Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اللہ اللہ ہے

September 30, 2015 0 1 min read
Allah
Allah
Allah

تحریر: ابنِ نیاز
اللہ خدائے وحدہ لا شریک کا اسمِ ذات ہے۔ دراصل لفظ اللہ دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ کیونکہ یہ ایک جامع لفظ ہے۔ اس لفظ اور جس ہستی کا یہ نام ہے اس پر یقین کامل ہی اسلام میں داخل ہونے کا درست اور صحیح راستہ ہے۔ لفظ اللہ ایسا جامع ہے کہ اگر اس کو مختلف حصے کرکے دیکھا جائے تو بھی مفہوم وہی نکلتا ہے جس کا معنی معبود ہے۔ اور یہ اس لفظ کا معجزہ ہے۔ اللہ سے اگر حرف”الف” جدا کر دیا جائے تو باقی “للہ” رہ جاتا ہے۔ جس کا معنی بنتا ہے اللہ کے لیے یا اللہ کی قسم۔اگرحرف “ل” بھی ہٹا دیں تو “لہ” رہ جاتا ہے۔ جس کا معنی اس کے لیے۔

ظاہر ہے “اس کے لیے ” اشارہ اس ذات کی طرف ہو گا جو کہ ہمہ وقت ہر جا موجود ہو۔ اور اللہ کے سوا کوئی اور ذات ہمہ گیر اور ہمہ وقت موجود نہیں ہوتی۔اسی طرح اگر لہ سے ل بھی ہٹا دیا جائے تو حرف ” ہ ” باقی رہ جاتا ہے۔ جس کا ایک معنی وہ بھی ہے۔ اب حرف لہ کی طرح ہ بھی اللہ کی ذات کے لیے ہر وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔اگر صرف لفظ اللہ میں اتنا کچھ پنہاں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی کی ہو گی۔ اللہ کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا دنیا کا ایک ناممکن ترین کام ہے۔ کیونکہ اللہ کی ذات پاک ایسی ہے کہ اگر دنیا کے تمام درخت قلم ، تمام سمندر سیاہی اور درختوں کے پتے صفحات بن جائیں ، لکھنے والی عمر کروڑوں سال ہو تو بھی اللہ کے بارے میں جو لکھا جائے گا وہ اسکا عشرِ عشیر بھی نہیں ہو گا جو کہ حقیقت میں اللہ ہے۔

دنیا کا کوئی سا بھی مذہب ہو، سب کا اللہ کے بارے میں عقیدہ مشترک ہے۔سب کی آواز ایک ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی ایسی ہستی ہے جو کہ ہر وقت موجود ہے اور اس کائنات کا نظام ایک خاص نظم و ضبط سے چلا رہی ہے۔ اسلام کے علاوہ بے شک باقی مذاہب اللہ کو بطور اللہ کے نہیں مانتے لیکن پھر وبھی وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ اتنی بڑی کائنات خود بخود وجود میں نہیں آسکتی۔ انکا بنانے والا کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہے۔ دنیا میں ایک چھوٹا سا کارخانہ بنا انسانوں کے نہیں چل سکتا۔بے شک آٹو میٹک ہو، مشینیں کام کرتی ہوں، لیکن ان مشینوں کو بھی تو بنانے والا کوئی ہے۔ ان کو کنٹرول کرنے والا بھی تو کوئی ہے۔کمپیوٹر میں پروگرامنگ کی جاتی ہے ، وہ بھی انسان ہی کرتا ہے۔

اسی طرح انسان بھی ہے جس کی باقاعدہ پروگرامنگ کی گئی ہے اور وہ اسی پروگرامنگ کے تحت عمل کرتا ہے۔ اس قدر پیچیدہ پروگرام کس نے بنایا؟ سائنسدانوں نے اپنی زندگیاں لگا دیں یہ جاننے کے لیے کہ انسان ہے کیا لیکن ابھی تک شاید بیس فیصد بھی نہیں جان سکے۔ وہ حیران ہیں کہ کس طرح ڈی این اے کے تحت سارا کام ہوتا ہے۔ اورڈین این اے کوئی لمبا چوڑا حصہ نہیں ہے بلکہ اگر اس کو انسانی جسم کا ایٹم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کیا یہ ڈی این اے خود بخود بن گیا۔ نہیں بلکہ انسانی جسم کا یہ کمپیوٹر پروگرام اللہ کی ذات نے تخلیق کیا ہے۔تب ہی تو انسان اتنا پیچیدہ ہے۔اس انسان کو، کائنات کو بنانے والی ہستی کو مختلف زبانوں میں اور مختلف مذاہب میں مختلف نام دیے گئے ہیں۔ ہندی میں بھگوان (اگرچہ اب بھگوان بھی ان کا جدا ہو چکا ہے کہ دنیا کی ہر چیز چاہے وہ گائے ہو، بندر ہو سانپ ہو، ہاتھی ہو ، شیر ہو، پتھر ہو، ستارے، چاند، سورج، سب کے سب ان کے بھگوان ہیں)۔ انگریزی میں گاڈ (God) ، فارسی میں خدا وغیرہ ہیں۔ معنی بظاہر سب کا ایک ہی بنتا ہے یعنی اللہ۔ اللہ کے بارے میں واضح بات اس وقت کی جاسکتی ہے جب اسکی حقیقت معلوم ہو۔ اور حقیقت کیا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ پھر بھی اگر کم سے کم الفاظ میں ہم اللہ کو جاننے کی کوشش کریں تو پہلی چیز جو ہمیں اللہ تک لے کر جائے گی وہ الوہیت ہے یعنی خدائی کا تصور۔ وسیع کائنات جس کے آغاز اور انجام کا خیال کرنے سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے جو نامعلوم زمانہ سے چلی آرہی ہے۔

جس میں بیحد و بے حساب مخلوق پیدا ہوئی اور پیدا ہوئے چلی آرہی ہے۔ جس میں ایسے ایسے حیرت انگیز کرشمے ہو رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس طرح کی کائنات میں خدائی کا دعویٰ صرف وہی کر سکتا ہے جو لامحدود ہو، ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے۔ کسی کا محتاج نہ ہو۔ قادر مطلق ہو۔ حکیم اور دانا ہو۔ علیم و خبیر ہو۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو۔ وہ سب پر غالب ہو اور کوئی اسکے حکم سے سرتابی نہ کر سکے۔ بے حساب قوتوں کا مالک ہو۔ کائنات کی ساری چیزوں کو اس سے زندگی اور زندگی کا سامان بہم پہنچے۔ عیب، نقص اور کمزوری کی تمام صفات سے پاک ہو اور کوئی بھی اسکے کاموں میں دخل نہ دے سکے۔ یہ تمام صفات صرف ایک ذات واحد میں جمع ہونا ضروری ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ دو ہستیاں برابر کی صفات رکھ سکیں۔ کیونکہ سب پر غالب اور سب پر حاکم تو صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ صفات تقسیم ہو کر بہت سے خدائوں میں بٹ جائیں ، جس طرح ہندوئوں کا عقیدہ ہے۔ کیونکہ اگر ایک حاکم ہو، دوسرا عالم، تیسرا رازق ہو تو ہر ایک دوسرے کا محتاج ہو جائے گا۔ اور ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیں گے تو یہ کائنات یک لخت فنا ہو جائے۔ جیسا کہ اللہ پاک قرآن پاک “سورہ الانبیائ، آیت ٢٢” میں ارشاد فرماتا ہے:
“اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو زمین اور آسمان دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ بس پاک ہے اللہ جوعرش کا مالک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔”

Universe
Universe

کیونکہ اس طرح ممکن نہیں تھا کہ سب آزاد اور خود مختار خدا ہمیشہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ارادے سے موافقت کرکے اتنی وسیع کائنات کے نظم و نسق کو آپس میں یکسانیت اور تناسب و توازن کے ساتھ چلا سکتے۔ بلکہ ان کے منصوبوں اور ارادوں میں قدم قدم پر تصادم ہوتا۔ ہر ایک اپنی خدائی دوسرے خدائوں کی موافقت کے بغیر چلتی نہ دیکھ کر یہ کوشش کرتا کہ کسی نہ کسی طرح وہ ساری کائنات کا مالک بن جائے۔ خدا کے اس کامل اور صحیح تصور کو مد نظر رکھ کر جب ہم کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ عالم کی ساری موجودات میں سے ایک بھی ان صفات سے متصف نہیں ہے۔ وہی تمام صفات میں یکتا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں محتاج ہیں ، محکوم ہیں، بنتی بگڑتی ہیں، مرتی جیتی ہیں۔ کسی کو ایک حال پر قیام نہیں۔ کسی ایک کو بالا تر قانون کے خلاف بال برابر حرکت کرنے کا اختیار نہیں۔ان کے حالات خود گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں۔بلکہ کسی چیز میں خدائی کی ادنیٰ جھلک بھی نہیں۔ کسی کا خدائی میں ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔کائنات کی ساری چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد ہمیں یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ پھر ایک ہی ہستی ایسی ہے جو سب سے بالا تر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اسکے سوا کوئی اللہ نہیں۔
اسی لیے تو اسلام کے تمام عقائد اور تمام عملی نظام میں سب سے پہلی اور بنیادی چیز ایمان باللہ ہے یعنی اللہ پر ایمان۔” سفیان بن عبداللہ ثقفی سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اکرم ۖ سے عرض کیا کہ آپ ۖ اسلام سے متعلق انہیں کوئی ایسی پکی بات بتا دیں کہ پھر انہیں اسکے متعلق کسی سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا۔ اس بات کا اقرار کر کہ میں ایمان لایا اللہ پر اور پھر اس پر قائم ہو جا۔”

ایمان باللہ کے علاوہ باقی جتنے عقائد واعمال ہیں، سب اسی ایک کے تابع ہیں۔ فرشتوں پر ایمان اسلیے ہے کہ وہ اللہ کے فرشتے ہیں اور اسکے حکم سے ہر وقت اسکی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ کوئی حالت قیام میں ہے ، کوئی رکوع کر رہا ہے، کوئی سجدے میں ہے، کوئی تشہد میں بیٹھا ہوا ہے تو تا قیامت انکی یہ حالت رہے گی اور اسی حالت میں وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہیں گے۔ کتابوں پر ایمان اس لیے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی ہیں اور ان میں اللہ کے ہی احکامات درج ہیں۔ رسولوں پر ایمان اس لیے کہ وہ اللہ پاک نے ہی اپنے بندوں کی رہنمائی و ہدایت کے لیے بھیجے ہیں۔ یومِ آخرت پر ایمان اس لیے ہے کہ وہ خدا کے انصاف کا دن ہے۔ اسی طرح نماز ، روزہ ، زکٰوة ، حج، جہاد وغیرہ اسلیے فرائض میں شامل ہیں کہ اللہ نے ان کو مقرر کیا ہے۔

غرض ہر وہ چیز جو اسلام میں داخل ہے خواہ وہ عقیدہ ہو یا عمل، اسکی بنیاد ایمان باللہ پر قائم ہے۔اس ایک چیز کو الگ کر دیجئے پھر نہ ملائکہ کوئی چیز ہیں نہ یومِ آخرت۔ نہ رسول پیروی کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور انکی لائی ہوئی کتابیں۔ نہ فرائض اور عبادات میں کوئی معنی باقی رہ جاتے ہیں اور نہ حقوق و واجبات میں۔ گویا اس ایک مرکز کے ہٹتے ہی یہ سارے کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ بلکہ سے سے اسلام ہی کسی چیز کا نام باقی نہیں رہ جاتا کہ اسلام کے معنی سلامتی کے اور جب کوئی چیز ہی سلامت نہی رہی تو اسلام کہاں رہا۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کا اعتراف انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اور یہ اس عہد و پیمان کا نتیجہ ہے جو روزِ اول کو خالق و مخلوق کے درمیان ہوا تھا۔ “اور جب تمھارے رب نے آدم کی پشت سے اس کی نسل کو پیدا کیا اور ان کو انہی پر گواہ کیا اور کہا کہ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا۔ہاں۔ ہم گواہ ہیں۔ (سورة الاعراف۔١٧٢)” یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی خارجی اثرات سے انسان کا یہ جذبۂ فطرت دب جاتا رہا ہے اور پھر وحی الٰہی کے ذریعہ سے بار بار انسان کے اس دبے ہوئے جذبے کو ابھارا گیا۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ۖ تک جتنے بھی انبیاء کرام آئے، ان سب نے ہی توحید کا پرچار کیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے۔

” جب اللہ کے رسول ان کے پاس آگے اور پیچھے کی طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ خدا کی سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ ( حٰم السجدہ۔١٤) انبیاء سے بڑھ کر خود خالق کائنات کی گواہی ہے جو اس چیز کی شہادت دے رہا ہے کہ پورے عالم میں اس کی ذات کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو خدائی کی ذات سے متصف اور خدائی کے اقتدار کی مالک ہو۔ اسکے بعد فرشتے جو کائنات کے انتظامی اہل کار ہیں۔ وہ اپنے ذاتی علم کی بنا پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جس کی طرف زمین و آسمان کے انتظامی معاملات میں وہ رجوع کرتے ہوں۔ اسکے بعد مخلوقات میں سے جن لوگوں کو بھی حقائق کا تھوڑا یا بہت علم حاصل ہو ، ان سب کی آغاز دنیا سے آج تک یہ متفقہ شہادت رہی ہے کہ ایک ہی خدا اس اس پوری کائنات کا مالک ہے۔ اللہ پاک خود فرماتے ہیں۔ ” اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اسکے سوا کوئی خدا نہیں اور فرشتے اور سب اہلِ علم بھی ثابت قدمی اور انصاف کے ساتھ اس پر گواہ ہیں کہ اس زبردست اور حکمت والے کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ (آل عمران۔ ١٨)”

Ibn e Niaz
Ibn e Niaz

تحریر: ابنِ نیاز

Share this:
Tags:
based Ibn e Niaz Islam meaning universe World اسلام اللہ بنیاد دنیا کائنات معنی
Mumbai Train Blast
Previous Post ممبئی ٹرین دھماکوں میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت ، سات کو عمر قید
Next Post یونان کشتی حادثے میں جاں بحق 8 پاکستانیوں کی میتیں لاہور پہنچا دی گئیں
Bodies of Illegal Pakistani Immigrants

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close