
ٹوکیو (جیوڈیسک) ناگاساکی جنوبی جاپان کی ایک بڑی بندرگاہ تھی اور جنگ کے دنوں میں اس کو کلیدی اہمیت حاصل رہی۔ اس صنعتی شہر میں جنگ کے لئے بھاری اسلحہ بھی تیار کیا جاتا تھا۔ ایٹم بم گرانے سے پہلے امریکا یہاں پر روایتی بمباری کرتا رہا جن کا مقابلہ جاپانی فوج کرتی رہی۔
ہیروشیما کے برعکس ناگا ساکی کی عمارات بہت جدید طرز کی نہیں تھیں۔ جس وقت امریکا نے اس اہم شہر پر جوہری بم گرایا تو وہاں 2 لاکھ 63 ہزار افراد موجود تھے۔ ان میں 2 لاکھ 40 ہزار جاپانی شہری تھے ، 10 ہزار کورین باشندے ، 2500 کوریا کے ورکرز ، 600 چینی کارکن ، 9 ہزار جاپانی فوجی اور 400 اتحادی افواج کے قیدی تھے۔
امریکی حکام نے بم گرانے کی تاریخ 11 اگست مقرر کر رکھی تھی ، لیکن دس اگست کو موسم خراب ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی اس لئے یہ کام 9 اگست کو ہی کر دیا گیا۔ امریکی فورس کا ایف ۔31 اس مشن کے لئے چنا گیا تھا۔ یہ طیارہ فیٹ مین کو لے کر صبح تین بج کر انتالیس منٹ پر روانہ ہوا۔
جاپانی وقت کے مطابق صبح سات بج کر پچاس منٹ پر ناگا ساکی میں ہوائی حملے کے سائرن بجائے گئے تا ہم ساڑھے آٹھ بجے خطرہ ختم ہونے کا سگنل دے دیا گیا۔ گیارہ بج کر ایک منٹ پر کپتان کیرمیٹ بیہان نے ہدف پر بم گرانے کا حکم دیا اور چودہ پاونڈ وزن کا پلوٹونیم جاپان کے صنعتی شہر ناگا ساکی پر گرا دیا گیا ، جو 47 سیکنڈز کے بعد زمین پر موجود ایک ٹینس کورٹ کے 1650 فٹ اوپر فضاء میں پھٹ گیا۔ اس سے 3900 سنٹی گریڈ کی شدت والی حرارت پیدا ہوئی۔ لٹل بوائے کی نسبت جو ہیروشیما پر گرایا گیا یہ بم زیادہ پاور فل تھا ، لیکن علاقے کے پہاڑی ہونے کی وجہ سے ہلاکتیں کم ہوئیں۔ چالیس ہزار تو موقع پر مارے گئے ، باقی تابکاری اثرات سے مر گئے۔
یہ تعدا د مجموعی طور پر 80 ہزار بتائی گئی۔ شائد بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ امریکا جاپان پر مزید ایٹم بم گرانے کا پروگرام بھی رکھتا تھا جس کے مطابق ایک جوہری بم 19 اگست کو گرایا جانا تھا، جب کہ مزید تین بم ستمبر اور تین ایٹم بم اکتوبر میں پھینکے جانے تھے، لیکن عین وقت پر اس مشن کو ختم کر دیا گیا۔ اگر امریکا اپنے اس خوفناک منصوبے پر عمل کرتا تو شائد جاپان صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہوتا۔
