Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شیخ المشائخ خواجہ پیر محمد اسلم قادری قدس سرہ العزیز

November 2, 2014 0 1 min read
Hazrat Pir Mohammad Aslam Qadri
Hazrat Pir Mohammad Aslam Qadri
Hazrat Pir Mohammad Aslam Qadri

تحریر: استاذ العلماء پیر محمد افضل قادری

میرے والد گرامی قطب الاولیائ، استاذ الاساتذہ، زاہد بے ریا، شیخ المشائخ، حضرت مولانا پیر محمد اسلم قادری قدس سرہ العزیز 11رمضان المبارک 1347ھ بروز جمعة المبارک مراڑیاں شریف گجرات کے ایک عظیم علمی وروحانی گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ قدیم زمانہ سے بزرگان خاندان کے یہاں موجود تحریری شجرہ کے مطابق آپکا تعلق سلسلہ نسب 39 ویں پشت میں امیر المؤمنین سیدنا علی تک جا پہنچتا ہے۔ آپ فقیہ اعظم حضرت مولانا الحاج محمد نیک عالم قادری رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کے فرزند ارجمند اور خلف ارشد ہیں۔ حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری رحمة اللہ علیہ اپنے زمانہ کے عظیم فقیہ، علوم عربیہ اسلامیہ کے بے مثال ماہر استاذ، شب بیدار، باکرامت ولی کامل اور بارگاہ نبوی کے حضوری ومقرب تھے۔ آپ کی علمی جلالت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ محدث بھکھی شریف حضرت علامہ سید محمد جلال الدین شاہ رحمة اللہ تعالیٰ علیہ اور کئی علماء کبار نے آپ سے علوم دینیہ کی تحصیل یا تکمیل کی۔ آپ کس قدر عبادت گزار تھے؟

آپ کے شاگرد رشید، شیخ المدرسین حضرت مولانا محمد نواز صاحب کیلانی بانی جامعہ مدینة العلم گوجرانوالہ فرماتے ہیں کہ میرے استاذ محترم حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری رحمة اللہ تعالیٰ علیہ بیماری اور علالت کے ایام میں بھی کم از کم 18پارے روزانہ تلاوت فرماتے تھے اور آپ نے باقاعدہ قرآن حفظ نہیں کیا تھا لیکن تلاوت کر کر کے حافظ قرآن بن گئے تھے۔ خلیفہ حضرت شیر ربانی جناب سید محمد یعقوب شاہ رحمة اللہ تعالیٰ علیہ آف ماجرہ شریف نزد کنجاہ کو کسی وجہ سے زیارت نبوی بند ہوگئی تو آپ دریائے راوی کے کنارے ایک مجذوب کی رہنمائی پر مراڑیاں شریف پابرہنہ حاضر ہوئے حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کی دعا سے اسی رات زیارت نبوی سے مشرف ہوئے۔ آپ اس کے بعد ہمیشہ ننگے پاؤں مراڑیاں شریف آتے اور فرماتے حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری اس قدر بارگاہ نبوی کے حضوری ومقرب ہیں کہ اگر شرع شریف اس زمانہ میں کسی کو صحابی رسول کہنے کی اجازت دیتی تو میں برملا حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری کو صحابی رسول کہتا۔ حضرت کی بے شمار کرامات میں سے ایک یہ بھی ہے

آپ نے نہایت قحط سالی کے ایام میں نالہ بھمبر میں بارش کی دعا فرمائی اسی وقت کالی گھٹا ظاہر ہوئی اور موسلادھار بارش ہونے لگی اور لوگ بھیگتے ہوئے واپس آئے جبکہ دعا سے پہلے آسمان پر ذرہ بھر بادل نہیں تھے۔ آپکی اس کرامت کے کثیر تعداد میں گواہ آج بھی موضع مراڑیاں شریف اور ساہنوال کلاں وغیرہ میں زندہ ہیں۔

ہمارے والد گرامی رحمة اللہ علیہ نے اپنے عظیم باپ عالم ربانی مولانا محمد نیک عالم قادری رحمة اللہ علیہ کی آغوش ولایت میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم رحمة اللہ علیہ سے حاصل کی پھر درس نظامی کی انتہائی کتب ملک کے ممتاز اساتذہ کرام سے مکمل کیں۔ فاضل عربی جامعہ فاضلیہ بٹالہ شریف (انڈیا) میں کیا۔ آپ نے نہ صرف درس نظامی پڑھا بلکہ آپ ابتداء سے دورہ حدیث تک درس نظامی پڑھاتے رہے اور بڑے بڑے قابل اساتذہ کو لمحوں میں درس نظامی کے اشکالات کا حل فرما دیتے تھے۔ آپ متبحر عالم دین اور صاحب ریاضت ومجاہدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر حکیم اور بے مثال ماہر عملیات بھی تھے۔ آپ نے حکمت اور عملیات کے ذریعے بھی ساری زندگی بے لوث خدمت خلق کی اور بے شمار لوگ آپ سے ان شعبوں میں بھی فیضیاب ہوئے۔

آپ نے 7 محرم الحرام 1367 ھ کو غوث زمانہ حضرت سیدنا پیر سید نذر محی الدین شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ سجادہ نشین ہشتم بٹالہ شریف (انڈیا) سے بیعت کی اور آپکی خصوصی نگرانی میں طریقت کی تمام منازل بڑی محنت وجانفشانی سے طے کیں۔ آپ نے نالوں کے ٹھنڈے پانیوں، پہاڑوں، غاروں، پاک وہند، کشمیر، عراق، حجاز مقدس اور دیگر ممالک کی بے شمار خانقاہوں میں ریاضات شاقہ اور نہایت مشکل چلے کاٹے جن کی مثال اس دور میں نہیں ملتی۔ آپ کے پیر ومرشد رحمة اللہ علیہ نے آپ کو اپنا روحانی بیٹا قرار دیا اور اپنے خلفاء میں سے صرف آپ کو تحریری خلافت عطا فرمائی اور دو بار آپ کو اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کرکے بغداد شریف بھیجا۔ بٹالہ شریف کے علاوہ آپ کو بغداد شریف کے تین نقیب الاشراف ہستیوں کی طرف سے علیحدہ علیحدہ خلافتیں عطا ہوئیں۔ 1. نقیب الاشراف سیدنا حضرت محمود حسام الدین الگیلانی البغدادی رحمة اللہ علیہ 2. نقیب الاشراف حضرت سیدنا ابراہیم سیف الدین الگیلانی البغدادی رحمة اللہ علیہ 3. نقیب الاشراف حضرت سیدنا احمد ظفر الگیلانی البغدادی مدظلہ العالی۔ علاوہ ازیں قطب مدینہ منورہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین مدنی رحمة اللہ علیہ، قدوة الاولیاء حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمة اللہ علیہ، حضرت محدث اعظم ہند کچھوچھوی رحمة اللہ علیہ، مفتی اعظم حضرت سید ابوالبرکات شاہ رحمة اللہ علیہ، سیدنا سالم گیلانی کلید بردار درگاہ عالیہ بغداد شریف رحمة اللہ علیہ، حضرت سیدنا سید یوسف السید ہاشم الرفاعی مدظلہ العالی اور دیگر بے شمار صوفیاء اسلام نے میرے والد گرامی رحمة اللہ علیہ کو مختلف سلاسل روحانیہ کی خلافتیں عطا فرمائیں۔ برادر طریقت مولانا محمد افضل بٹ ملازم واپڈا ڈویژن نمبر ١ گجرات نے اپنے تأثرات میں لکھا ہے

حضرت خواجہ پیر محمد اسلم قادری رحمة اللہ علیہ نے بتایا کہ حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے مجھے لوگوں کو سلسلہ غوثیہ میں بیعت لینے کا حکم دیا، تو میں نے عرض کیا حضور! میں اس قابل نہیں ہوں۔ تو حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو آ پ کے ہاتھ پر بیعت کرے گا وہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔” فرماتے ہیں اسکے بعد میں نے بیعت کا سلسلہ شروع کیا۔

حضرت جد امجد مولانا الحاج محمد نیک عالم قادری رحمة اللہ علیہ زندگی بھر مسجد مراڑیاں شریف میں مقامی اور مسافر طلبہ کو پڑھاتے رہے دو دو سو تک طلبہ آپ کے پاس ناظرہ قرآن سے لے کر درس نظامی کی انتہائی کتب پڑھتے تھے لیکن آپ نے دینی مدرسہ کیلئے مستقل عمارت تعمیر نہیں فرمائی۔ حضرت والد گرامی رحمة اللہ علیہ نے خواب میں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے حکم سے فروی 1958میں اپنے والد محترم کے انتقال کے بعد مراڑیاں شریف کے جنوب میں حضرت کے مزار اقدس سے متصل جامعہ قادریہ عالمیہ کی بنیاد رکھی ابتداء میں رقبہ صرف اڑھائی مرلہ تھا۔ الحمد للہ! آج اس ادارے کا رقبہ تقریبا 30کنال سے زائد ہے جس میں طلبہ وطالبات کیلئے علیحدہ علیحدہ پر شکوہ درسگاہیں اور عظیم الشان جامع مسجد وعید گاہ قادریہ عالمیہ تعمیر ہوچکی ہیں۔ اور مزید منصوبہ جات پر کام ہورہا ہے۔ اور تقریبا 1000مسافر طلبہ وطالبات کی فری خوراک فری رہائش اور فری تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ جامعہ قادریہ عالمیہ (قادریہ عالمیہ یونیورسٹی) سے ہزاروں طلبہ وطالبات فارغ ہوکر اندرون ملک وبیرون ملک اہم دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اور اس وقت پاکستان، کشمیر، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک میں 300 سے زائد شاخیں قائم ہوچکی ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہو رہاہے۔

آپ کے چند دیگر فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ آپ دینی امور میں بے پناہ محنت اور ریاضت ومجاہدہ کرنے والے بزرگ تھے۔ رات 1بجے سے لے کر چاشت تک عبادت میں مشغول رہتے بعد ازاں رات گئے تک عوام الناس کی اصلاح وارشاد اور جامعہ قادریہ عالمیہ کے انتظامات وتعلیم دین میں مصروف رہتے۔ اس اثناء میں قادیانیوں اور دیگر باطل فرقوں کے رد کا پورا اہتمام فرماتے اور جلسوں میں بھی شرکت فرماتے جامعہ قادریہ عالمیہ کے قیام میں کچھ لوگوں نے سخت اور بے حد مخالفت کی قاتلانہ حملہ بھی ہوا مگر آپ ہمیشہ ثابت قدم رہے اور کبھی نہیں گھبرائے آپ ہمیشہ مشکل سے مشکل حالات میں ڈٹ جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت آپ کے شامل حال رہتی تھی۔

آپ بے حد فیاض تھے، ہر طالب سلوک کو چاہے مرید ہو یا نہ ہو وظائف، عملیات اور نسخہ جات وسیع الظرفی کے ساتھ بتاتے اور نوٹ کراتے اور جس شخص میں تھوڑا سا روحانی ذوق دیکھتے اس کی روحانی تربیت فرماتے اور خوب خوب فیض رسانی فرماتے۔ سادات کا بے حد احترام کرتے، حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی سے بے حد عشق ومحبت رکھتے تھے اس لئے گیلانی سادات کا نسبتا زیادہ احترام کرتے اور نذرانے بھی پیش کرتے۔ ضرورتمند اور سائلین کی حسب توفیق ضروری مالی امداد کرتے۔ عرب شریف اور عراق سے جب مہمان آتے تو بے پناہ خدمت کرتے۔ خوشحالی سے پہلے عرب آپ کے پاس بکثرت آتے تھے اور آپ بے پناہ خدمت کرتے اور دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب دیتے۔

آپ درود شریف کے اپنے دور میں مبلغ اعظم تھے، بے شمار لوگوں کو درود شریف پڑھنے پر مامور کیا ہوا تھا اور خود بھی بار ہا درود شریف کے حلقے قائم فرماتے رہتے اور پریشان حال لوگوں کو زیادہ تر درود شریف کا وظیفہ بتاتے درود شریف خضری درود شریف ہزارہ درود غوثیہ درود تنجینا اور دیگر کئی درود شریف چھپوا کر اپنے پاس رکھتے اور سفر وحضر میں تقسیم فرماتے۔ مصائب اور شکایات کے لئے درود شریف کا درج ذیل عمل خاص خاص لوگوں کو تعلیم دیتے: 11ہزار بار درود شریف ہزارہ پڑھ کر کسی میٹھی چیز پر ختم دلایا جائے اور وہ میٹھی چیز بچوں میں تقسیم کی جائے، اس سے لوگوں کو فائدہ ہوجاتا۔ اور خاص ساتھیوں کو لاکھوں کی تعداد میں درود شریف کے مخصوص وظائف کی تعلیم دیتے۔ بلا مبالغہ آپ نے اپنی زندگی میں اربوں مرتبہ درود شریف پڑھا، یا پڑھوایا ہے۔
چند کرامات:

قرآن وسنت سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے صالح بندوں کو کرامات سے نوازا۔ حضرت والد گرامی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے بے شمار کرامات ومبشرات سے نوازا، جنہیں مختلف شعبہ زندگی کے معتبر حضرات قلم بند کر وارہے ہیں جس کی تفصیل آپ کی مفصل سوانح حیات میں شائع کی جارہی ہے۔ قارئین کیلئے چند ایک کرامات یہاں ذکر کی جارہی ہیں: ٭ 1423ھ میں مجھے والد گرامی رحمة اللہ علیہ کے ساتھ حج بیت اللہ وزیارت نبوی کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے قبلہ والد صاحب سے درخواست کی کہ میری صرف ایک ہی درخواست ہے آپ دعا فرمائیں کہ مجھے حضور سرکار مدینہ فداہ روحی وۖ کی سرپرستی اور نظر کرم نصیب ہوجائے، میں اس سفر میں ہر جگہ بار بار یہی دعا کرتا رہا۔ 8ذوالحج 1423ھ کو منیٰ میں حالت نیند میں مجھے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بڑی شاندار حاضری نصیب ہوئی اور بشارت ملی: ”تمہیں دوہری سرپرستی حاصل ہے۔” 14ذوالحج 1423ھ کا واقعہ ہے کہ حضرت والد صاحب کیساتھ مدینہ منورہ پہنچا۔ والد صاحب شدید علیل تھے، بے ہوشی کی کیفیت اور بے پناہ کمزوری تھی آپ کو ہوٹل میں ٹھہرایا اور مسجد نبوی میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری دی اس کے بعد ہوٹل آیا، اونگھ آئی تو مجھے بارگاہ نبوی میں حاضری نصیب ہوئی اور بشارت عطا کی گئی کہ ”مراڑیاں شریف کا مدینہ شریف کے ساتھ اتصال (رابطہ وتعلق) ہے۔”

Masjid Nabawi
Masjid Nabawi

٭ حضرت پیر سید عربی شاہ صاحب جو کہ عرصہ 35سال سے مسجد نبوی میں معتکف ہیں۔ صائم الدہر، قائم اللیل اور صاحب کشف وکرامات بزرگ ہیں، نے مدینہ منورہ روانگی سے پہلے جد امجد حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری رحمہ اللہ کے مزار پر پانچ ماہ کا چلہ کیا اپنے تحریری تأثرات میں فرماتے ہیں: میں نے اس چلہ کے دوران عجیب وغریب واقعات دیکھے، حضرت صاحب مزار رحمة اللہ ٰ علیہ کی نظر کرم اور حضرت خواجہ پیر محمد اسلم قادری کی تربیت سے بیشمار فیوض وبرکات حاصل کئے اور کئی بار رسول اللہ ۖ اور جناب غوث الاعظم رضی اللہ عنہ و دیگر اولیاء اللہ کی زیارت نصیب ہوئی۔

٭ آپ کے مرید صادق مولانا محمد افضل بٹ ملازم واپڈا ڈویژن نمبر١ گجرات وخطیب جامع مسجد محمدی محلہ مسلم پورہ سرگودہا روڈ گجرات نے اپنے تأثرات میں لکھا ہے کہ انہوں نے حضرت خواجہ پیر محمد اسلم قادری رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کی بیعت کی تو دل میں یہ خیال زور پکڑ گیا کہ پیر ومرشد کا مقام ومرتبہ کیا ہے اور اس خیال نے طوفان کی کیفیت بپا کردی لکھتے ہیں کہ 1985ء کا واقعہ ہے کہ دفتر میں فارغ اوقات میں سیرت فاروقی کا مطالعہ کررہا تھا کہ اونگھ محسوس ہوئی اور حضرت پیر ومرشد کی زیارت سے مشرف ہوا آپ نے فرمایا: ”بٹ صاحب تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے قطبیت عطا فرمائی ہے۔” میں نے عرض کیا حضور مجھے پتا نہیں تھا آنکھ کھلی تو پھر پہلے سے زیادہ غنودگی محسوس ہوئی تو پیر ومرشد نے فرمایا: ” بٹ صاحب اللہ تعالیٰ نے میرے سر پر قطبیت کا تاج رکھا ہے۔” یہ دو دفعہ فرمایا اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔

٭ مبلغ برطانیہ صاحبزادہ محمد دلشاد حسین قادری لکھتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: حضرت پیرومرشد! اولاد نہیں مل رہی بڑی مدت گزر گئی ہے تو پیر ومرشد مجھے دربار حضرت سلطان باہو لے گئے۔ مزار شریف پر اپنے ساتھ بٹھا کر مراقبہ فرمایا تو مجھے جاگتے ہوئے حضرت سلطان باہو رحمة اللہ
تعالیٰ علیہ کی زیارت نصیب ہوئی بڑی بڑی آنکھیں ہیں، چہرہ روشن ہے، فرماتے ہیں: ”خدا تجھے بہت جلد اولاد عطا فرمائے گا۔” چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خوبصورت بیٹا (محمد سعید المصطفیٰ) عطا فرمایا۔ حضرت پیر ومرشد نے فرمایا (میری زندگی میں) کسی کو نہ بتانا۔

٭ مولانا محمد افضل بٹ ملازم واپڈا ڈویژن نمبر١ گجرات نے اپنے تأثرات میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم ایک اونچی دیواروں والی بڑی حویلی میں ہیں اور اس میں بے شمار مخلوق حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا انتظار کررہی ہے، میں بھی قبلہ پیر ومرشد کے ساتھ ہوں۔ اچانک دیکھتا ہوں کہ سرکار دوعالمۖ کی پالکی آرہی ہے جسے کسی نورانی مخلوق نے اٹھایا ہوا ہے۔ پالکی دیوار کے باہر باہر آرہی ہے میں نے قبلہ پیر ومرشد کی بارگاہ میں عرض کی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پالکی آرہی ہے، آپ نے حویلی کے گیٹ کی طرف جانا شروع کردیا میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے جارہا ہوں۔ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طریقہ سے بھی برکت حاصل کرنے کے لئے ہمارے ہاتھ پالکی کو لگ جائیں میں نے بھی کوشش کی لیکن دیوار اونچی ہونے کی وجہ سے ہاتھ نہ لگا سکا۔ جب ہم گیٹ کے پاس پہنچے تو سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پالکی بھی وہاں پہنچ گئی اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پالکی سے باہر تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر سفید چادر کا حجاب ہے۔ قبلہ پیرومرشد صاحب نے آگے بڑھ کر دست بوسی کی اور حضور نبی کریمۖ نے آپ کو گاڑی میں بٹھا لیا، جبکہ آپ کے صحابہ کرام بھی گاڑی میں پہلے ہی بیٹھے تھے

گاڑی سٹارٹ ہوگئی میں نے سوچا کہ پالکی کو ہاتھ بھی نہ لگا سکا اور چہرہ مبارک کی واضح زیارت بھی نہیں ہوئی جب گاڑی چلنے لگی تو میں گاڑی کے پچھلے حصہ کے ساتھ چمٹ گیا اور گاڑی چل پڑی۔ تقریبا ایک میل گاڑی چلی ہوگی کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ میں گاڑی کے ساتھ چمٹا ہواہوں، ہنس پڑے اور فرمانے لگے اللہ کے بندے تو کہاں چمٹا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: بس ویسے ہی۔ آخر کار گاڑی چلتے چلتے ”جامعہ قادریہ عالمیہ” مراڑیاں شریف میں پہنچی اور حضور نبی کریم ۖ گاڑی سے باہر تشریف لائے مزار شریف کے بالکل قریب آئے اور فرمانے لگے: ”یہ کیسی پیاری جگہ ہے۔” اس کے بعد آپ ۖ ایک کمرے میں تشریف لے گئے اور آپ ۖ کے صحابہ بھی کمرے میں چلے گئے اور قبلہ پیر ومرشد مجھے فرمانے لگے: بٹ صاحب اور محنت کرو! اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔

وصال اور نماز جنازہ: آپ چند سالوں سے سخت علیل رہتے تھے لیکن ساتھیوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ 7ذوالحج 1424ھ بروز جمعة المبارک کو دائیں جانب فالج کے اثرات ظاہر ہوئے، دوسرے روز آپ کو ہسپتال داخل کروادیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ لے کے علاج تجویز کیا اور سات دن کے بعد گھر لے جانے کیلئے کہا۔ آپ گھر میں رہے لیکن طبیعت نہ سنبھل سکی پھر 24ذوالحج سوموار شام طبیعت میں بے حد کمزوری ہوگئی اور آپ کو رات کے وقت دوبارہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کروادیا گیا جہاں 25ذوالحج 1424ء / 17فروری 2004ء بروز منگل صبح 10بجے دنیا فانی سے رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اگلے روز 1بج کر 40منٹ پر آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں پاکستان اور بیرونی ممالک سے ہزارہا خواص وعوام نے شرکت کی، اخبارات کے مطابق یہ جنازہ گجرات کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ وفات کے بعد 29گھنٹے تک آپ کے نورانی چہرے کی شب وروز زیارت ہوتی رہی۔ حیرت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عام اموات کی رنگت میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے لیکن حضرت والد محترم کا چہرہ دوسرے روز پہلے روز کی نسبت زیادہ نورانی تھا اور اس نورانیت میں تدفین تک اضافہ ہی ہوتا رہا۔ آپکو نیک آباد میں آپکے والد محترم رحمة اللہ علیہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ عرس مبارک: آپ ہر سال 10محرم الحرام (عاشورہ) کو صبح 9 تا نماز ظہر ”شہادت کربلا کانفرنس” بڑی عقیدت کے ساتھ منعقد فرماتے تھے، آپ کا عرس مبارک بھی اس کانفرنس کے ساتھ انعقاد پذیر ہوتا ہے۔

Pir Mohammad Afzal Qadri
Pir Mohammad Afzal Qadri

تحریر: استاذ العلماء پیر محمد افضل قادری

Share this:
Tags:
Minister relationship teacher اعظم اللہ تعلق
Hazrat Imam Hussain AS
Previous Post سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ سلام
Next Post یکجہتی کے بغیر ترقی کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں، عبد المالک
Abdul Malik

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close