Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امان اللہ خان جہد مسلسل

April 27, 2016 0 1 min read
Amanullah Khan
Amanullah Khan
Amanullah Khan

تحریر : فہیم اختر
بین الاقوامی شہرت یافتہ حریت رہنما، خود مختار کشمیر کے حامی و جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین امان اللہ خان خودمختار کشمیر کی تحریک میں جان ڈال کر اپنی جان کی بازی 85سال کی عمر میں ہارگئے 1931میں گلگت بلتستان کے ضلع استور میں گرداور جمعہ خان کے ہاں پیدا ہوئے بزرگ حریت رہنما نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ‘گلگت بلتستان یونائیٹڈ آرگنائزیشن ‘سے شروع کی 1956-57میں قائم اس تنظیم کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد اور تحریک آزادی کشمیر کو منظر بنیادوں پر استوار کرنا تھا اس تحریک کے پہلے صدر بلتستان سے تعلق رکھنے والے محمد اسحق جبکہ جنرل سیکریٹری امان اللہ خان نے محمد اسحق ،جوکہ معرفی فائونڈیشن کے بانی بھی تھے ،سابق آئی جی پولیس سندھ افضل شگری کے چچا تھے گلگت بلتستان یونائیٹڈ آرگنائزیشن نے پہلی بار آزاد کشمیر میں اسمبلی اور اس اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی کا مطالبہ کیا تھا اس دوران امان اللہ خان خودمختار کشمیر کے حامی بن گئے اور اس نظریہ پر تاحیات قائم رہے۔

خودمختار کشمیر کے حصول کے لئے جدوجہد کا باقاعدہ آغاز امان اللہ خان نے 1963میں صدر پاکستان ایوب خان کے کشمیر معاملہ پر ‘کچھ لو اور کچھ دو’کی پالیسی کی مخالفت اور اس کے خلاف تحریک سے شروع کی اور ‘کشمیر انڈیپنڈینس کمیٹی ‘کی بنیاد رکھی اس کمیٹی نے کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کی سخت مزاحمت کی اس کو خلاف جمہوریت قرار دیکر ‘خودمختار کشمیر ‘کا مطالبہ کیا جنرل ایوب خان کی یہ پالیسی زوالفقار علی بھٹو اور سورن سنگ کی پانچ ملاقاتوں کے بعد ناکام قرار پائی جس پر حکومت پاکستان کشمیر میں رائے شماری کے مطالبے پر واپس آگئی اور کشمیر انڈیپنڈنس کمیٹی بھی غیر فعال ہوگئی 1964میں جموں کشمیر محاز رائے شماری کا قیام عمل میں لایا گیا امان اللہ خان اس نئی جماعت کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے جبکہ شہید مقبول بٹ سیکریٹری نشر و اشاعت منتخب ہوئے اس جماعت کا پہلا کنونش پاک بھارت سیز فائر لائن پر منعقد ہوا جس میں تمام عہدیداران نے وطن کی مٹی کو ہاتھوں میں لیکر اپنی جان اور وفاداری کی قسم کھائی جس پر چلتے ہوئے مقبول بٹ نے پھانسی کے پھندے کو چوم لیا اور امان اللہ خان بھی اپنی طبعی موت مر گئے لیکن اس وعدے سے پیچھے نہیں ہٹے 1966کو اس نئی جماعت کے پہلے اجلا س میں امان اللہ خان ، مقبول بٹ کے علاوہ گلگت سے اورنگزیب نامی جوان بھی شامل تھے جس کو خودمختار کشمیر کی جدوجہد میں پہلے شہید کا اعزاز حاصل ہوا۔

جموں کشمیر محاز رائے شماری کے ممبران نے ہی 1970کے قریب جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ نامی تنظیم قائم کی اس تنظیم نے اسی سوچ کے تحت انڈیا کے گنگا نامی جہاز کو اغوا کیا جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے جسم کو دوبارہ روح مل گئی اس ہائی جیک کے دوران حکومت پاکستان نے بھی بھرپور سپورٹ کیا بعدازاں 1971کو نیشنل لبریشن فرنٹ و محاز رائے شماری کے 350کے قریب ممبران کو گرفتار کیا گیا جبکہ مقبول بٹ سمیت 6افراد پر ہائی جیکنگ کیس کا مقدمہ چلایا گیا نومبر 1970کو امان اللہ خان گلگت بلتستان کے عوامی حقوق مانگنے کی پاداش میں جیل میں بند تھے بعد ازاں انہیں مشہور تخت مشق شاہی قلعہ لاہور منتقل کیا گیا جو کہ جسمانی زہنی اور مختلف قسم کے تشدد کے حوالے سے مشہور تھا اور یہی سلوک امان اللہ خان کے ساتھ کیا گیا۔

Jammu Kashmir Liberation Front
Jammu Kashmir Liberation Front

1977میں لندن میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا جس نے پہلا مطالبہ کیا کہ منقسم ریاست جموں کشمیر کی تمام اکائیوں جن میں وادی کشمیر ، جموں ، لداخ ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں کو باہم ملاکر ایک خودمختار ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے برطانیہ سے نکل کر یورپ ، امریکہ ، مڈل ایسٹ اور آزاد کشمیر میں تنظیم کی شاخیں قائم کی گئیں جبکہ 1987کو مقبوضہ کشمیر میں بھی اس کی شاخ کھولی گئی اور نظریہ خودمختار کشمیر کو بڑے پیمانے پر عام کیا گیا اس حوالے سے ترتیب شدہ لٹریچر بھی جگہ جگہ اور ہر شاخ تک پہنچایا گیا بیرون ریاستی سفارتی سطح پر احتجاجی مظاہرے شرو ع کئے گئے اور 3اکتوبر 1983کو اقوام متحدہ کی Visitors Gallery میں مسئلہ کشمیر اور خودمختاری کے حق میں زبردست نعرے بازی کی گئی اور تمام مندوبین میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے اس نعرے بازی اور مظاہرے کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا اور مسئلہ کشمیر کی گونج بین الاقوامی سطح تک پھیل گئی مظاہروں کو جاری رکھتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، ہالینڈ ، ڈنمارک اور جرمنی میں ایک ہی روز خودمختار کشمیر کے لئے نعرے بلند کئے گئے۔

امان اللہ خان نے اپنے نظریات اور خودمختار کشمیر کے جنون میں ہر قسم کے مصیبتوں اور مسائل کا سامنا کیا سب سے پہلی گرفتاری 1948میں اس وقت ہوئی جب وہ نہم کلاس کے طالبعلم تھے ۔1970سے 1972تک وہ انڈین ایجنٹ ہونے کے الزام میں گلگت میں گرفتار ہوئے 1985میں آپ لندن میں گرفتار ہوئے جبکہ 1986میں آپ کو لندن سے ڈی پورٹ کیا گیا امان اللہ خان اور اس کے جان نثاروںنے 1988میں بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر پر قابض ہونے کے خلاف باقاعدہ مسلح جدوجہد کیا۔1990میں بھارتی حکومت نے امان اللہ خان کا امریکی ویزہ کینسل کرادیا اور آپ کی گرفتاری کے لئے انٹرپول سے وارنٹ حاصل کیا جس کے نتیجے میں 1993کو انہیں بیلجیم سے گرفتار کیا گیا جب وہ یورپین یونین کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے موضوع پر ایک سیمینار میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔

اس تقریب میں فاروق عبداللہ اور بیلجیئم حکومت کے زمہ دار بھی شریک تھے جنہوںنے امان اللہ خان کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی بعدازاں بھارتی حوالگی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے انہیں رہا کردیا گیا۔ لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے انہوںنے چار مرتبہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو توڑنے کی کال دیدی 11فروری 1992میں چکوٹھی کے مقام سے لائن آف کنٹرول توڑنے کی کوشش میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں نے شرکت کی جس میں فوج کی فائرنگ سے 6نوجوان لقمہ اجل بن گئے۔

Human Rights
Human Rights

امان اللہ خان نے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لئے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر فورم پر آواز اٹھائی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لئے انہوںنے 17مہینے اور10سلاخوں کے پیچھے گزاردئے جبکہ پچیس دن اڈیالہ جیل میں قید کاٹی جس میں آزاد کشمیر و مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی شامل تھے امان اللہ خان ،مقبول بٹ اور دیگر کو گلگت سے تین بار علاقہ بدر کیا گیا،1964میں گلگت بلتستان میں دھاندلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔گلگت بلتستان سے متعلق 3کتابچے اقبال جرم 1970،گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت 1987،اور گلگت بلتستان کا مستقبل 1965بھی لکھا جبکہ ان کی سوانح عمری میں جابجا گلگت بلتستان کے عوام اور سیاسی رہنمائوںکا زکر ملتا ہے جبکہ یوم آزادی گلگت بلتستان یکم نومبر کو اکثر و مضامین اور مطالبات پہنچاتے رہے ۔انہوںنے گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر کے متعلق پانچ کتابیں فری کشمیر 1970(انگریزی)،جہد مسلسل اول ، جہد مسلسل دوم ، جہد مسلسل سوئم اور انڈیپنڈنٹ کشمیر (انگریزی ) بھی لکھی۔

خودمختار کشمیر اور کشمیر کے عوام کے لئے جدوجہد میں امان اللہ خان نے اپنے زبان ، قلم ،زہن ،عمل اور جسم کو بھی زیراستعمال رکھا ان کی زبانی جدوجہد میں کئی ایسے تقاریر موجود ہیں جنہوںنے جدوجہد آزادی کو دوام بخشا 1979میں ہونے والی مسلم تحاریک آزادی کانفرنس میں انہوںنے خطاب کیا جس کے بارے میں اس وقت کے مشہور صحافی وارث میر (حامدمیر کے والد)نے نوائے وقت میں لکھا تھا کہ اس کانفرنس میں 3تقریریں انتہائی اہم اور تعمیری تھیں ایک سوڈان کے صدر پروفیسر صادق المہدی ، ایران میں فلسطینی تنظیم الفتح کے نمائندے اور امان اللہ خان کی تقریر۔1986میں انہوںنے اسیری کے دوران عدالتی بیان کے دوران بھی ہندومہاسبھائیوں کے فسادات کے دوران مسلمانوں پر مظالم کا پردہ چاک کیا تھا۔

2003کو جنوبی ایشیاکے آزاد میڈیا کی تنظیمSAFMAکی طرف سے اسلام آباد میں سیمینار منعقد ہوا جس میں پاکستان کے علاوہ بھارت کے سینئرسیاسی رہنماء و صحافی بھی شریک تھے اس سیشن میں کسی سیاسی رہنما نے تجویز دی کہ کشمیر کے تین ٹکڑے کئے جائیں لداخ اور جموں کو بھارت میں ضم کیا جائے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کیا جائے اس تجویز کی بھارتی صحافیوں نے بھی تائید کی اس سیشن میں امان اللہ خان نے اپنے دلائل سے اس تجویز کورد کردیا اور تجویز کنندگان بھی امان اللہ خان کی تجویز کو ماننے پر مجبور ہوئے اس کے علاوہ انہوںنے کئی بار UNOکے تقریبات میں شرکت کی 1979کو اقوام متحدہ کے مرکزی سیکریٹریٹ نیویارک میں فلسطین ، افغانستان اور دیگر ممالک کے رہنمائوںنے کے ساتھ پریس کانفرنس کی جس نے ایوانوں میں زلزلہ مچادیا۔

Journalist
Journalist

امان اللہ خان حریت رہنما ہونے کے علاوہ صحافی ، مصنف اور شاعر بھی تھے انہوںنے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوںنے سرینگر سے میٹرک پاس کیا کشمیریونیورسٹی کے زیر اہتمام ہونے والے اس امتحان میں انہوںنے پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔1852میں امان اللہ خان پاکستان آگیا FSc ڈگری انہوںنے پشاور سے حاصل کی نومبر 1952میں کراچی منتقل ہوا اس دوران امان اللہ خان کو کئی ماہ تک فٹ پاتھ پر بھی سونا پڑا لیکن حصول علم سے پیچھے نہیں ہٹے اپنے زاتی معاملات بھی ٹھی کرنے کے بعد 1957میں گریجویشن مکمل کرلی۔ 85سال کی عمر امان اللہ خان نے جہد مسلسل میں صرف کیا 1948سے 2013تک انہوںنے درجنوں تنظیموں سے وابستگی کرلی جن میں گلگت سٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور ، گلگت بلتستان یونائٹڈ آرگنائزیشن کراچی ، گلگت بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی ، کشمیر سٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی ، کشمیر انڈیپنڈنس کمیٹی ، جموں کشمیر محاز رائے شامری ، جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ ، کشمیرکمیٹی برائے افریقی، ایشیاء اور لاطینی عوامی یکجہتی اور کل جماعتی کشمیر کمیٹی و دیگر شامل ہیں۔

امان اللہ خان مرحوم نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے کئی قیمتی خطوط لکھے 1992کو نظریہ خودمختار کشمیر کے مخالفین کے نام کھلا خط ۔1999میں بھارتی عوام کے لئے کھلاخط۔1996میں پاکستان کے سیاسی اور صحافتی زعما کے نام کھلا خط، بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام کھلا خط(1998)،پاکستان کے حکمرانوں اور دانشوروں سے 4سوال (2001)، آرپار کی عوام کے نام کھلا خط 2004،پاکستان کی قومی کشمیر کمیٹی کے نام کھلا خط (دو اقساط پر 2002میں ) سمیت کئی خطوط شامل ہیں ۔انہوںنے اپنا آخری خط بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو مشترکہ خط لکھا جس میں انہوںنے مسئلہ کشمیر کے پر امن ، معزز اور پر اثر حل کے لئے اپنے تجاویز پیش کئے خط کے آخر میں انہوںنے دونوں وزرائے اعظم سے معافی مانگتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘میں نے اپنے دستخط کے بجائے مہر کا استعمال کیا ہے جس پر معافی مانگتا ہوں کیونکہ میرا دائیاں بازوں بڑے عرصے سے مفلوج ہے۔

امان اللہ خان طویل عرصے سے پھیپھڑوں اور دل کی بیماری میں مبتلا تھے منگل کے روز راولپنڈی میں انتقال کرگئے وصیت کے مطابق ان تدفین گلگت میں ہوگی ان کی وفات پر جموں کشمیر ، مقبوضہ کشمیر ، گلگت بلتستان اور پاکستان کے سیاسی رہنمائوں نے گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کیا جبکہ جے کے ایل ایف کے چیئرمین نے اس دن کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Faheem Akhtar
Faheem Akhtar

تحریر : فہیم اختر

Share this:
Tags:
fame Gilgit kashmir leadership pakistan people police بلتستان پولیس چیئرمین رہنما شہرت عوام کشمیر
Previous Post سی سی پی اور صادقین آرٹ سپیکٹرم کے زیر اہتمام سپرنگ آرٹ فیسٹیول کا انعقاد
Next Post روٹری کلب پولیو کے خاتمہ کیلئے دنیا بھر میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والا واحد اداراہ ہے۔ ساجد پرویز
Rotary Function

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close