Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

29 مئی آسیہ اور نیلوفر کی بے بسی کا دن

May 30, 2016May 30, 2016 0 1 min read
Asiya and Neelofer
Asiya and Neelofer
Asiya and Neelofer

تحریر : سعد سالار
یہ بات لاریب ہے کہ پچھلے ساٹھ سالوں میں جموں کشمیر کی تاریخ کا ہر باب ظلم و ستم، خوف و دہشت، قتل و غارتگری، انسانیت کی پامالی، آہوں اور چیخوں کی کربناک صداؤں، دلخراش و دلسوز واقعاتوں اور بھیانک و جگرسوز مناظروں سے بھرا پڑا ہے۔ ان ساٹھ سالوں میں کہی بے گناہوں کو جرمِ بے گناہی میں پیوندِ خاک بنایا گیا تو کہی بے کسوں کو دارورسن کی گود میں بٹھایا گیا، کہی اسکولی بیگ اُٹھائے بچے کی زندگی کا چراغ گُل کردیا گیا تو کہی اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے آواز اُٹھانے والے کو پسِ دیوار زندان خانے کے حوالے کر دیا گیا، کہی بستیوں کا تاراج کیا گیا تو کہی بستیوں میں بسنے والوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیا، کہی ابنِ آدم کو مشقِ ستم بنایا گیا تو کہی بنتِ حوا کی ناموس چھیتڑوں کی طرح ہوا میں اُڑائی گئی، کہی دن کی روشنی میں سرزمینِ کشمیر خونِ آدم سے لالہ زار ہوئی تو کہی رات کی تاریکی میں عزت و عصمت کا جنازہ نکالا گیا، کہی بوڑھے باپ نے اپنے بیٹے کی جوان لاش کو اپنے کپکپاتے کندھوں پہ اُٹھایا تو کہی ماں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو لحد میں اترتے دیکھا، کہی لاپتہ بھائی کا راستہ تکتے تکتے بہن کی آنکھیں پتھرا گئی تو کہی بھائی نے بہن کی آہوں اور چیخوں کو ہوا میں تحلیل ہوتے دیکھا، کہی کشمیر کی گود میں بسنے والوں کی حالت زار پر کشمیر کو سینہ کوبی کرتے دیکھا گیا تو کہی خونِ ناحق سے رنگین ہوکر جہلم کو ماتم کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

غرض کشمیری قوم نے اس عرصے میں ان گنت اور لاانتہا ظلم کے نہ تھمنے والے دور کا مشاہدہ کیا اور حق یہ ہے کہ کشمیری قوم کو دبانے کے لئے جبر کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے گئے لیکن یہ کشمیری قوم ہی تھی جس نے بُنیان المرصوص بن کر بادِ مخالف کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا۔ تاریخِ کشمیر گواہ ہے کہ غلامی کی طویل اور سیاہ رات کا سینہ چاک کرنے کے لئے قوم کو بے انتہاقربانیاں دینی پڑرہی ہے جن کا تصور کر کے ہی رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب کشمیری قوم کے پیدایشی حق پر شب خون مارا گیا اور پوری قوم کے جذباتوں، ارمانوں، امنگوں اور خواہشوں کو جبر کے خنجر سے ضرب دے کر ذبح کیا گیا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ اب کشمیر کے اُفق پر ظلم کی ایسی آندھی چلے گی جس سے روحِ کشمیر کانپ اٹھے گی اور یہاں کے دشت و جبل، بحروبراور عرش و فرش ایسے دلخراش مناظر کے چشم دید گواہ بن جائینگے جن مناظر کا کسی مہذب دنیا نے تصور نہ کیا ہوگا۔ یوں تو کشمیر ی قوم نے اپنی مبنی بر حق جدوجہد کو منزل مقصود سے درکنار کرنے کے لئے ایسی قربانیاںدیں جو صرف زندہ قومیں دے سکتی ہیں ، یہاں ماں کی گود سے بیٹے کو چھین کر کسی چوراہے پر قتل کر کے پھینک دیا گیا مگر ماں نے اُف تک نہ کی، یہاں آشیانوں کو راکھ میں تبدیل کیا گیا مگر لوگوں نے آہ تک نہ کی، یہاں لاکھوں جوانوں کو زمین کا پیوند بنا دیا گیا مگر کبھی کسی نے آنسوؤں کو نہ بہنے دے کر قوم کے حوصلوں کو شرمندہ نہ کیامگر اس بد نصیب قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے سانحات رقم کئے گئے جن کی وجہ سے پوری قوم خون کے آنسو روپڑی۔ کشمیر کی وہ کون سی آنکھ ہے جس نے ان دلسوز واقعاتوں پہ آنسوؤں کے بدلے خون نہ بہایا ہو۔ کشمیری تاریخ کے ان سانحات میں ایک ایساسانحہ جس نے قوم کو ایسا گھاؤ دیا جس کا درد تقریبََا بیس سال گذرجانے کے بعد بھی کشمیر کے بچے ، بوڑھے، جوان ، مائیں اور بہنیں اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔

Protest
Protest

سانحہ ”کنن پوشہ پورہ” جس میں عزت کی رداؤں اور عصمت کی قباؤں کو بے رحم ہاتھوں نے رات بھر تار تار کیا ،کشمیری قوم کی اُن عزت مآب ماؤں اور بہنوں کی جگرسوز داستان ہے جن کا سب کچھ اپنے گھر کے اندر ہی لُٹ گیا اور جن کی حالت پر رات کے تارے تادمِ سحر تک اشک باری کرتے رہے۔سانحہ کنن پوشہ پورہ کو انجام دینے والے شیطان صفت ابھی آزادی کے ساتھ گھوم کر کشمیریوں کے زخم پر نمک چھڑنے کا کام کر ہی رہے تھے اور انصاف کا قاضی ابھی فتویٰ دینے کے لئے شواہد اور ثبوت ہی اکٹھا کر رہا تھا کہ اس قوم پر ایک اور زخم لگایا گیا جس نے کنن پوشہ پورہ کی یاد تازہ کردی۔ ٢٩ مئی ٢٠٠٩ء کو شوپیان کی آسیہ اور نیلوفر اپنے باغ میں گئے تاکہ کھانے کے لئے سبزی لائیں اور سبزی تو نہیں آسکی لیکن وہاں سے اُن دونوں کی لاشیں آئی جن کو دیکھ کر آسمان بھی پھٹ پڑا اور زمین بھی سہم کر رہ گئی۔٢٩ مئی کی وہ شام جب شوپیان میں سورج تھک ہار کر اہرہ بل کے اونچے پہاڑوں کے پیچھے سستانے کی تیاری کر رہاتھا ،شام کا اندھیرا دن کی روشنی کو نگلنے کی کوشش کر رہا تھااور پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کی جانب لوٹنے کا سوچ رہے تھے مگر آسیہ اور نیلوفر گھر سے تو نکل گئیں لیکن انھوں نے وآپس مڑنے کا سوچا ہی نہیں ، سوچتے بھی کیسے ،کیونکہ وہ ایک ایسی دنیا میں پہنچ چکی تھیں جہاں سے جانے والے وآپس نہیں لوٹتے۔دن کی روشنی میں گھر سے باغ کی طرف نکلنے والی آسیہ اور نیلوفر جب اُس وقت بھی وآپس نہیں لوٹیں جب اندھیرا روشنی پہ حاوی ہو چکا تھا تو ظاہر ہے کہ گھر والے بہت پریشان ہو گئے۔

اُنھوں نے رات بھر ڈھونڈا لیکن اُن کا نام و نشان کہی نہ ملا ، صبح جب ٣٠ مئی کی سحر طلوع ہوئی اور لوگ تلاش کرتے کرتے نالہ رمبی آرہ تک پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ آسیہ اور نیلوفر پتھروں کے ننگے بستر پر تشدد و اجتماعی عصمت دری کی لحاف اوڑھ کر سو چکی تھیں ، لوگ چیخنے لگے یااللہ یہ کیا ہوا؟ یہ کیا ماجرا ہے؟کس بد خصلت و شیطان صفت ہاتھوں نے یہ ظالمانہ فعل انجام دیا ؟ اہل خانہ زاروقطار رو رہے تھے اور ٹھنڈے جسموں کو پکار رہے تھے کہ خدارا ہمارے سوالوں کا جواب دو، کس نے آپ کے معصوم جسموں کو جنسی تشدد کر کے چھلنی کر دیا؟ لیکن جواب کون دیتا کیونکہ آسیہ اور نیلوفر کی زبانیں خاموش ہو چکی تھیں۔ اپنی حالت بیان کرنے کے لئے اُن کے پاس کچھ رہا ہی نہیں تھا البتہ رمبی آرہ کی فضاسوگوار تھی ، وہاں کے پتھر مرثیہ خواں تھے، وہاں کے درخت خود کو ہلا ہلا کر لوگوں کے سامنے ظلم کی داستان بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر کاش قدرت اُنھیں زبان عطا کردیتی تو وہ بیان کردیتے کہ کس طرح سے آسیہ و نیلوفر کی فلک شگاف چیخوں نے رمبی آرہ کے اردگرد کے درودیوار ہلادئیے، کس طرح درندہ صفت حیوانوں نے اپنی درندگی کا اظہار کرتے ہوئے معصوموں کی کھلتی جوانیوں پر ترس نہ کھایاکیونکہ اس کی گود میں ظلم کا ایسا ننگا ناچ کھیلا گیا جو چشمِ فلک نے آج تک نہ دیکھا تھا۔ الغرض شوپیان سانحہ نے بھی کشمیری قوم کو ایسا زخم دیا جس کے درد نے پورے کشمیر کو بے قرار کر دیا، سارا کشمیر دہل اٹھا، کشمیر کی سڑکیں ویران ہوگئی،بازار سنسان ہو گئے ہر ایک آسیہ و نیلوفر کے قاتلوں کو سزا دینے کی مانگ کر رہا تھا پھر اُس وقت کی حکومت نے عوام کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔

Kashmiris
Kashmiris

سانحہ شوپیان کی نام نہاد تحقیقات مکمل کر کے سی بی آئی نے حقیقت سے بعید رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش کر کے گویا آسیہ و نیلوفر کے لواحقین کی بالخصوص اور کشمیری عوام کی بالعموم نمک پاشی کی۔حالانکہ گذشتہ سالوں کے دوران کشمیریوں پر کیا کچھ نہیں گذری ہے، کس کس نوعیت کے المیات پیش نہیں آئے مگر جہاں تک شوپیان سانحہ کا تعلق ہے یہ بہت ہی المناک اور خون کے آنسو رلادینے والا واقعہ ہے۔گو دو معصوم خواتین کی عصمت دری اور قتل کا یہ واقعہ دل دہلانے والا تو تھا ہی لیکن بعدازاں اس کی نام نہاد تحقیقات سے جو پُراسرار باتیں سامنے آئیں یا جس طرح سے اس سانحہ کے مجرمین کو بچانے کے لئے تحقیقاتی عمل کو پُرپیچ موڑ دئے گئے اُس نے اس واقعہ کو اس طرح کے دیگرواقعات سے جداگانہ اور زیادہ افسوسناک بنا دیا ہے۔ سی بی آئی نے جس انداز سے اس واقعہ کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کی کوشش کی وہ افسوسناک ہی نہیں بلکہ مذموم بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس سانحہ کے پیش آنے کے ساتھ ہی مجرموں کے جکڑ لئے جانے کے سامان کئے جاتے مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہاتھ پہ تحقیقات کا اعلان کیا گیا اور دوسری طرف مجرموں کی پردہ پوشی کرنے کا مذموم عمل بھی شروع کیا گیا۔ دماغ پر معمولی زور دئے جانے پر ہی یہ بات واشگاف ہو جاتی ہے کہ سانحہ شوپیان کو روزِ اول سے ہی دبائے جانے کی کوشش کی گئی بلکہ تھانہ شوپیان میں اس سانحہ سے متعلق کئی دنوں تک محض ایک معمولی شکایت درج رہی۔ اس کے بعد سابقہ وزیراعلیٰ کا وہ حق سے بعید بیان جو اُنہوں نے سانحہ کے پیش آنے کے بعد ہی دیا کہ دونوں کی موت قدرتی طور ایک نالے میں ڈوبنے سے ہوئی، یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں عوامی موڑ کو بہت خراب ہوتے دیکھ کر عمر عبداللہ نے معافی مانگی اور یہ تاثر دیا کہ انہیں انتظامیہ نے غلط اطلاع فراہم کی تھی گو عمر عبداللہ نے معافی طلب کی مگرکیا غلط اطلاع فراہم کرنے والے کسی آفسر کے خلاف کوئی کاروائی بھی کی گئی کسی کو نہیں معلوم حالانکہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کہ غلاط اطلاع فراہم کرنے والے افسران نے کسی سازش کے تحت ہی وزیراعلیٰ کو غلط اطلاع فراہم کی تھی ، اگر اس غلطی کو سنجیدگی سے لے کر اس کی وجوہات تلاش کی گئی ہوتیں تو ممکن ہے کہ مجرمین کو چھپنے کا یوں موقع نہ ملا ہوتا۔

جان کمیشن کے ذریعے کی گئی تحقیقات میں بھی کئی خامیاں عیاں تھیںمگر ان کی جانب کوئی دھیان دئے بغیر سرکار نے عوام کی زبردست مزاحمت کے باوجود بھی خامیوں سے پُر اس تحقیقاتی رپورٹ کو تھوپنے کی کوششیں کی۔ پھر پولیس کی سپیشل انوسٹی گیشن کا نتیجہ بھی اسی طرح صفر کے برابر رہا اور مجرموں اور عدالت کے مابین فاصلہ بڑھتا ہی گیا۔ ضابطہ یہ تھا کہ اس سانحہ میں جو بھی لوگ شک کے دائرے میں تھے ان کے خلاف سخت کاروائی شروع کر کے جرم کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی مگر جان کمیشن سے لے کر سی بی آئی کی فرسودہ تحقیقات کی کاروائی کا جائزہ لینے پر ایسا لگتا ہے کہ جرم کی جڑوں کی جانب جانے کے بجائے تحقیقاتی ٹیموں کا سفر کسی اور ہی سمت تھا۔سی بی آئی نے جو مفصل رپورٹ پیش کی اس کا حقیقت کے ساتھ دور کا واسطہ بھی نہیں ہے، چنانچہ ایجنسی کا کہنا تھا کہ دونوں کی موت نالہ رمبی آرہ میں ڈوب مرنے سے ہوئی ہے جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے حالانکہ جان کمیشن نے بھی اس بات کی گواہی دی کہ نالہ رمبی آرہ میں اتنا پانی نہیں ہے کہ جس سے ڈوب کر مرا جاسکتا ہے اور نہ ہی گذشتہ ایک دہائی کے دوران اس نالے میں کسی کے ڈوب مرنے کی کوئی تاریخ ہی ہے۔ بحث کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ آسیہ و نیلوفر قدرتی طور اس نالے میں ڈوب گئیں تھیں لیکن ان کے جسموں پر لگے زخموں کا کسی کے پاس کوئی جواب ہے؟ آخر وہ زخمی کیسے ہوگئیں ؟ ان کے پوشیدہ اعضاء پر تشدد کے نشانات کیسے تھے؟ سی بی آئی کی 66 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے حرف حرف پر بحث کی گنجائش موجود ہے اور اسے جھوٹ ثابت کیا جا سکتا ہے۔

حد یہ ہے کہ ایجنسیوں نے مجرموں کی نشاندہی کرنے کے بجائے خود سوگواروں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا چاہے وہ انصاف کے متلاشی وکلاء ہوں، ڈاکٹر یا پھر واقعی کے عینی شاہدین، حالانکہ سی بی آئی ایک ایسا ادارہ ہے جس نے پُراسرار معاملوں کی تہہ تک جاکر کئی بار اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا ہے مگر بدنصیبی یہ ہے کہ کشمیر میں یہ ایجنسی ہمیشہ ہی دورُخی پالیسی اور مصلحتوں کا شکار ہوکر اپنی شبیہ بگاڑتی رہی ہے۔سانحہ کنن پوشہ پورہ ہو یا ہائی پروفائل جنسی سکینڈل سی بی آئی نے حقائق سے چشم پوشی کرکے کشمیر میں عوام مخالف اشتہار دیا حالانکہ جنسی سکینڈل کی تحقیقات کے دوران بدنامی کا داغ حاصل کر چکی اس ایجنسی کو سانحہ شوپیان نے اپنی ساخت بحال کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا تھا مگر اس نے اس موقع کو گنوا دیا۔

Shopian Tragedy
Shopian Tragedy

آج جب سانحہ شوپیان کو سات سال مکمل ہوئے لیکن عصمتوں کے قاتل آج بھی کھلے عام اور آزاد گھوم کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کر رہے ہیںبلکہ اس معاملے کو سرد خانے میں ڈالا جا چکا ہے جو اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے جذباتوں کے ساتھ کھلواڑ ہے اور حقوق البشر کی پامالی ہے۔ پوری کشمیری قوم اس بات کی منتظر ہے کہ کب مظلوموں کی دادرسی کی جائے گی اور سماج کے لئے ناسور بنے ان بدخصلت انسانوں کو کب اپنے کرموں کی سزا ملے گی تاکہ قوم کی بیٹیاں ان ظالم پنجوں سے چھٹکارا پائیں جو وقت وقت پر بنتِ کشمیر کی حیا کی چادر کو داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سانحہ شوپیان کا فیصلہ غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہو تاکہ آسیہ اور نیلوفر کی بے قرار روحوں کو قرار مل سکے۔ کشمیری قوم کا اس بات پر متزلزل بھروسہ ہے کہ تابندہ غنی کی طرح دیر سویر کنن پوشہ پورہ اورسانحہ شوپیان کو انجام دینے والے ملزم رسوا ہو کر اپنے کیفرِ کردار تک ضرور پہنچے گے کیونکہ مظلوموں کی آہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں رائیگاں نہیں جاتی ہے کیونکہ انکے بیچ میں کوئی پردہ نہیں ہوتا ہے۔

تحریر : سعد سالار
SaadSalaar1@gmail.com
+92 323 7479127

Share this:
Tags:
Day Helplessness honor humanity Jammu Kashmir justice protest انسانیت بے بسی جموں کشمیر دن عدل نیلوفر
RAJA SARFRAZ, RAJA SHERAZ , USAMA QAZI,RAJA AMIR
Previous Post ایچ ایم سی ٹیکسلاکے ملازمین کی سات ماہ کی تنخواہوں کا گھمبیر مسلہ
Next Post انکم ٹیکس نان فائلرز پر ٹیکس کا بوجھ مزید بڑھانے کا فیصلہ
tax

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close