
تحریر : منظور فریدی
اللہ کریم کی بے پناہ حمدو ثناء اور رحمت عالم نور مجسم جناب محمد مصطفی کریم پر بے حد درودوسلام کے نذرانے پیش کرنے کے بعد اپنے شہر شہر فرید پاکپتن اور خطہ ارض برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ جنہوں نے زہد تقویٰ میں مثل انبیاء صبر شکر دونوں سے آگے رضائے الہی کو اپنا مقصد حیات بنا کر اپنے نام کے ساتھ زہد الانبیاء پوری دنیا سے منوایا انکے عرس کی تقریبات شروع ہیں اپنے ناقص علم وعقل کے مطابق انکی بارگاہ میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لیے یہ مضمون ترتیب دیا ہے حضور گنج شکر زہدالانبیائ اس دور میں اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے جب عالم اسلام اپنی اصل تعلیمات سے ہٹ کر غیر مسلم شعبدہ بازوں جادوگروں کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا بالخصوص برصغیر میں یہ طبقہ اپنے مضبوط پنجے گاڑھ چکا تھا آپکی پیدائش کھوتوال موجودہ خانیوال کے قریب ایک گائوں میں ہوئی آپ کے والدین کا شمار وقت کے صالحین میں ہوتا ہے آپکی پرورش میں والدہ ماجدہ کا کردار ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔
بچپن میں ہی پابند صوم و صلوٰة بنانے کے لیے آپکی والدہ ماجدہ نے علمی عقلی اور منطقی تقاضے پورے کرکے آپکو دینی تعلیم کے لیے ملتان کی مشہور دینی درسگاہ اور تصوف کے بحر بیکراں سیّد بہاوالدین زکریا ملتانی کے پاس داخل کروادیا جو وقت کے عظیم شیخ الحدیث بھی تھے اور دنیا بھر سے آنے والے تشنہ لب آپ کے علم سے اپنی پیاس بجھا رہے تھے حضرت بابافرید گنج شکر کو بھی آپکی والدہ نے حصول علم کے لیے اسی مدرسہ میں داخل کروا دیا قارئین خیال رہے کہ زیر نظر مضمون انتہائی اختصار سے پیش کیا گیا ہے گنج شکر کی سیرت کو لکھنا چاہیں تو ایک ضیغم کتاب بن جائیگی ۔ اسی مدرسہ میں آپکی ملاقات سلسلہ چشتیہ عظیم پیشوا خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے ہوئی یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ خواجہ صاحب بہاوالدین زکریا سے ملاقات کی غرض سے مدرسہ میں تشریف لائے ہوئے تھے آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو طلباء سے ملاقات فرمائی گنج شکر ایک کتاب کے مطالعہ میں محو بیٹھے تھے پاس کھڑے ہوکر خواجہ چشت نے فرمایا کہ میاں کیا پڑھ رہے ہو جو اردگرد کی خبر ہی نہیں تو آپ نے عرض کیا حضور نافع پڑھ رہا ہوں خواجہ صاحب نے بے ساختہ فرمادیا کہ ہاں یہ نافع ہی ہوگا۔
مگر گنج شکر کے اندر کی کیفیت میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی خواجہ صاحب اپنے چند روزہ قیام کے بعد واپس جانے لگے تو تمام طلباء سلام کے لیے ہجرہ کے سامنے قطار بنائے کھڑے تھے مگر آپ کی نظر کسی کو تلاش کر رہی تھی جب سب نے سلام کرلیا تو خواجہ صاحب نے بہائوالدین سے فرمایا تمہارے طالب علموں میں سے کوئی رہ گیا ہے جو ہمیں ملا نہیں تو آپ نے بتایا کہ ایک لڑکا مسعود ہے جو ہمہ وقت کتابوں میں غرق رہتا ہے خواجہ صاحب نے بے ساختہ فرمایا کہ وہی تو میرا مطلوب و مقصود ہے اسے بلائو جب آپکو ہجرہ میں بلایا گیا تو آپ فرط جذبات سے رو پڑے اور خواجہ قطب کے سینہ سے لگ کر زاروقطار رونے لگے آپ نے دست شفقت پھیرا اور فرمایا کہ میاں تم ہمارے جانشین ہو مگر منزل ابھی بہت دور ہے ابھی تمہیں مسعود سے بابافرید بن کر میرے پاس آنا ہے۔
ملتان سے حصول علم کے بعد آپ نے بغداد بخارہ نیشاپور تک سفر کرکے علم سے اپنی روح کو سیراب کیا اس دوران آپ نے کئی کئی دن پیدل سفر بھوک پیاس سب برداشت کیا ایک طویل مدت کے بعد جب ان مراحل سے گذر کر واپس گھر پہنچے تو طبعیت میں وہی اضطراب دیکھ کر والدہ ماجدہ نے وجہ پوچھی تو آپنے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے ملاقات کا سارا واقعہ والدہ کے گوش گزار کردیا آپکی والدہ ماجدہ ایک ولیہ کاملہ تھیں انہیں بات سمجھ میں آگئی انہوں نے فرمایا کہ مسعود اب تم خواجہ صاحب کی خدمت میں پیش ہو جائو آپ نے عرض کیا کہ اماں وہ ایک پرانی بات ہے بھلا وہ مجھے کیسے پہچان پائیں گے والدہ نے حکم دیا کہ جانا تمہارا کام ہے پہچاننا ان کا کام ہے آپ والدہ کے حکم پر دہلی روانہ ہوگئے طویل سفر طے کرنے کے بعد جب آپ خواجہ قطب الدین بختیاری کاکیکے آستانہ پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں تو سلطان الہندالتمش بھی قطار میں ہاتھ باندھے کھڑا ہے آپ قطار سے ہٹ کر حجرہ کی چوکھٹ تھام کر کھڑے ہو گئے تھوڑی ہی دیر بعد اندر سے ایک خادم آیا اور آپ سے کہا کہ اندر خواجہ صاحب آپ کا انتظار فرما رہے ہیں آپ حکم کی تعمیل میں اندر داخل ہوئے تو خواجہ صاحب نے کھڑے ہو کر آپ کو سینے سے لگا لیا اور فرمایا کہ بابافرید تم نے آنے میں بہت دیر کردی۔
خواجہ صاحب کی زبان مبارک سے نکلا ہوا لفظ بابافرید ایسا امر ہوا کہ آج بھی دنیا آپ کو بابافرید گنجشکر کے نام سے ہی جانتی ہیں یہاں خواجہ صاحب کی باقاعدہ بیعت حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے مرشد کے حکم پر مختلف وردو وظائف میں مشغول ہو گئے جن میں سے طویل روزہ اور چلّہ معکوس آپ کی مشہور عبادات ہیں زہد و ریاضت کے تمام مراحل طے کرنے کے بعد سلسلہ چشتیہ کے نامور بزرگ اور ہندوستان میں اسلام کی شمع سب پہلے روشن کرنے والے فرد خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے اپنے دست مبارک سے آپ کو اپنی اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکیکی دستار عطا فرمائی اور یوں آپ سلسلہ چشتیہ کے واحد جانشین مقرر ہوئے مرشد حکم پر آپ نے دہلی کو اپنا مسکن بنا کر اسلام کی ترویج و اشاعت کا مقدس فریضہ انجام دینا شروع کردیا یہاں آپ نے ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا اور پھر اپنے مرشد کے حکم پر اجودھن حالیہ پاکپتن کو اپنا مرکز بنا کر یہاں اسلام کی وہ شمع روشن کی جو تا قیامت فروزاں رہے گی اجودھن میں ہندو جوگیوں نے امت مسلمہ کو اسلام سے دور کررکھا تھا آپ کی تبلیغ سے نہ صرف عام لوگ مسلمان ہوئے بلکہ وہ جوگی بھی ولائت کے منصب پر فائض ہوئے۔
آپکی تمام عمر اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں بسر ہوئی اور اپنی تبلیغ میں جہاں آپ نے اللہ اور رسول کریم ۖ پر ایمان لانے کا درس دیا وہاں انسانیت سے محبت اور امن بھائی چارے اور دکھ درد پہ اللہ کی ناشکری کرنے کا درس بھی دیا ہے آپکی تعلیمات کے مجموعے شعر اور نثر دونوں شکل میں موجود ہیں آپ کا وصال 5 محرم الحرام 662/63 ہجری میں ہوا آپکی اولاد میں سے حضرت بدرالدین سلیمان آپکے مزار کے اندر ساتھ دفن ہیں انکی اولاد میں سجادگی دیوان مودود مسعود صاحب کے حصہ میں آئی جنہوں نے اپنی حیات میں ہی یہ فریضہ اپنے فرزند دیوان احمد مسعود کو سونپ دیا ہے ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں فرزندان توحید آپکے عرس میں شرکت کرتے ہیں 5 محرم الحرام کو بہشتی دروازہ کھولا جاتا ہے جو دس محرم تک کھلا رہتا ہے محکمہ اوقاف کے منتظمین ضلعی انتظامیہ کے سر براہان کے ساتھ سجادہ نشین اس دروازہ کی قفل کشائی کرتے ہیں اور لوگ اپنے گناہوں سے تائب ہوکر اس دروازہ سے گزرنا باعث سعادت خیال کرتے ہوئے گزرتے ہیں ڈی پی او پاکپتن ملک کامران یوسف نے امسال عوام کے اصرار پر وی آئی پی روٹ ختم کرکے تمام خاص و عام کے لیے ایک ہی روٹ مقرر کرکے عوام کے دل جیت لیے ہیں اور زائرین کو ذیادہ سے ذیادہ سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اللہ ان آستانوں کو سلامت رکھے اور بزرگان دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔
تحریر : منظور فریدی
