
تحریر : سیدہ ام حبیبہ
دہشتگردوں نے شہر میں داخل ہوتے ہی اعلان کیا ہم نے 200 انسانوں اور امریکہ میں ایک گدھے کو قتل کرنا ہے
ہر کوئی پوچھ رہا تھا گدھے کو کیوں گدھے کو کیوں؟؟؟
ہر شخص کے چہرے پر گدھے کیلیے اداسی دیکھ کر ایک دہشتگرد بولا۔۔
باس میں نے کہا تھا نا 200 لوگ مارنے سے کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔ دوستو! یہی حال اپنے وطن کا ہے کہ یورپ میں ہونے والے گدھے کے قتل پر بھی واویلا کرتے ہیں لیکن شام، یمن ،اعراق میں مارے جانے والے ہمیں گدھے سے بھی کمتر لگتے ہیں۔
گوروں کے پہناوے کی نقل کرکے انکی اترن پہن کے نفس کوذلیل کرنا ہمارامرتبہ بلند کرتا ہے لیکن ترک اعوام کی نقل کرنے کے لیے ہم حیلے بہانے کرتے ہیں اور ترک صدر کی تصویر پروفائل پر لگا کر خود کو بہادر اور با ضمیر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

مجھے آج گویا اس محاورے کی عملی تصویر مل گئی کہ بیگانے کی شادی میں عبد اللہ دیوانہ اپنا نام اپنا حسب نسب زندہ رکھنے کیلیے خود شادی کرنا ضروری ہے نہ کہ ہمسائے کی شادی پر ناچ کر اسکے ہونے والے بچے کے ولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھوانے کی خواہش ۔۔۔ اف نہیں بلکہ تف۔۔ دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا ، تیر آیا ، سائیکل آیا ، بلا آیا ۔ سب کچھ آیا نہیں آئی تو خوشخالی ، تعلیم ، صحت ، عزت ، غیرت ،حیا ، شرم اور لاج اگر کو ئی یہ لے آئے تو بسم اللہ ورنہ نکلو ترک عوام کی طرح سڑکوں پر اور لیٹ جائو ٹینک نما پیٹ کے آگے کہ ساڈا حق ایتھے رکھ۔
تحریر : سیدہ ام حبیبہ
