
تحریر: وقارانسا
کچھ لوگ اپنے کام کے ساتھ ایسے جڑے ہوتے ہیں کہ کوئی مصروفیت کوئی پریشانی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ان کا جذبہ اور کام کی سچی لگن ان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ایسے ہی ناموں میں ایک خوبصورت نام شاہ بانو میر ہے دیار غیر میں رہتے ہوئے ایک محب الوطن پاکستانی کی طرح اپنے ملک سے محبت اور اس کے لئے مثبت سوچ رکھتی ہیں-اس لئے اس کے حالات اور مسائل کو منظر عام پر لا کر اپنی تحریر سے شعور اجاگر کرتی رہتی ہیں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان سے پہلے کسی خاتون نے پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی کے لئے اتنی شد ومد سے قلم نہیں اٹھایا اور اب بھی جب کہ الحمد للہ فرانس میں بہت سی خواتین اپنے اپنے انداز کی تحریر سے قارئین کو مطالعہ کی عادت سے جوڑ رہی ہیں ان کا نام سر فہرست ہے انسان کا پختہ ارادہ اور مستقل مزاجی ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنے مقصد کو ضرور پالیتا ہے -صلاحیتں اللہ عطا کرتا ہے انسان نے ان کو کھوج کر ان سے کام لینا ہوتا ہے
ادب اکیڈمی کی بنیاد انہی خطوط پر استوار کی گئی کہ قلم سے محبت کرنے والوں کے لئے
ایسا ادارہ جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں ان کا یہ قدم بھی قابل ستائش ہے
شاہ بانو میر کے بنائے ہوئے اس ادارے میں اپنے شوق کے ھاتھوں پہہنچنے والی میں پہلی خاتون تھی اب اللہ کے کرم سے ان کے ھمراہ ایک مضبوط ٹیم کھڑی ہے دلی مسرت ہوئی کہ جیو اردو نے شاہ بانو میر صاحبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں 2015 کی بہترین کالم نگارہ کے ایوارڈ کے لئینامزد کیا یہ بہت خوش آئند ہے اور ھم سب کے لئے فخر کا باعث بھی –

یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ان کی کوششوں کو سراہا گیا ہم دل کی گہرائیوں سے ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ وہ اپنے قلم سے معاشرتی اور سیاسی مسائل کو اسی طرح منظر عام پر لاتی رہیں بلاشبہ شاہ بانو میر صاحبہ اس کی بجا طور پر اہل ہیں ان کے قلم کی روانی اپنی مثال آپ ہے کسی بھی موضوع پر ان کا قلم چلتا نہیں بلکہ دوڑتا ہے ہر ویب سائٹ ان کی دلکش تحریر سے جگمگا رہی ہوتی ہے – اتنے سالوں سے ان کے الفاظ کے پھول ہر طرف اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں- جیو اردو کو بھی بہت مبارک ہو کہ انہوں نے کام کی قدر کرتے ہوئے ان کا نام ایوارڈ کے لئے منتخب کیا یہاں پر کوئی اور دوسرا نام ان کے مقابلے پر نہیں ان کا کام ان کے نام کی پہچان ہے ہرموضوع پر ان کودسترس حاصل ہے ادب اکیڈمی کی تمام خواتین بے پناہ مسرت کا اظہار کرتی ہیں کہ ان کے ادارے کی سربراہ کی ادبی خدمات کو سراہا گیا اور انہیں ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ھم ایک دفعہ پھر شاہ بانو میر صاحبہ کو ڈھیروں مبارکباد دیتے ہیں-
تحریر: وقارانسا
