
نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے بھارتی فوج کو ہدایت کی ہے کنٹرول لائن پر کسی قسم کی دراندازی کا دندان شکن جواب دیا جائے، پاکستان کنٹرول لائن پر کشیدگی پھیلا کر ہمارے صبر کا امتحان نہ لے، بھارت اپنی سرحدوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور فائرنگ کی آڑ میں مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
نئی دہلی میں ارون جیٹلی کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں وزارت دفاع کے اعلی حکام، سیکرٹری دفاع اور فوج کے سربراہ ، قومی سکیورٹی کے صلاح کار اور فوج کی تینوں کمانوں کے سربراہان بھی شامل تھے۔ اجلاس میں ملک میں امن و سلامتی کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے وزیر دفاع کو کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور فائرنگ کے واقعات سے آگاہ کیا۔
بھارتی آرمی چیف نے الزام عائد کیا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کشیدہ ہے، پاکستانی فوج بلاجواز فائرنگ کر رہی ہے۔ وزیر دفاع نے فوج کو کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے کی ہدایت دی اور کہاکہ فوج کو یہ اختیارات دے دیئے ہیں کہ وہ مناسب طریقے سے پاکستانی جارحیت کا دندان شکن جواب دے اور ماحول اور وقت کی مناسبت سے ہی جوابی کارروائی کریں تاکہ اس پار بھی یہ پیغام چلا جائے کہ بھارت اپنی سرحدوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
مرکزی وزیر دفاع نے لائن آف کنٹرول کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر صورتحال باعث تشویش ہے لہذا ہم اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ وزیردفاع نے مزید کہاکہ سرحد پار سے دراندازی کے لئے مجاہدین کی ایک بھاری تعداد موجود ہے اور وہ موقعے کی تلاش میں ہے کہ کب انہیں موقع ملے گا کہ وہ کشمیر میں دراندازی کر سکیں۔
