
برسلز (جیوڈیسک) غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغانستان میں نیٹو کے سینیئر نمائندے Maurits Jochems اور افغان قومی سلامتی کے مشیر رنگین سپاٹا کے درمیان مذاکرات کابل میں شروع ہوگئے ہیں۔
جس میں 2014 کے آخر میں اتحادی فوج کے انخلا کے بعد نیٹو فوج کی کچھ تعداد رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیٹو چاہتی ہے کہ افغان فوجیوں کی تربیت کے لیے اس کے 8 سے 12 ہزار تک فوجی افغانستان میں موجود رہیں۔
اس سے قبل امریکا اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ طے پایا تھا جس کی توثیق افغان گرینڈ جرگہ نے بھی دی تھی تاہم افغان صدر کے دستخط سے انکار کے باعث معاہدہ سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔
توقع ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی پہلے امریکا اور اس کے بعد نیٹو کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں گے۔
