Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امریکہ فاشزم کے بھوت تلے

June 11, 2016 0 1 min read
Election
Election
Election

تحریر: راحت ملک
2016 کاسال دور رس تبدیلیوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے کہ نومبر کے مہینے میں متحدہ امریکہ میں صدارتی انتخاب ہوگا۔

دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے کے لئے جاری انتخابی دوڑ میں جون کے پہلے ہفتے میں واضح ہوگیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن کے جبکہ ہیلری کلنٹن ڈیموکریٹ کی امیدوار ہوں گی ۔امریکہ کے صدارتی انتخاب کا طریقہ انتہائی پیچیدہ پہلودار اور منفرد ہے دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اسے قابل تقلید نہیں بنایا گیا شائد بلکہ اسکی وجہ امریکہ کی کثیر، متنوع، سماجی ثقافتی اور لسانی ساخت ہے جس سے امریکی مدبرین نے اپنے مخصوص معاشرتی ماحول اور سیاسی تناظر میںاپنے لئے منفرد جمہوری نظام ترتیب دینے کی ترغیب لی۔چنانچہ امریکہ کے سیاسی نظام نے باوجود تضادات اور اختلافات کے اب تک وفاق نما کنفیڈریسی کو قائم رکھا ہے۔ وفاق کی ریاستوں کو اپنے معاملات چلانے کی آزادی کی آخری منزل یہ ہے کہ کئی ریاستیں اپنے اپنے علیحدہ آئین رکھتی ہیں جو بہر حال مرکزی دستور کے منافی و متصادم دفعات سے مبرا ہیں۔

صدارتی انتخاب میں کوئی بھی شہری امیدوار بن سکتا ہے تاہم مقبول روایت اورفتح مندی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کسی ایک کی نامزدگی حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اور یہ نامزدگی بھی مذکورہ جماعت کے قائدین کی بجائے بنیادی عوامی رائے یا جماعتوں کے بنیادی ارکان کی دستیاب حما عت سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن امیدوار بن جائیں کیونکہ ری پبلکن کے بزرگ اور ممتاز رہنما اسے پارٹی کا بنیادی رکن بھی تسلیم نہیں کرتے۔ خیر سر دست میرا مقصدامریکی صدارتی انتخاب کے طریقہء کے جائزے کی بجائے اس انتخابی مہم کے خیالات و مابعد اثرات کے ایک ایسے پہلو پر بات کرنا ہے جس سے مجھے اور شائد لاکھوں افراد کو دلچسپی ہو گی۔

2016 کے انتخابات کے لئے امریکی ڈیموکریٹ کے ممتاز رکن سینیٹر برنی سینڈرس نے جو نیویارک کے نواحی علاقے میں اگست 1941کو پیدا ہوئے پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لئے بھرپو ر پارٹی مہم چلائی۔ گو کہ برنی اب صدارتی نامزدگی مہم سے دستبردار ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنی مہم کے دوران جن خیالات و تصورات کا پرچار کیا وہ دور رس اہمیت کے حامل ہیں۔ برنی نے امریکی معیشت کے روائتی رواں کردار کو 180ڈگری پر بدلنے کی بات کی اور برملا کہا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو ئے تو امریکہ کی معاشی حکمت اور معاشی سانچے کو یکسر بدل دیں گے۔ برنی صدارتی نامزدگی مہم کے بہت سے مراحل طے کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن کے بعد دوسرے اہم امیدوار بن کر ابھرے تھے۔ دستبرداری کے با وجودیہ پہلو ہی قابل ستائش، حوصلہ افزاء اور دنیا کے لئے قابل غور ہے کہ اس امریکہ میں جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد میکارتھی ازم کے نام پر سوشلزم کے خلاف انتہائی سخت گیری ، رویہ و اقدامات اٹھائے گئے۔ نیز امریکہ نے عالمی سرمایہ دارانہ شکنجے کی قیادت کرتے ہوئے سوشلزم کی مخالفت میں دامے درمے قدمے سخنے اپنے اور اتحادیوں کے تمام وسائل بے دریغ خرچ کئے۔ برنی سینڈرس اسی سرزمیں پر سوشلزم کے ہمنوا بن کر صدارتی معرکہ آرائی کے نمایاں فرد کی حیثیت میں ابھرے۔

Bernie
Bernie

برنی نے نامزدگی مہم سے دستبرداری کرکے کسی کو حیران نہیں کیا مگر اسی دوران اپنے معاشی ایجنڈے کے برملا اظہار سے جہاں انہوں نے دنیا بھر کے اہل الرائے کو متوجہ کیا وہاں برنی نے امریکی معاشرے کے سیاسی ایجنڈے کو بھی اتھل پتھل کر دیا۔برنی کا صدارتی نامزدگی میں سوشلزم کی حمایت کرنا ہی تاریخ کا یادگار عمل اور نئی تبدیلی کا نکتہء آغاز ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ آغاز بہت جاندار ہونے کے باوصف تاریخی اعتبار سے قبل از وقت واقعہ ہے جس کا عملی شکل میں ڈھلنالمحہء موجود میں ممکن نہیں تھا، ہاں یہ کہنا ددرست ہوگا کہ عالمی سرمایہ داری نظام کی کمیت کیفیتی تبدیلی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ امریکی عوام نے برنی کے خیالات اور نئے پیغام کو توجہ سے سنا اور اسے سراہا اس سے دو نتائج اخذ کرتا ہوں

الف۔ سرمایہ دارانہ معاشی نظام بہ الفاظ معاشی دولت کی تقسیم کا رائج نظام عملی دولت کے ارتکاز کرنے کے تسلسل کے بعدسماجی سطح پر پیداواری عمل کو برقرار رکھنے میں ناکامی کا اعتراف کرچکا ہے۔ برنی اسی اعتراف کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

ب۔ امریکہ جیسے سرمایہ دارانہ معاشرے میں جہاں قدامت پسندانہ معاشی سماجی رجحانات اور سوشلزم مخالفت کا کٹر پن مستحکم بنیاد رکھتا تھا وہاں کی رائے عامہ اگر رائج نظام کے خلاف متبادل نظام کو اپنانے کے لئے آمادہ ہے تو اسکے اسباب محض لوگوں کی سیاسی وابستگی نہیں بلکہ اس کی وجہ مروجہ معاشی نظام سے عوام کا بدظن ہونا اور اس کی ہولناکیوںو نا انصافیوںسے دل برداشتہ ہونا بھی ہے۔ برنی اسی برگشتگی کی نمائندگی کر رہا ہے۔

بہ الفاظ دیگر امریکہ میں سیاسی حوالے سے ملکی معاشی تناظر میں سوشلزم کی جانب سرکنے یا متوجہ ہونے کی علامت ابھرتی دکھائی دے رہی ہے تو یہ خوش آئند منظرنامہ زیادہ سنجیدگی سے امریکی سماج میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کا بھی متقاضی ہے کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی روائتی حریف ری پبلکن جماعت اپنے قیام کے اولین ایام میں ‘ انقلابی ‘ تھی بعد از اں اس کا جنگی جنون قدامت پسندی اور بالا دستی کے خبط نے اس کی ساخت اور شناخت کو بری طرح متاثر کیاتھا۔عمومی رائے کے مطابق امریکہ میں ری پبلکن کا اقتدار دنیا بھر میں جمہویت مخالف، جنگی جنون و فوجی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب سمجھا و تسلیم کیا جاتا ہے۔تاہم ری پبلکن پارٹی قدامت پسندی کے تنگ دھارے میں آگے بڑھتے ہوئے کبھی نسل پرست کی شکار نہیں ہوئی ( ہماری معلومات کی حد تک ) لیکن رواں صدارتی انتخابی عمل نے واقعات اور معروضی صورت حال کو بدل دیا ہے۔ امریکہ جسے آزادی اور مواقع کی سرزمین سمجھا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ اس ریاست میں رنگ نسل زبان عقیدہ اور ثقافت کا تنوع ہی امریکہ کی خصوصی شناخت و طرہء امتیاز ہے وہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا قومی شاونشٹ اپنی بے پناہ دولت اور کھلنڈرے پن کی بناہ پر اچانک سیاسی افق پرنمودار ہوا اور ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی مہم میں اپنے سب حریفوں کو پیچھے چھوڑ گیاہے۔

Hillary Clinton, Donald Trump
Hillary Clinton, Donald Trump

آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ نومبر میںجب صدارتی انتخاب کا معرکہ سجے گا تو میدان میں ہیلری کلنٹن کے مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ ہی دو طاقتور حریف صف آراء ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نامزدگی کے زریعے ری پبلکن پارٹی کو مزید انتہائی دائیں جانب دھکیلے گا اور معاشرے کو نسلی شدت پسندی، قومی تنگ نظری و نسلی شائونزم اور امریکی تارکین وطن کے ساتھ تصادم کی جانب لے جائے گا۔ ایسا محض ڈونلڈ کے خیالات کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس عمل کی ٹھوس معروضی معاشی و سماجی وجوہات ہیں جنہیں ڈونلڈ نے محسوس کیا اور اپنے انتخاب کے لئے اب تک موثر طور پر استعمال کیا ہے۔گویا ڈونلڈ نے معروضی حقیقت طشت از بام کی ہے کہ امریکی سرزمین اب روایتی مواقع کی سرزمین نہیں رہی بلکہ وہاں پیداواری اور تقسیم دولت کے سلسلے میںگہرے تصادات و ٹھرائو آگیا ہے چنانچے سرمایہ داری اور مقامی امریکیوں کی اجارہ داری دونوں زوال پذیر ہیں ۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جس آزاد دنیا کی کامیابی کے نعرے بلند ہوئے تھے برنی اور ڈونلڈ دونوں ان خوشنما دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں تو اسکے معنی یہ ہیں کہ امریکی داخلی سیاسی رجحانات تیزی سے سوشلزم اور قومی شاوئنزم کی جانب بڑھ رہے ہیں یعنی خدشہ ہے کہ یہ دونوں رحجان یکجا ہوکر قومی سوشلزم کا وہی لبادہ اوڑھ سکتے ہیں جس کی جھلک دنیا نے جرمنی میں ہٹلر کی صورت دیکھی تھی۔

ایک جانب امریکی معیشت میں گراوٹ اورٹھہرائوکے آثار اوردوسری سمت معاشی قوت و مرکز کے طور پر ایشیائی خطے کا نمایاں ظہور بہت طاقتور مظہر ہیں جن کے حوالے سے برنی و ڈونلڈ کے خیالات کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے۔ داخلی اعتبار سے بھی امریکی معیشت تضادات کے گورکھ دھندے میں اُلجھی ہوئی ہے ۔ جہاں صلاحیت و ہنرمند افراد کی قلت اور تنخواہوں میں اضافے سے معلوم ہوتا ہے کہ معیشت کا غیر منصوبہ بند پہیہ آگے کی بجائے پچھلی سمت چل رہا ہے۔اگر قومی تنگ نظری اور شائونزم کے آثار فی الحال سامنے نہ آتے تو بذات برنی کا اظہار فی الواقع مثبت عمل ہوتا۔ ڈونلڈ نے اس عمل کی افادیت کو دھندلا دیا بلکہ خوفناک سا بنا دیا ہے۔ مستقبل قریب میں ہو سکتا ہے کہ2022 کے انتخاب میں کوئی اصلی امریکی ہٹلر پورے طمطراق کے ساتھ صدارتی انتخاب میں اترے اور کامیابی سے وہایٹ ہائوس کا مکین بن جائے۔

Donald Trump
Donald Trump

تب دنیا پہ کیا بیتے گی؟ اس پر ابھی سے غور و فکر کرنا چاہئے۔ڈونلڈ مذھبی شدت پسندی اور فرقہواریت کے آسیب کی شکل میں امریکی وتمام مسلمانوں کا کٹر مخالف ہے جس طرح ہٹلر یہودی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ڈونلڈ میکسیکو اور دیگر غیر یورپی تارکین وطن کا مخالف اور ان کی موجودگی سے خوفزدہ ہے،اسی خوف کے بطن سے وہ ردِعمل سامنے آسکتا ہے جو امریکہ میں نسلی لسانی ثقافتی تطہر کے ذریعے پُر تشدد کشیدگی میں بدل جاتے،اس پُر کو جمود شدہ معاشی عمل مہمیز کرنے کے بعیدازقیاس نیں کہ ”معاشی سانچہ” قومی سوشلزم کے نعرے میں بدل جائے۔یوں دونوں رحجانات باہم یکجا ہوکر امریکی فسطائیت کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔برنی اور اس کے ہم خیال ملتے تو اس منفی امکان ورویے کو ملحوظ رکھتے ہوتے۔امریکہ میں وسیع تر ثقافتی لسانی اور مذھبی تنوع کو برقرار رکھنے کے لئے ڈونلڈ کے اثراتِ بد سے بچنے کیلئے ابھی سے محتاط اندازوحکمت عملی اپنانی چاہیے

مرتکز شدہ سرمائے کے سب سے بڑے ایک امریکی معاشرے کی معاشی کیفیت سے متعلق واشنگٹن کے صحافی سام فلیمنگ لکھتے ہیں” امریکہ میں متعدد شعبہ جات میں ہنرمندوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بے روزگاری کی شرح کم ہوکر 4 فیصد کی طرف جا رہی ہے جبکہ کام کرنے کی عمر میں موجودہ آبادی میں کچھ اضافہ نہیں ہو رہا۔ پچھلے 16 برسوں میں کسی آسامی کو پر کرنے میں اتنا زیادہ وقت نہیں لگتا تھا جتنا آج (2016ًَٔ) میں لگتا ہے جبکہ لوگوں کا خود اپنی ملازمت چھوڑنے کا تناسب بھی 2007 کے معاشی بحران کے بعد سب سے زیادہ ہے ایسے میں با صلاحیت ہنرمندوں کی تلاش میں درپیش مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جس کی بنا پر تنخواہوں میں اضافہ جبکہ تجارتی منافعوں میں کمی ہو رہی ہے۔ ”

Economic
Economic

مزید اعداد و شمار اور معاشی اشارے بھی امریکی معیشت اور معاشرتی بحرانی کیفیت کو نمایاں کرتے ہیں دریں حالات برنی اگر سوشلزم کا پرچار کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معیشت کی آزاد روی کے تدارک اور منصوبہ بند معیشت کے زریعے ہنرمند افراد کی فراہمی و کھپت میں توازن کے زریعے تجارتی منافعوں میں توازن قائم کیا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ دوسری طرف ڈونلڈ ہنرمند با صلاحیت امریکی افراد کی کمی سے نمودار ہوتے خلاء میں ایشیائی،لاطینی اور افریقی افراد کی کھپت سے پریشان ہے۔ اور اسے یقین ہے کہ تارکین وطن کی مسلسل آمد سے آج کے ” امریکی ” آنے والے کل میں ریڈ انڈین بن سکتے ہیں، یوں سفید فام یورپیوں کی براعظم امریکہ پر قبضے سے اصل سرخ فام باشندوں کی طرح غائب ہو سکتے ہیں۔ تاریخ خود کو المیے کی صورت دُھرا سکتی ہے۔ تاہم دونوں مسائل کا باہمی تضاد یہ ہے کہ ہنرمند افراد کی سستے داموں ( کم اجرت )پر فراہمی تبھی ممکن ہے کہ تارکین وطن کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ تجارتی منافع میں استحکام لایا جاسکے۔ مگر اس طرح تو امریکی اقلیت میں بدل سکتے ہیں ڈونلڈ اسی خوف کا ڈرائونا نام ہے سو دریں حالات امریکہ میں قومی سوشلزم یا فاشسٹ سیاست کا عروج و اقتدار تک پہنچنا بعد از قیاس نہیں۔ بدلتے امریکہ کے ساتھ دنیا کس طرح ساتھ دے پائے گی اس امکانی خطرے بارے آج ہی سوچئے۔

تحریر: راحت ملک

Share this:
Tags:
america changes comfort Nomination Presidential Election spirit امریکہ بھوت تبدیلیوں صدارتی انتخاب نامزدگی
Mohammad Imran Salafi
Previous Post مصطفی آباد/للیانی کی خبریں 11/4/2016
Next Post تقدس رمضان
Ramadan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close