
واشنگٹن (جیوڈیسک) امریکی حکومت اسکول اور کالجوں میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات روکنے میں ناکام ہوگئی۔ دس سال کے دوران طلبا سے زیادتی کے واقعات میں 51 فیصد اضافہ ہوگیا۔
دنیا بھرمیں دہشت گردی کے خاتمے کا بیڑا اٹھائی امریکی قوم خود اپنے اسکولوں میں جنسی ذیادتی کے واقعات روکنے میں ناکام ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق امریکی اسکول اور کالجوں میں جنسی جرائم کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی اسکولوں اور کالجوں میں طلبا کے تحفظ پر اٹھتے سوالات کے جواب میں ایک سالانہ سروے رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس کے مطابق امریکی تدریسی اداروں میں جنسی جرائم کی شرح ماضی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ امریکی معاشرہ جو کہ ایک آزاد خیال معاشرہ تصور کیا جاتا ہے، اس اخلاقی برائی کو روکنے میں تاحال ناکام ہے۔
سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2011 میں جنسی زبردستی کے 3 ہزار3 سو 30 کیسز رجسٹر ہوئے، یہ تعداد پچھلے دس سالوں میں رپورٹ ہوئے۔ ایسے واقعات سے 51 فیصد ذیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2012 میں ہزار طلبا میں سے کم از کم 52 طلبا کوجنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے بجائے شہری علاقوں میں یہ جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ان واقعات لڑکیوں کےبجائے لڑکے زیادہ متاثر ہوئے۔ سروے کے مطابق جنسی جرائم کے علاوہ طلبا میں خودکشی کے رجحانات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب سال 2011 میں امریکی اسکولوں میں پیش آنے والے مختلف واقعات میں 11 طلبا اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اخلاقی پستی کا شکار امریکی معاشرہ مختلف نفسیاتی امراض کی زد میں بھی ہے جس کا ثبوت آئے روز امریکی اسکول اور کالجوں میں فائرنگ کے بڑھتے واقعات ہیں۔
