Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شعور جمال۔ جمال شعور۔ دائرہ علم و ادب کا پروگرام

January 21, 2018 0 1 min read
Allama Iqbal
Allama Iqbal
Allama Iqbal

تحریر : میر افسر امان
ان دو الفاظ کا پیچھا کرتے ہوئے ہم ٢٠ جنوری کو اقادمی ادبیات اسلام آباد پہنچے۔ وہ اس طرح کہ اقادمی ادبیات کے رائٹرز ہال میں دائرہ علم و ادب پاکستان کی اسلام آباد شاخ نے علامہ اقبال پر پروگرام رکھا ہوا تھا۔جس میں پورے پاکستان سے دائرہ علم و ادب کے عہداداروں نے شرکت کی۔دائرہ علم و ادب کاممبر ہونے کے ناطے، سیکرٹیری احسن حامد صاحب دائرہ علم و ادب اسلام آباد شاخ نے کافی دن پہلے دعوت نامہ بھیجا تھا۔ ایک دن قبل اس ادارے کے مرکزی صدر جناب احمد حاطب صدیقی صاحب نے ہمیںایس ایم ایس کے ذریعے یاد دہانی کرائی۔ دعوت نامے کے مطابق دائرہ علم و ادب کا شعورِ جمال۔ جمالِ شعورپروگرام کا مرکزی خیال تھا۔اصل میں اس خیال کے تحت شاعر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے اسلام اور پاکستان کے لیے خدمات پر روشنی ڈالنی تھی۔ اسٹیج سیکرٹیری کے فرائض ریاض عادل صاحب مرکزی جنرل سیکر ٹیری نے انجام دیے۔ پروگرام اللہ کے بابرکت نام سے ہوا۔ اس کے بعد نعت رسول مقبولۖ پیش کی گئی۔

احمد حاطب صدیقی نے بچوں کے ادب پر لکھی گئی ایک کتاب کا تعارف پیش کیا۔ عبیداللہ کیہر صاحب نے سمع وبصر وڈیو کے ذریعے علامہ اقبال کی نظم” مسجدقرطبہ” کی مشہور زمانہ نظم پیش کی جس کو سامعین نے خوب سراہایا۔انہوں کچھ لکھی ہوئی معلومات میں بھی سامعین کے ساتھ شیئر کیں جس میں تاریخ اندلس پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قصہ کچھ اس طرح تھا کہ ایک عیسائی لیڈر جولین کی بیٹی کے ساتھ اندلس کے حکمران راڈرک نے زیادتی کی۔ وہ عیسائی لیڈر جولین افریقہ کے مسلمان گورنر مسلمان موسیٰ بن نصیر کے پاس فریاد لے کر آیا اور درخواست کی کہ میر ی عزت سے کھیلنے والے سے بدلہ لیا جائے۔ اس پرموسیٰ نے خلیفہ والید سے اجازت مانگی۔ اجازت ملنے پراپنے مشہور جرنیل طارق بن زیاد بر بر کو سمندر کے راستے ٧١١ء میں ١٢٠٠٠ فوجیوںکے ساتھ اندلس فتح کرنے کے لیے بھیجا۔اندلس پہنچ کرمسلمان بہادر سپہ سالار نے اپنی فوج کی کشتیاں جلا ڈالیں۔ اپنے مسلمان سپاہیوںسے پر جوش خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آگے موت یا فتح۔ پھر لڑائی ہوئی اور عیسائی فوجوں کو شکست ہوئی ۔ ایسے بہادر سپہ سالار اور اس کے زیر کمان بہادر فوجیوںکو اللہ نے فتح ہی دینی تھی ۔کشتیاں جلانے والے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور اندلس فتح ہوا۔ مسلمانوں نے اس پر آٹھ سو سال(٨٠٠) سال حکومت کی۔ اندلس کے شاندار باغات، عمارتیں اور گلی کوچے ، علم وادب کی خدمت ایجادات،مسلمان دانشوروں، سائنس دانوں اور حکمرانوں کی آج بھی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں۔ اموی خلیفہ عبدالرحمان نے اندلس کے وسییع عریض علاقے اور مستحکم بنیادوں پر مسجد قرطبہ بنائی جو آج بھی اپنی ماضی کی یادیں تازہ کرتی ہے۔ جس کے کئی سو ستون ،محرابیں اور دروازے ہیں۔

مسلمان حکمرانوں نے عیسائیوں اور یہودیوں سے رواداری برتی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی۔مگر جب مسلمانوں کے زوال کے بعد عیسائیوں نے واپس اندلس پر قبضہ کیا تو اسی مسجد قرطبہ کو کئی گرجا گھروں میں تبدیل کر دیا۔ مسلمانوں پر سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنا ظلم کیا کہ ٨٠٠ سال حکومت کرنے والوں کا ہر نشان مٹا دیا۔ بحری جہازوں پر مسلمانوں کو سوار کر کے جہازوں سمیت سمندر میں ڈبو دیا۔کسی ایک مسلمان کو بھی اندلس میں نہیں چھوڑا۔ اس سفاکیت کانشان اندلس کے ایک چوک پر ایک نام نہاد بہادر عیسائی سپاہی کا مجسمہ نصب ہے۔ ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے ایک مسلمان کی کھوپڑی پکڑے ہوئے ہے ۔ ایک اور مسلمان کی کھوپڑی پیروں تلے دبائے ہوئے ہے۔ اس طرح عیسائی سپاہی اپنی سفاکیت وظلم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔کشتیاں جلانے اور اندلس فتح کرنے والا طارق بن زیاد، افریقہ کے بر بر قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ عیسایوں نے مسلمان ادب میں بربریت کا لفظ بھی طارق بن زیاد کے حوالے اور بر بر قبیلے کے نام سے بر بریت رائج کیا ۔ جسے ہمارے نادان اور انجان لکھاری اپنے تحریروں میں بر بریت لکھ لکھ کر دہراتے رہتے ہیں ہمیں اس سے اجتناب برتنا چاہیے۔ علامہ اقبال لندن کی دوسری کانفرنس کے بعد ہسپانیہ مسجد قرطبہ دیکھنے گئے۔مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عیسائی مذہبی رہنمائوں نے اجازت نہیں دی۔ بڑی کوشش اور سفارتی لوگوں سے بات چیت کے بعداجازت ملی تو علامہ اقبال نے ایک طویل عرصے کے بعد مسجد قرطبہ میں پہلے اذان دی پھر نماز پڑھی۔ مشہور و معروف نظم مسجد قرطبہ میں بیٹھ کر لکھی۔ جس میں مسلمانوں کے شاندار عہد کو نظم کے پیرائے میں بیان کیا۔

اس کے بعد مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمان عاصم صاحب نے شعورِ جمال۔ جمال ِشعور پر اپنی تحریری مقالہ پڑھ کر سامعین کو قرآن سنت کی روشنی میںلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کواپنی اصل کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔یہ کسی بھی ادب کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے ادب کے معنی دسترخوان بتاتے ہوئے یوںتشریع کی۔ جب ادب دسترخوان ہے تو دستر خوان سجانے سے پہلے سوچ بچار کرنے پڑتی ہے۔چیزیں اکھٹی کرنے پڑتی ہیں۔ پکانی پڑتی ہیں۔ برتن جمع کرنے پڑتے ہیں۔پھر لوگ کہتے ہیں کھانا اچھا اور مزے دار ہے۔ایسے ہی ادب کے اجزء ہیں۔یہی ادب کی پہچان بتاتے ہیں۔ ایسے ہی اچھے ادب کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ ادب خودی کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شعورِجمال سے ہی اندلس فتح ہوا۔ شعور جمال سے ہی مسلمان قوم آگے بڑھ سکتی ہے۔ یہ آفاقی پیغام ہے۔ اسی کو علامہ اقبال لے کر چلے تھے۔

آخر میں ڈاکٹر پروفیسرانیس احمد صاحب نے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ادب کے نوبل انعام کا حقدار تو مکہ میں رہنے والا عرب کا مشہور شاعر لبیدتھا۔ جو قرآن کی ایک مختصرسورت کوثر ، جسے عرب کے شاعروں کے طریقے کے مطابق رسول ۖاللہ نے بھی خانہ کعبہ کی دیوار پر لکھوا کر لٹکایا تھا۔ اس شاعر نے قرآن کے الفاظ سے متاثر ہو کر کہا تھا۔ یہ کلام انسان کا نہیں ہو سکتا۔ یہ واقعی اللہ کا کلام ہے۔اس سورت پر نظرپڑھتے ہی لبید نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ انہوں نے مذید کہا کہ قرآن علم و ادب کا خزانہ ہے۔اس کا ایک ایک لفظ علمی اور ادبی چاشنی سے لبریز ہے۔ قرآن نے سارے واعظ و نصیحت میں سوائے ابولہب کے کسی کا نام لے کر برا نہیں کہا۔ صرف یہ کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نصیحت کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ آج کے ادیب کو قرآن کے ادب کو آگے پہنچانا ہے۔ادیب کا کام ہے قرآن کو پڑھے، اسے سمجھے، اسے جذب کرے اور پھر نظم اور نثر کے ذریعے اسے آگے اللہ کے بندوں تک پہنچائے اور معاشرے کی اصلاح اور تربیت کرے۔ یہی کام علامہ اقبال نے کیا ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ادیب قرآن و سنت میں ڈوب کر اس سے فیض حاصل کرے۔ دائرہ علم و ادب نے اسی قرآنی ادب کو آگے عوام تک پہنچانے کا مصمم ارادہ کیا ہے۔

آج ہم جس دائرہ علم و ادب کے تحت پروگرام میں شریک ہیں۔ یہ ادارہ غیر سیاسی اور غیر تجارتی ہے۔ اسے قائم کرنے والے تعریف کے مستحق ہیں۔ دائرہ علم و ادب کے احمدحاطب صدیقی ،ریاض عادل ، افتخارکھو کھر اوراس کے ممبران، ملکی اتحاد،نظریاتی تشخص اور دو قومی نظریہ کو عام کرنے میں کام کریںگے۔ اِنہوں نے شعور جمال اور جمال شعور رکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اُنہوں بتایا کہ اندلس اور یورپ کے کیتھولک عیسائی اپنی قبائوں پر مسلمانوں کی فن خطاطی کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی آیات سے مزین کرتے ہیں۔انہوں نے کہا مغرب سے متاثر اہل علم نے یونیورسٹیوںکے طالب علموں کو سیکولر ایجنڈا کو آگے بڑھانے پر لگایاہوا ہے۔ وہ علامہ اقبال کی تعلیمات کوبھولتے جا رہے ہیں ۔ کسی کو روشن مستقبل کی لالچ اور کسی کو پیسے دے کر علامہ اقبال کے کلام سے دور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ علامہ اقبال کا کلام میں قرآن اور سنت کی تشریح ہے۔ انہوں نے سامعین کو یہ بھی بتایا کہ میں نے اندلس میں ١٩٧١ء میںقرطبہ مسجد میں اسی جگہ نماز پڑھی جہاں پر علامہ اقبال نے نماز ادا کی تھی۔

صاحبو! ہم وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دنیا پر ایک ہزار سال(١٠٠٠) شاندار اور کامیاب طریقے سے حکومت کی۔مسلمانوں کے عالیشان علم و ادب سے لبریز دور کو بڑی سازش سے نوجوانوں کے ذہنوں سے نکالنے کی مہم شروع کی ہوئی ہے۔اس شاندار دور کو اسلام دشمنوں نے گرد وغبار سے اٹ دیا ہے۔میڈیا پر علامہ اقبال کے خلاف پروگرام تریب دے کر نوجوان نسل کو ان سے دور کیا جا رہا ہے۔ قائد اعظم بانی پاکستان کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔حکمران اپنے سیکولر ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حالات میں اپنے عالیشان ماضی اور علم و ادب سے لبریز زمانے سے گرد غبار صاف کرنے اور مسلمان نوجوان نسل کو مسلمانوں کی عظمت سے روشناس اور اس سے آگاہ کرنے اور اس سے جوڑنے کے لیے دائرہ علم و ادب کو قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ممبران پی ایح ڈی، یونیورسٹیوں کے پروفیسرز،اعلی ٰ تعلیم یافتہ،مصنف ،محقق، شاعر، دانشور اور ہم جیسے عام لکھاریوں سے عبارت ہے جو اس کے پروگراموں کو آگے لے کر چلیں گے انشا ء اللہ۔ دائرہ علم و ادب کی شاخیں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد،، صوبہ پنجاب،صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان، آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں قائم ہو چکی ہیں۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر اسلامی علم و ادب کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کے لیے تمام جگہوں پر ماہوارایک ہی قسم کاپروگرام کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ دائرہ علم و ادب کی طرف سے اقادمی ادبیات اسلام آبادکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا گیا اور پروگرام دُعا پر اختتام پذیر ہوا۔ آخر میںچائے بسکٹ سے حاضرین کی خدمت کی گئی اور گروپ فوٹو بنائے گئے۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
awareness book knowledge Literature Mir Afsar Aman pakistan poet program ادب پاکستان پروگرام شاعر شعور علم کتاب
Chief Justice Saqib Nisar
Previous Post چیف جسٹس ثاقب نثار کا عزم، جمہوریت پامال نہیں ہونے دیں گے
Next Post بھمبر میں انجمن تاجران کے انتخاب وقت کا تقاضہ ہیں۔ چوہدری محمد اکرم
Bhimber

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close