Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

الفارابی

September 7, 2016 0 1 min read
Al Farabi
Al Farabi
Al Farabi

تحریر : صباء نعیم
فارابی ترکی میں 870ء میں دریائے حیبوں کے ساحلی علاقے پر واقع ترکستان کے ضلع فاراب کے مقام واسح میں پیدا ہوا اور اسی نسبت سے فارابی کہلایا۔ ان کا پورا نام محمد بن ترخان اور کنیت ابو نصر تھی۔ ابتدائی تعلیم فاراب میں حاصل کرنے کے بعد اوائل عمر میں حصول تعلیم کے لیے بغداد آیا۔عربی زبان سیکھنے کے بعد یونانی مفکرین کے فلسفہ کے عربی تراجم سے استفادہ کیا۔ اسلامی ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کی بناء پر دمشق آیا۔ ہمدانیوں کی فتح کے بعد 946ئ میں دمشق میں مستقل سکونت اختیار کی اور سیف الدولہ کے دربار سے وابستہ ہوا۔ دمشق میں اس نے عیسائی اساتذہ ابوبشر متی بن یونس اور یومنا بن حیلان سے علم منطق حاصل کیا۔ سائنس، فلسفہ، طبعیات، منطق، کیمیا، سحر اور ریاضی کے علوم کے علاوہ موسیقی کا علم سیکھا۔ علمی موسیقی پر ایک مستند کتاب تحریر کی اور ایک آلہ ”رباب” بھی ایجاد کیا۔ وہ ابوبکر الشبلی اور منصور الحاج کا ہم عصر تھا۔ اس کے فلسفہ میں افلاطون کا رنگ نمایاں ہے۔ فارابی نے ارسطو کی تصنیفات کی ایسی بسیط شرح لکھی کہ کئی صدیوں تک سند کے طور پر پیش کی جاتی رہی۔ وہ علم الطب کا ماہر تھا۔

ریاضی میں بیکن نے اس کی شاگردی کو تسلیم کیا۔ اس نے اپنی تصنیف میں ”احصاء العلوم” میں متداوّل سائنسوں پر زبردست تبصرہ کیا۔ اس کتاب کے پانچ حصے ہیں جن میں علم کے مختلف شعبوں زبان، منطق، ریاضیات، طبعی سائنس اور سیاسی و معاشرتی اقتصاد پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اس کی ایک اور تصنیف ارسطو کی ارو گینن (Organaon) کی شرح ہے، جس سے استفادہ کرتے ہوئے روجر بیکن (Roger Bacon) اور البرٹس میگنس (Albertus Magnus) نے اپنے نظریات قائم کئے۔ اس کی الجمع بین راس الحکمین، افلاطون و ارسطو طالیس، السیرہ الفاضلہ اور سیاسیات پر کتاب ”السیاست المدینہ” جو عظیم ترکتاب ”مبادی الموجودات” کا ایک حصہ ہے ،سب اس کی ذہانت کی غماز ہیں۔ فارابی کی مشہور تصانیف میں الموسیقی الکبیر، کتاب الاخلاق، السماء و العالم، عقل، نفس، سیاست المدینہ، آراء المدینہ الفاضلہ،جوامع السیاستہ، اجتماعات المدینہ اور تحصیل السعاد شامل ہیں۔ کتاب الاخلا اور اسماء و العالم ارسطو کی تصانیف پر تنقید ہے جبکہ سیاست المدینہ افلاطون کی کتاب نوامیس کی تلخیص ہے۔

سیاست پر اس کی دو تصانیف سیاست المدینہ اور آراء اہل المدینہ الفاضلہ بڑا نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ آراء اہل المدینہ الفاضلہ جس میں وہ معیاری مملکت کو مدینہ الفاضلہ کا نام دیتا ہے حقیقت میں افلاطون کی تصنیف ”الجمہوریہ” کا چربہ ہے۔ اس کتاب میں اس نے معیاری شہر کی ضرورت، نظم و نسق، اقتدار اعلیٰ، اشتراکیت و انفرادیت اور انسانی اجتماعات کا ذکر کرتے ہوئے ایک طرف شریعت اور فلسفہ اور دوسری جانب افلاطون اور ارسطو کا ذکر کرتے ہوئے ایک طرف شریعت اور فلسفہ اور دوسری جانب افلاطون اور ارسطو کے نظریات میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے جہاں افلاطون سے اختلاف کیا ہے ،وہاں ارسطو کا نظریہ پیش کیا ہے۔ سیاست المدینہ میں اس نے انسان اور حیوان کے باہمی فرق، انسانی تعاون، معاری شہر، رئیس اوّل کی اہمیت و صلاحیت اور مختلف اقسام کی حکومتوں پر بحث کی ہے۔

Al Farabi Meet
Al Farabi Meet

فارابی کے نزدیک فلسفہ کا مقصد خالق کا شعور و ادراک ہے اور فلسفہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال میں زیادہ سے زیادہ خدا کی طرح عمل کرے، خود کو بہتر بنائے، اپنے کنبہ کی اصلاح کرے اور ریاست کی اصلاح کی طرف توجہ دے۔ انسان عقل الفعال کے ذریعے علم سیکھتا ہے اور اچھے برے کی تمیز کرتا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں میں فرق کی بنیاد انسان کی ترقی اور اس کا اشرف المخلوقات ہونا سب اسی عقل الفعال کے بغیر ناکارہ ہے۔ قوت نزوعیہ کے ذریعے انسان میں محبت، نفرت اور رنج و خوشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور قوت ناطقہ انسانی طبیعت کو جبلت پر قابو پانے کے طریقے سے روشناس کراتی ہے۔ اس کے خیال میں اجتماع کی دو اقسام ہیں: (1 اجتماع تام (2 اجتماع ناقص و نا مکمل فارابی کے نزدیک کرہ ارض پر رہنے والے تمام لوگوں کا اجتماع سب سے بڑا اجتماع ہے، لیکن اس اجتماع عظیم کا بین الاقوامی اتحاد، جغرافیائی ا?ب و ہوا، انسانی کردار، رسم و رواج اور زبان کے اختلافات کے باعث ممکن نہیں۔ شہر ملت کی اکائی اور اجتماع تام ہے اور ان کے درمیان اسی حد تک اتحاد ممکن ہے۔ محلے اور سڑکیں شہر کا اک حصہ یا ٹکڑا ہونے کے باعث اجتماع ناقص یا نا مکمل اجتماع ہیں۔

نا مکمل اجتماع کے بغیر مکمل اجتماع کا مقصد ممکن نہیں اور اجتماع مکمل کے لیے اجتماع نا مکمل کا ہونا ضروری ہے۔ فارابی کے نزدیک مملکت انسانوں کے درمیان معاہدہ عمرانی ہے، جو باہمی تنازعات اور حصول انصاف کی خاطر وجود میں ا?یا۔ یہ معاہدہ کاروبار مملکت کی بنیاد ہے۔ انسانی جنگجویانہ فطرت نے اجتماع کو جنم دیا اور انسان نے اپنی مرضی سے اپنے حقوق کا ایک حصہ مرکزی قوت کے سپرد کیا۔ اس کا یہ نظریہ مملکت قریباً سات سال بعد انگلستان اور فرانس میں جمہوری نظام کو لانے کا سبب بنا۔ فارابی اپنی معیاری مملکت کو مدیسہ الفاضلہ اور اس کے سربراہ کو رئیس اوّل کا نام دیتا ہے۔ اس کے خیال میں خدا نے دنیا کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے ہرش خص کو اس کی صلاحیت کے مطابق فرائض تفویض کر رکھے ہیں۔ ریاست کا اعلیٰ شہری وہ ہے، جو حکمران کے ماتحت شہری زندگی گزارتا ہے۔ رئیس اوّل انسانی جسم میں قالب سے متشابہ ہے اور وہ مملکت کے مختلف طبقوں میں حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے، جو عہدیدار رئیس کے جتنا قریب ہو گا ،اتنا ہی اہمیت کا حامل ہو گا۔ اس کے خیال میں مثالی حکمران رسول ہے، جو منبع قانون ہوتا ہے۔ صرف اس کے تحت ریاستیں معیاری ہو سکتی ہیں۔

وہ مقتدر اعلیٰ کے فرائض و اوصاف کے باب میں کہتا ہے کہ انسان بلحاظ عقل ایک جیسے نہیں ہوتے مقتدر اعلیٰ میں قوت استبداد کے ساتھ ساتھ قوت تبلیغ بھی ہونی چاہیے۔ اس کے ماتحت ہر شعبہ کا الگ قائد ہونا چاہیے اور مملکت کے تمام شعبوں کے قائدین میں سے جو سب سے زیادہ طاقتور ہو گا۔ قائد اوّل ہو گا اور اس کے ماتحت قائد دوم و قائد سوم ہوں گے، جو بالترتیب ادنیٰ قائدین کی راہنمائی کریں گے۔ مقتدر اعلیٰ بے عیب، ذکی و عاقل، معاملہ فہم، عادل و منصف، دولت مند و غنی اور لہو و لعب اور خواہشات نفسانی سے متنفر ہونا چاہیے۔ اس کا حافظہ قویٰ اور اس میں علم کی محبت پیدا کرنے کی اہمیت موجود ہونی چاہیے۔ اصولی طور پر شخصی حکومت ہونی چاہیے ،لیکن ناگزیر حالات میں اگر یہ تمام صفات ایک شخص میں ممکن نہیں، تو ان میں اکثر خوبیوں کے مالک کو حکمران تسلیم کر لینا چاہیے۔

Democracy
Democracy

اگر ایسا بھی ممکن نہیں، تو ان میں اکثر خوبیوں کے مالک کو حکمران تسلیم کر لینا چاہیے۔ اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو، تو ان صفات کے مالک شخص کے زیر تربیت پانچ چھ افراد جن میں فلسفی اور حکیم موجود ہوں چنا جا سکتا ہے،جو جمہوریت کی شکل بنتی ہے۔ فارابی نے معیاری مملکت کے مقابلے میں غیر معیاری مملکت ”مدیسہ الجاہلیہ” کا تصور بھی پیش کیا۔ اس کے خیال میں غیر معیاری مملکت جسے وہ مدیسہ التغلب کا نام دیتا ہے کے وجود میں آنے کی درج ذیل وجوہات ہوتی ہیں: (1 کمزوروں کو طاقت کے ذریعے مغلوب کر کے حکومت قائم کی جاتی ہے، جو ایک فطری آمریت اور عین انصاف ہے۔ مفتوحہ پر فاتح کی اطاعت ضروری ہوتی ہے جبکہ فاتح پر خون بہانا، اچانک حملہ کرنا یا کمزوروں پر ظلم و ستم روا رکھنا درست نہیں۔ (2 ایک مضبوط اور متحد خاندان یا کنبہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ریاست کے قیام کا سبب بنتا ہے۔ (3 حکمران کی جانب سے افراد کی باقاعدہ تنظیم کے ذریعہ مملکت قائم ہوتی ہے۔ (4 ایک زبان بولنے والے یا ایک ہی رسم و رواج کے پابند گروہ جب متحد ہو جاتے ہیں، تو مملکت کا قیام عمل میں آتا ہے۔ (5 جب ایک خطہ یا علاقہ کے لوگ باہم اتحاد کرتے ہیں، تو ریاست وجود میں ا?تی ہے۔

اس کے نزدیک غیر معیاری مملکت کی چار اقسام ہیں: 1۔ ٹمو کریسی 2۔ اشرافیہ 3۔ جمہوری 4۔ جبر و استعدادیت۔ ان چاروں اقسام میں ٹموکریسی بہتر نظام حکومت ہے۔ جمہوریت میں شہریوں کو آزادی حاصل ہوتی ہے جبکہ ظلم و استدادیت میں شہریوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ کئی اور اقسام کی ریاستوں کا ذکر اس طرح کرتا ہے۔ 1۔ بد اعمال ریاست۔ اس ریاست کے باشندوں کے عمل غیر معیاری ہوتے ہیں۔ 2۔ وقت کے ساتھ بدلنے والی مملکت … یہ ریاست حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ 3۔ ظلم کی ریاست… اس ریاست کے شہری بدعنوان بادشاہ کو ہر صورت میں خوش رکھتے ہیں۔ 4۔ بنیادی ضروریات پوری کرنے والی ریاست…

اس ریاست کے باشندے صرف بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ 5۔ خراب ریاست… اس ریاست کے شہری دولت کے پجاری ہوتے ہیں۔ 6۔ قابل ِنفرت ریاست… اس ریاست کے شاہ سیرو شکار کے شوقین ہوتے ہیں۔ فارابی کے نزدیک نو آبادیات کا قیام بیرونی حملہ اور اقتصادی و معاشی بد حالی کے سبب عمل میں آتا ہے۔ نو آبادیات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پرانے دستور کو بحال رکھیں یا اس میں اپنی منشاء کے مطابق ردوبدل کریں وہ مرکز کے ساتھ اپنا رابطہ برقرار رکھیں یا آزاد رہیں۔ اس کے نزدیک اشتراکیت نا قابلِ عمل نظریہ ہے اور وہ ایک حد تک ذاتی ملکیت کو جائز قرار دیتا ہے۔ مشرق کے اس عظیم سیاسی مفکر نے 980ء میں 80 سال کی عمر میں دمشق میں اجل کول بیک کہا اور اس کے ساتھ ہی سیاسیات کا ایک درخشندہ باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

Saba Naeem
Saba Naeem

تحریر : صباء نعیم

Share this:
Tags:
arabic District greek option turkish اختیار ترکی تعلیم ضلع عربی یونانی
General Raheel Sharif
Previous Post بھارت کو آرمی چیف کا دو ٹوک جواب
Next Post مودی اور دوسرے دشمنوں کے لئے واشگاف انتباہ
Terrorism in Pakistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close