکھ بھی چکے تھے۔لیکن ان کی فہم و فراست ہی نہیں ان کی جرات وشجاعت کو بھی سلام ہے کہ انہوں نے اپنی ملی و قومی ذمہ داریاں بدرجہ اتم نبھائیں اور افرادقوم تک اپنی فکرودانست کو بڑے مزاحیہ انداز سے منتقل کیا۔حقیقت یہ ہے ان کے ان مزاحیہ اور ہلکے پھلکے ا سلوب پر صدہزارسنجیدہ اسالیب قربان کیے جاسکتے ہیں۔ان کے عہد میں لسانی ادب بے پناہ تکلفات کاشکارہو چکاتھااورآسان و سہل مدعاوجذبات و احساسات ومناظرکو مشکل تراکیب واستعارارت میں ڈھالنا معراج فن گردانا جاتاتھا،آپ کے عہد کے بعد تک بھی اکثر شعرانے اس تکلف برداراندازسخن کی تسکین کے لیے اردو سے نکل کرفارسی زبان کا سہارا بھی لیا۔لیکن جناب اکبرالہ آبادی کا مقصد شعرو سخن چونکہ بیداری وآزادی ملت تھی اس لیے ان کے کلام میں تکلفات نام کو بھی نہیں ملتے اور اتنی سادہ ،اتنی آسان فہم اور اتنی دلآویزاشعارہیںکہ بچوں سے بڑوں تک سب کاشوق مطالعہ اور لذت سماع ختم ہی نہ ہو۔

اگرچہ آج ایک صدی بیتنے کو ہے لیکن سچ ہے کہ ان کاکلام آج کے حالات پر بھی صادق آتاہے کیونکہ اسلام نے صرف فرد کی حدتک غلام بنانے کی اجازت دی تھی لیکن اس سیکولرازم نے قوموں کو غلام بنایااور اسلام نے غلاموں کو بھی اتنی فکری آزادی دی کہ یہ صرف امت مسلمہ کا طرہ امتیاز ہے کہ آزادانہ اسلامی سیاسی نظام کے باعث غلاموں کے خاندان بھی مسنداقتدارپر براجمان رہے۔ لیکن تف ہے اس دورغلامی پرکہ اس کمپنی کی حکومت نے ذہنی غلامی کی بدعت کو جنم دیا اور نام نہاداعلی تعلیم یافتہ ومراعات یافتہ طبقات اعلی درجے کے بدترین وفادار غلا م ثابت ہوئے اوراس تہذیبی،تعلیمی،ثقافتی ،دفاعی ،سیاسی ومعاشرتی غلامی میں مبتلاء اورحتی کہ بیت الخلاء اور کمرہ استراحت وغرفہ طعام تک میں مغربی تہذیب کی کھینچی ہوئی غلامانہ لکیرکے بدترین فقیر اور عقل کے اندھے غلام بھی اپنے آپ کو آزادخیال،جدت پسند،ترقی پسنداورروشن خیال تصورکرتے ہیں جن کے جسمانی لباس اور زبانی لہجے آج بھی غلامانہ طریق گندگی و غلاظت سے آلودہ ہیںاوران کی بدبودارسڑاندسے پورا معاشرہ غلامی کے اذیت ناک و انتہائی تکلیف دہ مرض میں مبتلاہورہاہے۔

Akbar Allahabadi Poetry
Akbar Allahabadi Poetry

اکبرالہ آبادی کو صرف شاعری،ادب اور اسلوب نگارش کی عینک سے دیکھنے والے ان کے ساتھ شاید انصاف نہ کرپائیں۔اکبرالہ آبادی ایک شخصیت نہیں ایک کردارکانام ہے اور یہ مصلح کردار ہردورمیں نوجوانان ملت اسلامیہ کے ہمرکاب رہا ہے ،انہیں دوست اوردشمن میں تمیزسکھاتارہاہے،انہیں اپنے اور غیر میں فرق سمجھاتارہاہے اورانہیں دشمن کے خوبصورت نعروں اوروعدوں میں چھپے ہوئے شکاری کے جال میں حقیقت احوال بتاتارہاہے ۔تحریک آزادی پاکستان کے تناور اورناقابل تسخیر قلعے کی بنیادوں میں اکبرالہ آبادی کی فکر کا مضبوط مصالحہ لگاہے اور وطن عزیزکے تناوردرخت کی جڑوں میں آبیاری کافریضہ مغربی تہذیب کے خلاف شعوراجاگرکرنے والے اکبرالہ آبادی جیسے کرداروں نے کیاہے۔یہ کردارآج بھی زندہ ہیں اور آئندہ بھی زندہ رہیں گے اورانہیں کی کاوش و سعی جمیلہ سے غلامی کی باقیات السیات سے بہت جلد ملت اسلامیہ پاک ہونے کو ہے اور حقیقی آزادی کاسورج بس پس دیوار فرداطلوع ہونے کو ہے اور وہ وقت اب آن پہنچاہے کہ ملت اسلامیہ سمیت کل انسانیت فاران کی چوٹیوں سے بلند ہونے والے مینارہ نور کے نیچے پرامن پناہ حاصل کر پائے گی،ان شااللہ تعالی۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Share this:
Tags:
Akbarala population History Slavery struggle Success اکبرالہ آبادی تاریخ جدوجہد غلامی کامیابی
Abdul Ghaffar Dogar
Previous Post محکمہ اینٹی کرپشن نے سابق لیگی ایم این اے عبدالغفار ڈوگر کو گرفتار کر لیا
Next Post گلگت بلتستان: قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل، گنتی جاری
Gilgit-Baltistan Elections

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close