
امریکی (جیوڈیسک) صدر براک اوباما نے کانگرس کے رہنماؤں کو شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں توسیع سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے وائٹ ہاؤس میں ملکی کی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کو آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔
یہ مشاورت بدھ کو امریکی صدر کے متوقع خطاب سے قبل کی گئی ہے۔ امکان ہے کہ وہ خطاب میں وہ اس معاملے کو امریکی عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے کانگرس رہنماؤں سے ملاقاتوں کو مثبت قرار دیا اور کہا ہے کہ براک اوباما کے پاس دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے۔
ایک برس قبل امریکی قانون سازوں نے براک اوباما کوشام میں میزائل حملوں سے روک دیا تھا۔ تب سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام اور عراق کے بڑے حصہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ جون میں دولتِ اسلامیہ نے خلافت کا اعلان کرتے ہوئے اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان بھی کیا تھا۔
گذشتہ ماہ دولت السلامیہ کے جنگجوؤں نے امریکی صحافیوں کو عراق میں کیے جانے والے امریکی فضائی حملوں کے انتقام میں قتل کر دیا تھا۔ امریکی صدر اوباما نے امریکی فوج کی زمینی کارروائی کو خارج از امکان قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا فضائی حملوں میں توسیع کی جاسکتی ہے۔
رائے عامہ کے ایک جائزہ کے مطابق امریکیوں کی بڑی تعداد دولتِ اسلامیہ کو امریکہ کے لیے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اور وہ شام اور عراق میں فضائی حملوں کے حق میں ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ 100 کے قریب امریکی شہری بھی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ ادھر فرانس نے اعلان کیا ہے 15 ستمبر وہ عراق کے بارے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند اس ہفتے کے آخر میں عراق کا دورہ بھی کریں گے۔
