
کوئی بات سی بات تھی
ماہ کا مل کی رات تھی
چھا ئی تھی گھٹا سی دل پہ
اکھیوں میں برسات تھی
بند ہو گئی تھیں را ہیں
ہر شہہ پہ ما ت تھی
ایسے میں اس کا ملنا
جیسے ملی کا ئنا ت تھی
دامن چھڑا سکے نہ
کہ اس میں حیات تھی
مل کے بچھڑ نا اس کا
قسمت کی با ت تھی

تحریر:مسز جمشید خاکوانی
