Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بحریہ ٹاؤن سے ڈیرہ تاجی کھوکھر تک دوستی کا سفر

November 15, 2014 0 1 min read
ALLAH
ALLAH

تحریر : ممتاز خان
حضرت علی فرماتے ہیں کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے ظلم کی نہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے راہنما گزرے ہیں جنہوں ے بڑے طویل عرصے کیلئے جیلیں کاٹیں اور اپنی زند گی کا پیشترحصہ زندانوں کی نظر کر دیا۔ جنگِ آزادی میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، سردار عبدالرب نشتر، حفیظ جالندھری، مہاتما گاندھی، علی برادران، مولانا حسرت موہانی، خان عبدالغفار خان، پنڈت جواہر لال نہرو، سورش کاشمیری، عطا اللہ شاہ بخاری اور ایسے ہی ہزاروں کارکن قیدو بند کی صعوبتوں سے گزرے تو تب کہیں جا کر آزادی کی صبح نصیب ہو سکی۔ پاکستان میں مولانا ابو الاعلی مودودی ،ذولفقار علی بھٹو، میاںمحمد نواز شریف،محترمہ بے نظیر بھٹو ، آصف علی زرداری،جہانگیر بدر،سید یوسف رضا گیلانی،تاجی کھوکھر اور ہزاروں متوالوں اورجیالوں نے جیلوں کی بلند و بالا دیواروں کی اذیتوں میں اپنی زندگی کے قیمتی شب و روز گزار کر جمہوری سفر کو ممکن بنایا ۔پاکستانی تاریخ میں میں سے کو ئی ایک بھی ا یسا قائد نہیں ہے جو اقتدار سے بے دخل کیا گیا ہو اور پھر 14 سالوں کے بعد دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں واپس آیا ہو۔

شاہِ ایران اقتدار کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا لیکن ایران کا تاج و تخت اسے دوبارہ نصیب نہ ہو سکا وہ تاج و تخت کی حسرت دل میں لئے جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا لیکن ایران کی مٹی کو چھونا اسے نصیب نہ ہو سکا۔یہی سب کچھ ا فغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کے ساتھ بھی ہوا،اس نے ساری عمر جلاوطنی میں گزار دی لیکن افغانستان کا قتدار اس کا مقدر نہ بن سکا۔ سیاست کا میدان بڑا ہی سنگدل ہوتاہے اس میں ایک دفعہ نکالے گئے حکمران کی واپسی کو کوئی بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور یوں اقتدار سے بے دخل کیا گیا انسان حسر ت و یاس کی تصویر بنا دوسرے جہان کی راہ لیتا ہے۔جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا نے بطلِ حریت کی حیثیت میں زندگی کے 28 سال جیل کی نذر کئے تو وہ اس وقت کسی منصب پر فائز نہیں تھے بلکہ اسی طویل جیل نے انھیں عزت و احترام کی ایسی مسند عطا کی جو بہت کم انسانوں کے حصے میں آیا کرتی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیں تو اس میں ذ ولفقار علی بھٹو ایک ایسے قائد کی صورت میں ہمارے سامنے آئے جنہیں عوام نے1970کے انتخا بات میں اپنی بے پناہ محبت سے نوازا تھا اور وہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا لیکن جنرل ضیا ا لحق کے شب خون کے بعد انھیں جس طرح راستے سے ہٹا کر تختہِ دار پر کھینچ دیا گیا تھا وہ تاریخ کا انتہائی المناک باب ہے جسے بھولنا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں۔

عالمی طاقتوں اور اسلامی ممالک کی طرف سے اس با ت کی کوشش کی گئی تھی کہ کسی طرح سے کوئی ایسی راہ نکالی جائے جس سے ذ ولفقار علی بھٹو کی جان بچ جائے لیکن وہ سارے اس میں ناکام ہو گئے کیونکہ جنرل ضیا الحق ذ ولفقار علی بھٹو کی جان بخشی کیلئے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں تھا۔ وہ ذ ولفقار علی بھٹو کے بچ جانے کو اپنی موت تصور کرتا تھا لہذا اس نے ذ ولفقار علی بھٹو کی جان بخشی کرنے سے معذرت کر لی تھی اور وہ کچھ کر ڈالا تھا جس نے پاکستانی سیاست کو نفرتوں اور انتقام کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ جس ملک کا انصاف ہماری گونگی بہری اندھی اشرافیہ (متحدہ پاکستا ن سے لے کر ۔۔۔نجانے کب تک۔۔)کی مانند محواستراحت ہوجہاں آنکھوں پر بغض تعصب وکینہ کی دبیز تہہ جم چکی ہو جہاں اخلاقیات خلوص اور ایمان کاجنازہ نکل چکاہوجہاں ہوس اقتدارحصول تاج اور انتقام کاجہنم سلگ رہاہو وہاںامتیاز عرف تاجی کھوکھر جیسے افراد کے لیئے انسانی برابری کے تصورات دم توڑ دیتے ہیں۔ تاجی کھوکھرنے ایک زمیندار متوسط طبقے کے گھرانے میں آنکھ کھولی ،ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے والد حاجی اللہ دتہ کھوکھر کی زیرنگرانی اپنی پراپرٹی اور کاروباری معاملات سنبھالے ،آئو دیکھا نہ تائو اپنے پرائے سب سے گٹھ جوڑ کیا،دن رات کی محنت،سیدھی اور کھری بات باالخصوص لین دین کی شفافیت نے ان کی شہرت اور پراپرٹی کے کاروبار کو چار چاند لگادئییاس کے باوجودکبھی تکبر اور غرور کی جھلک تاجی کھوکھر کے ماتھے کی شکن نہ بن سکی،ڈیرہ تاجی کھوکھر قائم ہوا تو غریب لوگوں ،نابینا،معذور،بیوائوں اور یتیموں کے سروں پر دست شفقت رکھا گیا،وہاں نفرت کی جگہ پیار اور محبت کے جذبوں کو فروغ دیاگیا،انسانی اقدار کے ساتھ ڈیرہ میں قائم نجی چڑیا گھر کے جانوروں،پرندوں اور حشرات الارض یعنی شیروں کی جوڑی،چڑیااور طوطے سے لیکرمگر مچھ اور سانپ (اژدھے) کی پرورش کا اعلیٰ نمونہ پیش کرکے انسان دوستی کا پیغام عام کیا گیالیکن حاسدین کو ان کی یہ ادائیں غریب پروری اور کاروباری عروج ایک آنکھ نہ بھایا ،ان پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے،قتل اور اقدام قتل کے درجنوں مقدمات میں وہ کئی سال ملک کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل بھی رہے اور کئی مقدمات میں میں بری بھی ہوئے،،پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی رانی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھی تاجی کھوکھر کی انسان دوستی کی معترف تھیں،یہی وجہ ہے کہ ان کا سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے۔

Zulfiqar Ali Bhutto
Zulfiqar Ali Bhutto

پاکستانی سیاست پچھلی کئی دہائیوں سے بھٹو اور اینٹی بھٹو سوچ کی اسیر رہی اور اس نے تصادم اور نفرتوں کو ایسی ہوا دی جس سے پاکستان کی ساری منتخب حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے قاصر رہیں۔ اور2008 کی اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے والی دو ایسی اسمبلیاں ہیں جن میں سے ایک تو جنرل پرویز مشرف کی نظرِ کرم کی بدولت تھی جبکہ دوسری اسمبلی ساری جمہوری قوتوں کی باہمی رضا مندی اور کوششوں سے پانچ سال پورے کرنے میں کامیاب ہوئی اور میاں محمد نواز شریف 14سالوں کے بعد وزارتِ عظمی کی اس مسند پر دوبارہ جلوہ افروز ہوئے جو ان سے جنرل پرویز مشرف نے ایک فوجی شب خون میں 12 اکتوبر 1999میں چھین لی تھی۔آج کل وہی جنرل پرویز مشرف اپنی بیٹی کے گھر کراچی میں نظر بند ہے اور اس نے جنہیں زندانوں کی صعوبتوں کے حو الے کیا تھا وہ بر سرِ اقتدار ہیں۔ آئین کا آرٹیکل چھ آئین شکن جنرل پرویز مشرف کے سر پر ایک ننگی تلوار کی طرح لٹک رہا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے کب سوچا ہو گا کہ میاں محمد نواز شریف ایک دن وزیرِ اعظم پاکستان بن جائیں گئے اوروہ اپنے ہی گھر میں اسیر ہو جائے گا اور اس کی اپنی جان عدالت کے رحم و کرم پر ہو گی۔ تاریخ کا کھیل بھی بڑا عجیب و غریب اور بے رحم ہے۔یہ کسی کے ساتھ رورعائت نہیں کرتا۔بادشاہ گدا گر بن جاتے ہیں اور جلا وطنی کا زہر پینے والے مظلوم لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔قر آنِ حکیم اس طرح کے بے شمار واقعات کا ذکر کرتا ہے لیکن ہم ان واقعات سے سبق سیکھنے کی بجائے انھیں واقعاتی اور تاریخی رنگ دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور ا ن کے اندر چھپی حکمت سے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم اپنی اکڑ فوں اور غروروتمکنت میں وہ کچھ کر جاتے ہیں جو انصاف،حکمت اور انسانیت کے تقاضوں کے خلاف ہوتا ہے۔

تاجی کھوکھر نے سینکڑوں بیوائوں یتیموں نا بینائوں کے وظیفے ماہانہ ششماہی اور سالانہ مقرر کئے جو آج تک ان کو مل رہے ہیں عوام الناس کی خدمت پر نظر ڈالیں تو لال مسجد سے متصل جامعہ حفظہ تعمیر کرائی کئی ہائوسنگ اسکیموں میں مساجد اور مدارس تعمیر کرائے جیل میں ندار قیدیوں کی مالی مدد کی اور ان کو رہا کرایا قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لاتعداد کام کرائے لیکن دوسری طرف گناہ ناکردہ میں ان کے جیل جانے کے بعد لاتعداد غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے افواہوں کا شکار عام فہم لوگ کہتے ہیں کہ ڈیرہ تاجی کھوکھر خوف دہشت کی علامت ہے لین واقفان اسے دار الامن قرار دیتے ہیں جو مجبور و مقہر لوگوں کا سائبان ہے۔ جب آسف علی زرداری کو نیب کے بعض مقدمات میں سزا یا جیل ہوئی تو احتساب عدالتوں میں پیشی ہو یا لانڈ ھی جیل سے اڈیالہ جیل تک کا سفر تاجی کھوکھر جسم کے سائے کی مانند ان کے ساتھ رہتے،ان کے بڑے بھائی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر حاجی نواز کھوکھر،دوسرے بھائی راولپنڈی کے سابق ضلعی نائب ناظم افضل کھوکھر اور بھتیجے سابق وزیراعظم کے مشیر مصطفےٰ نواز کھوکھر،ان کے بڑے بیٹے اور چھوٹے بیٹے فرخ کھوکھر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،دشمن داری اور ڈیرہ تاجی کھوکھر کی قلعہ نما فصیلوں میں کھڑی وفادار اسلحہ بردار فورس اور دیواروں پر جڑے ہوئے جانوروں کی کھالوں والے مجسموں کے باعث اگرچہ ڈیرہ تاجی کھوکھر دہشت اور خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن ڈیرہ کے قواعدو ضوابط کو فالو کرنے کے بعد جب کوئی شخص اندر پہنچتا ہے تو ڈیرہ کے مکینوں کی روائیتی مہمانداری اور خلوص سے گرویدہ ہوکر وہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے،ڈیرہ کے صولوں میں سب سے بڑ اصول وفاداری کو تصور کیا جاتا ہے ،غداروں کیلئے وہاں کوئی جگہ نہیں ہے،تاجی کھوکھر کو رئیل سٹیٹ کے شعبہ میں قابل فخر کامیابی حاصل کرنے والے بحریہ ٹائون کے سربراہ ملک ریاض کا انتہائی معتقد ساتھی بھی سمجھا جاتا ہے،ان پر الزام ہے کہ وہ ملک ریاض کے مفادات کیلئے کام کررہے ہیں، ملک ریاض جنہوں نے غربت دیکھی،پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ آٹھ کلو میٹر پیدل سفر کیا،جن کے پاس اپنی بیٹی کے علاج کیلئے بھی پیسہ نہ تھا،ایسے ہی جیسے اگر امریکی سیاہ فام شخص اوباما 47 برس کی عمر میں امریکہ کا صدر بن سکتا ہے،دکانوں پر کوکا کولا کی بوتلیں سپلائی کرنے والا امریکی وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص بن سکتا ہے تو آج ملک ریاض کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ بھی اللہ کی دین ہے اور ان کے 75 فیصد اثاثے فلاحی مقاصد کیلئے استعمال ہورہے ہیں،ملک میں زلزلہ آئے یا سیلاب، تھر کی قحط سالی ہو یا یتیم بچیوں کی شادیوں کا مسئلہ،بحریہ ویلفیئر ویلیجز،مساجداور ہسپتالوں کی تعمیر،بحریہ دستر خواں ہو یا قزاقوں سے مغوی پاکستانیوں کی رہائی کا معاملہ ملک ریاض نے کھربوں روپے خرچ کیئے ہیںکسی حسد اور بغض کی بجائے ان کی انسانی اور سماجی خدمات کو بھی یاد رکھا جانا چاہیئے،،ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض ملک جنہوں نے کبھی چڑیا کاپر بھی نہیں کاٹا ان پر بھی اقدام قتل اور زمینوں پر قبضے کے بے شمار مقدمات درج ہوئے ،موجودہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور ملک ریاض کے مابین رنجش کی وجہ سے ملک ریاض اور تاجی کھوکھر کی دوستی کا جرم واقعی ناقابل معافی تھا ،ان پر سیکورٹی کے دلخراش سانحات کو بنیاد بناتے ہوئے جھوٹے مقدمات قائم کیئے گئے ۔ وہ وقت پتا نہیں کب آئے گا جب انتقام کی آگ بجھے گی اور اقتدارکی شمع غریبوں کی محرومیوں کو دور کرنے کیلئے روشن رہیگی۔

یہ ساری داستانیں انسانوں کی بے راہ روی اور ا نصاف کا خون کرنے کے تباہ کن مضمرات کا بیان ہیں لہذا جس نے تاریخ کے ااندر بیان کردہ اس بے رحم سبق کو از بر یاد کرلیا اور انصا ف کا علم تھام لیا انھیں موت سے بھی مارا نہ جا سکا بلکہ وہ ہمیشہ کیلئے زندہ و جاوید ہوجاتا ہے،آزادی اور سونامی مارچ کے بعد دھرنوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال میں پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نیوزیراعظم نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا ہے، لہذا امید کی جاتی ہے کہ ان کے اندر صبرو تحمل اور برداشت کا مادہ کافی مضبوط ہو گا اور وہ ایک مختلف انسان کے روپ میں ہمارے سامنے آئیں گئے۔اگر وہ اب بھی اناکے قیدی بنے رہے تو یہ پاکستان کی بڑی بد قسمتی ہوگی۔ قوم اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے ۔وہ اپنی تکالیف کا ازالہ چاہتی ہے جسے وہ سا لہا سال سے برداشت کر رہی ہے۔میاں محمد نواز شریف کو ایک روا ئتی سیاست دان کی بجائے ایک مدبر سیا ستدان کے روپ میں سامنے آنا ہو گا۔وہ چونکہ خود بہت ہی کٹھن دور سے گزرے ہیں لہذا انھیں احساس ہو گا کہ تکالیف کیا ہوتی ہیں اور ان کا درد کتنا شدید ہوتا ہے۔انھوں نے جیلوں کو بھی دیکھا ہے۔جلا وطنی کو بھی برداشت کیا ہے۔وطن کی مٹی اور اس کے عوام سے سالہا سال دوریوں کا زہر بھی پیا ہے لہذا ان کے اندر پاکستان کی تشکیلِ نو ،عوام کی حالت زار کو بدلنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ان کے سینے میں ایک امنگ اور تڑپ ہو گی جو انھیں ہمہ وقت بے چین کئے ہو گی۔خدا کرے وہ انتقام کی چھپی ہوئی چنگاری کو بجھاکر اپنے جذبوں کو عمل کا روپ عطا کر سکیں اورعوامی توقعات پر پورا اتر سکیں۔ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

Mumtaz Khan
Mumtaz Khan

تحریر : ممتاز خان

Share this:
Tags:
friendship government History travel World بحریہ ٹاؤن تاریخ حکومت دنیا دوستی ڈیرہ سفر
Previous Post بنوں میں راشن کی تقسیم کے دوران بدنظمی، راشن سینٹر خالی کروا لیا گیا
Next Post علاقہ میں امن وامان کا قیام برقرار رکھنا میری ذمہ داری میں شامل ہے۔ ایس ایچ او محمد نواز

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close