Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ویساکھی : استقبال بہار

April 12, 2019April 12, 2019 0 1 min read
Baisakhi
Baisakhi
Baisakhi

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

سکھوں کا کیلنڈر”نانک شاہی”کیلنڈر ہے جو شمسی تقویم سے ملتا جلتا ہے۔یہ کیلنڈر بابا گرونانک ،بانی سکھ مذہب، کی پیدائش والے سال 1469ء سے شروع ہوتاہے اور حسب دیگر بارہ مہینوں پر مشتمل ہے۔نانک شاہی تقویم کے مطابق ”چیٹ”کے مہینے سے سال کاآغازہوتاہے اور دوسرے مہینے ”ویساکھ”کی آمد سے دھان کی کٹائی کاعمل شروع ہوجاتاہے۔اس فصل کی کٹائی کامطلب سال بھر کے رزق کی کامیاب فراہمی ہے۔فصل کی کٹائی کے آغازپر یعنی ویساکھ کی پہلی تاریخ سے پنجاب بھر”ویساکھی”کے میلوں کاآغاز ہوجاتاہے۔سکھوں کے ہاں یہ میلہ ایک مذہبی رسم کی شکل میں منایاجاتاہے جب کہ غیرسکھ پنجابی اس دن کو فصل کی کامیاب کٹائی اورموسم بہارکی آمد کے طورپر مناتے ہیں۔فصل کی کامیاب کٹائی پر خداکاشکراداکیاجاتاہے اور آئندہ سال کے لیے دعائیں ومناجات بھی کی جاتی ہیں۔سکھ مذہب کے مطابق ان تاریخوں میں چونکہ خالصہ کااستحکام ہوا تھاچنانچہ یہ مذہبی و علاقائی تہوارسکھوں کے ہاں بڑی اہمیت کاحامل ہے۔ہندوکاشتکاروں کے ہاں بھی ان تاریخوں میں فصل کی کامیاب کٹائی کے باعث ایک تہوار منایا جاتا ہے لیکن اس کے مختلف نام ہیں جیسے ”پاہیلا بیشاک”یا”نابوبارشو”یا”بوہگ باہو” وغیرہ۔

گروامرداس(1479-1574) سکھوں کے دس میں سے تیسرے گروتھے جنہوں نے سکھ ملت کے لیے تین تہواروں کاانتخاب کیا۔”مہاشیوراتری یاماگھی”،”دیوالی”اور”ویساکھی”۔یہ تینوں تہوار ہندؤں میں جاری تھے چنانچہ تیسرے گرونے سکھوں کو بھی اجازت دے دی کہ وہ بھی ہندؤں کے ساتھ مل کران تہواروں کو مذہبی و ثقافتی طورپر منائیں گے۔گروامرداس ہندوتھے لیکن ان کی بہو ”بی بی امرو”سکھوں کے دوسرے گرو،گروانگددیوکی بیٹی تھیں،جو سکھوں کی مقدس کتاب ”گرنتھ صاحب”کی تلاوت کررہی تھیں۔گروامرداس اس کتاب کے مندرجات سے متاثرہوئے اور سکھ مذہب اختیارکرلیااور دوسرے گرونے اپنی وفات سے پہلے انہیں بطور خلف روگروکے نامزد کردیا۔چنانچہ دوسرے گروکی وفات کے بعد گروامرداس نے بطورتیسرے گروکے سکھ ملت کی امامت کی۔گروامرداس اس لحاظ سے بہت اہم گروہیں کہ انہوں نے سکھ ملت کو نئے مذہبی شعائرسے آشناکیا،انہوں نے بچوں کے نام رکھنے کے آداب،نکاح اور جنازہ کے طریقے اور مذہبی تہوار متعارف کرائے۔مذہبی تہوار منانے کے لیے انہوں نے سب سے پہلے ”گوردوارہ”نامی عمارت کاتصورپیش کیاجو ایک مذہبی عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ سکھ تہواروں کے مواقع پر سکھوں کے اجتماعات کے لیے مرکزی مقامات کی حیثیت کی حامل ہیں۔اسی لیے بیساکھی کاتہوارمیں تب سے گوردوارہ کو مرکزی مقام حاصل رہاہے۔ان سے ایک کتاب بھی منسوب ہے جس میں ان کے اقوال درج ہیں۔بیساکھی کامیلہ انہوں نے ہی سکھ مذہب میں داخل کیا۔

ویساکھی کاموقع ایک اور حوالے سے بھی سکھ مذہب میں تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دن سکھوں کے دسویں اور آخری گرو،گرو گوبندسنکھ(1666-1708) نے 1699ء میں آنندپورصاحب کے اندر ”خالصہ پنتھ”کی داغ بیل ڈالی۔اس دن انہوں نے پہلے پانچ پیاروں کو”امرت پان”کرکے خالصہ بنایا۔انہوں نے بھرے مجمعے میں پہلے ایک زبردست تقریر کی پھرننگی تلواردکھاکراعلان کیاکہ کون مجھے اپنا سر دے گا،ایک سکھ ان کے خیمے میں چلاگیا،باقیوں کو محسوس ہواکہ اسے قتل کردیاگیاہے کیونکہ گروخون آلود تلوارکے ساتھ باہر نکلے تھے۔پھردوسراسکھ گیا،تب بھی لوگوں کو یہی محسوس ہوا،پھرتیسرا،چوتھااورپانچواں گیا۔گروکی خون آلودتلوارکے باعث لوگوں نے سمجھاکہ سب قتل ہوچکے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد گروگوبندسنگھ ان پانچوں کو کیسری رنگ کی پگڑی پہناکرباہرلائے اوراعلان کیاکہ یہ میرے ”پنج پیارے”ہیں۔ان کے نام؛
1۔ دیاسنگھ:اس کانام”دیارام”تھا جو کھتری نسل سے تعلق رکھتاتھااورلاہور کارہنے والا تھا،اس کانام بعد میں ”دیاسنگھ” ہوگیا۔

2۔دھرم سنگھ:یہ دھرم داس تھاجو سہارنپورکارہائشی تھاجوبعد میں ”دھرم سنگھ”کہلایا۔
3۔ہمت سنگھ:ہمت چندنامی یہ سکھ ضلع پٹیالہ کارہنے والاتھاجوبعد میں ”ہمت سنگھ”کے نام سے موسوم ہوا۔
4۔محکم سنگھ :محکم چند چھنباجوانبالہ کاباسی تھااور بعد میں ”محکم سنگھ”سے مشہورہوگیا۔

5۔صاحب سنگھ :صاحب چند جوہوشیارپورکاایک نائی تھا اور بعدمیں ”صاحب سنگھ”کہلایاجانے لگا۔

یہ پانچ افراد مختلف نسلوں اور پیشوں سے تعلق رکھتے تھے،گرونے سب کوایک کر کے یہ نسلی و علاقائی تفاخر مٹادیا۔اس موقع پرپہلی دفعہ سکھوں کے لیے ”سنگھ”کالاحقہ ایجادہوا،گرونے نے پنج پیاروں کے نام کے ساتھ ”سنگھ”کااضافہ کیااور خود کے لیے بھی ”گروگوبندرائے”کی بجائے”گروگوبندسنگھ”کہلائے۔یہ ایک طرح سے سکھوں میں عسکریت کاآغازتھاجس کامقصد سکھ ملت کااجتماعی دفاعی کرنا مقصود تھا۔چنانچہ ویساکھی کے تہوارکو خالصہ کے وجود کایوم آغازہونابھی میسرہے۔اسی موقع پر دسویں گرونے سب سکھوں کے لیے ”سنگھ”کاخطاب جاری کیااور انہیں ایک ضابطہ اخلاق بھی مرحمت کیاجس کے مطابق سگریٹ،شراب اور زناکی ممانعت کر دی گئی۔اسی ویساکھی کے دن دسویں گرو،گروگوبندسنکھ نے سکھوں کے لباس میں میں پانچ چیزیں داخل کیں جن کا تلفظ ”ک”سے شروع ہوتاہے:
1۔کیس یعنی لمبے بال؛سکھوں کے گرو اپنے جسم سے بال نہیں کاٹتے تھے،چناچہ سکھ اپنے لمبے بالوں کو چھپانے کے لیے پگڑی پہنتے ہیں۔
2۔کنگھا؛لمبے بالوں کوالجھاؤسے بچانے کے لیے سکھوں کے ہاں کنگھارکھناایک مذہبی رسم ہے۔
3۔کڑاجو کلائی میں پہناجاتاہے؛اسٹیل یاکسی دھات کی بنی موٹی چوڑی جو قوت کے نشان کے طورپر کلائی پر چڑھائی جاتی ہے۔
4۔کچھا،زیرجامہ؛یہ گھٹنوں تک کی لمبائی کا زیرناف پہناواہے جو چاک و چوبند اور چست و چالاک رہنے کی علامت سمجھاجاتاہے۔
5۔کرپان یعنی خنجر؛یہ چھوٹی ساتلوارنماہتھیارہے جو دفاع کے مقصد کوپوراکرتاہے۔
یہ پانچ ”ک”سے شروع ہونے والے پانچ ککے کہلاتے ہیں جنہیں سکھ مذہب میں شعائرکاتقدس حاصل ہے۔ان کی ابتدابھی ویساکھی کے دن ہوئی۔سکھ مذہب میں ان پانچ ”ککوں” کی بہت پابندی کی جاتی ہے اور دنیاکے کسی خطے میں یاکسی پیشے سے وابسطہ ہوں سکھ مذہب کے لوگ اپنی ان مذہبی علامات کو ترک نہیں کرتے ۔

اس دن کی ایک اوراہمیت غم و اندوہ سے بھراہو”جلیانوالہ باغ”کاخونین واقعہ بھی ہے۔یہ 13اپریل 1919ء کادن تھاجب برطانوی سیکولرسامراج نے ہندوستانیوں کے جمہوری غصب کرکے توکرفیوکے نام پر مارشل لاء نافذکیاہواتھا۔برطانوی احکامات کے مطابق چارسے زائدافرادکاایک جگہ جمع ہونا منع تھا۔امرتسرجوسکھوں کے لیے مقدس شہرکی حیثیت رکھتاہے وہاں ویساکھی کے میلے میں گردونواح کے ہزاروں سکھ زائرین سالانہ میلے کے لیے حسب سابق جمع تھے اوران کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بدیسی سیکولرحکمرانوں نے پابندیاں لگارکھی ہیں۔یہ خالصتاََایک مذہبی و سماجی وثقافتی میلہ تھاجہاں قرب و جوار کی بستیوں اورچھوٹے شہروں سے آئے ہوئے سکھ یاتری اپنا تہوارمنانے آئے تھے۔انگریز حاکم جنرل ڈائراپنی گورکھافوج کے نوے سپاہیوں اوردو بکتربندگاڑیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔باغ کے پانچ دروازوں کاراستہ اتناتنگ تھاکہ بکتربندگاڑی کااندرجانا ممکن نہ تھا۔نوے میں سے چالیس گورکھاسپاہیوں کے پاس لمبی لمبی سنگینیں تھیں اور پچاس کے کے پاس تھری ناٹ تھری کی بھاری بھرکم بندوقیں تھیں۔سہ پہر5-30بجے جب میلہ اپنے جوبن پر تھاتب ظالم انگریزجنرل نے اپنی گورکھاررسالے کو گولیاں چلانے کاحکم صادرکردیا،دس منٹ تک بندوقیں آگ اگلتی رہیں یہاں تک کہ گولیاں ختم ہوگئیں تب اس خون کی ہولی نے تھمنے کانام لیا۔ماہرین کے مطابق تھری ناٹ تھری کی گولی ایک سے زائد جسم چھلنی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔چنانچہ ہزاروں زائرین موقع پر ہلاک ہوئے اور زخمیوں کو بھی بوجہ کرفیوہسپتال پہنچانے کی اجازت نہ دی گئی جس کے باعث رات گئے تک کئی زخمی بھی چل بسے۔جمہوریت اور انسانیت کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں اس واقعے کے بعد اس طرح کے احکامات بھی سامنے آئے کہ جوہندوستانی کسی انگریزسے ایک لاٹھی کے فاصلے تک آیااسے سرعام کوڑے مارے جائیں گے اورایک خاص سڑک پر سے گزرنے والے ہندوستانیوں کو حکم دیاگیاکہ وہاں سے ہاتھوں پاؤں کے بل چل کرگزریں گے۔اوران سب پر مستزاد یہ کہ بہت سے برطانویوں نے اس قتل عام کے اصل مجرم جنرل ڈائرکو برطانیہ کاہیروقراردیا۔

ویساکھی کادن جب بھی آتاہے تومیلے اور قتل عام ۔دونوں کی یادتازہ کرتاہے۔بہرحال وقت بہت بڑامرہم ہوتاہے جس سے دکھوں کے گھائل بھرجاتے ہیں۔ایک صدی سے زائدگزرجانے کے بعد اب اگلی نسلوں کے رنگ ڈھنگ بدل چکے ہیں اورپنجاب بھرمیں ویساکھی کادن رنگ و نور کی برسات لیے طلوع ہوتاہے۔”گردواروں”جوسکھ مذہب کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں ،انہیں خوب سجایاجاتاہے،ان میں ”کرتان کار”جو قوال ہوتے ہیں ،وہ براجمان ہوجاتے ہیں۔لوگ گردواروں میں آنے سے پہلے جھیلوں میں دریاؤں میں نہاتے ہیں۔پھر سب لوگ مذہبی عبادت گاہوں میں جمع ہوجاتے ہیں جہاں کرتان کار موسیقی کے ساتھ گاکر انہیں پندونصائح کرتے ہیں۔یہ کرتان کار پہلے گلیوں میں چکرلگاتے ہیں،ان میں سے پانچ نے ”پنج پیاروں”کاسالباس پہناہوتاہے ،باقی سب ان کے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔گلیوں میں ان کرتاران کے پیچھے پیچھے باقی سکھ بھی جمع ہوتے رہتے ہیں اور مل کر گاتے بھی رہتے ہیں۔بعض سکھوں کے ہاتھوں میں ان کی مقدس کتاب ”گرنتھ صاحب”بھی ہوتی ہے۔بعض مقامات پر صرف کرتان کارگاتے ہیں اور باقی شرکاء سنتے ہیں جب کہ بعض مقامات پر سب مل کر گاتے ہیں،یعنی پہلے کرتان کار گاتے ہیں پھر انہیں کاگایاہوا شرکاء بھی گاکر دہراتے ہیں اور بعض مقامات پر ایک حصہ سوال کے طورپر کرتان کار گاتے ہیں اور پھرجواب میں شرکاء بھی گاکر جواب دیتے ہیں جب کہ آلات موسیقی بھی اس دوران شرکاء کاساتھ دیتے رہتے ہیں۔اس موقع پر بہت سے سکھ ”خالصہ”بن جاتے ہیں یعنی ایک مذہبی رسم کے بعد انہیں اخلاص عطاکردیاجاتاہے ۔معبدسے فراغت کے بعد باہم ملنے جلنے کاعمل شروع ہوتاہے جو پورادن جاری رہتاہے۔لوگ اکیلے اوراپنے اہل خانہ کے ہمراہ دوسروں کے گھروں میں جاتے ہیں ،طرح طرح کے پکوان تیارکیے جاتے ہیں اور مہمانوں کی آمد پر سجاسجاکر ان کے سامنے چن دیے جاتے ہیں۔پرتکلف کھانوں اور لذیزپکوانوں سے اس تہوارکامزہ دوبالا ہوجاتاہے۔گھروں میں بھی چھوٹے اور بڑے پیمانے پر تقریبات منعقدکی جاتی ہیں جن میں کھانے پینے کے علاوہ موسیقی بھی شامل ہوتی ہے۔

”آوت پاؤنی”یہ ایک اور سکھ مذہب کی رسم ہے جو بیساکھی کے موقع پر پوری کی جاتی ہے۔اس رسم کے مطابق تما م کسان،مزدور،زمینداراور کھیتوں میں کام کرنے والے اور والیاں کل افرادکھیتوں میں اورفصلوں میں جمع ہوجاتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔”آوت پاؤنی”پنجابی زبان کی اصطلاح ہے جس کالفظی مطلب ہے کہ سب آجاؤاور جمع ہوجاؤ۔چنانچہ ویساکھی کے موقع پر فصلوں کی کٹائی کے لیے مشینوں کے استعمال سے پہلے کل برادری، یاردوست، مہربان، محسن، پڑوسی،رشتہ داراوروہ لوگ جو دوردرازعلاقوں میں گئے ہوتے ہیں، وہ بھی جمع ہوجاتے ہیںاورمل کر فصل کی کٹائی کو تہوار کی حیثیت سے مناتے ہیں۔اس موقع پر بڑے بڑے ڈھول لاکر بجائے جاتے ہیں اور ”پنجابی ڈوہڑے”گائے جاتے ہیں۔فصل کی کٹائی کے دوران اور بعداز تکمیل اس رسم کے شرکاء ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہیں اور”لڈی” یا”بھنگڑا”ڈالتے ہیں جواجتماعی رقص کی ایک علاقائی رسم ہے۔”لڈی”یا”بھنگڑا”سے مرادسب لوگ ایک دائرے کی شکل میں ڈھول کے گرد جمع ہوکر ناچتے ہیں رہتے ہیں اور دائرے میں چلتے بھی رہتے ہیں۔ڈھول والایاکوئی اور پنجابی شعر پڑھتاہے تو سب لوگ اس شعرکادوسرامصرع مل کردہراتے ہیں،پھرگانے والا اگلا شعر پڑھ دیتاہے۔اس موقع پر میزبانوں کی طرف سے روایتی کھانے پینے کابھی انتظام ہوتاہے جیسے گھی شکر،کڑھائی حلوہ،دودھ،دہی،لسی وغیرہ جو شرکاء کو وقتاََ فوقتاََ پیش کیاجاتے رہتے ہیں۔اس ساری رسم میں خواتین بھی اپنے آپ کو ڈھانپتے ہوئے شرم و حیاکے لبادے میںجزوی طورپر شریک رہتی ہیں۔

اسلام کے بعد سکھ وہ واحدمذہب ہے جو شرک سے پاک ہے۔سکھ اپنے خداکواسی شرائط کے ساتھ مانتے ہیں جو سورہ اخلاص میں قرآن کے اندروارد ہوئی ہیں۔صدیوں تک ہندوؤںکے درمیان رہنے کے باوجود اس مذہب میں بت پرستی داخل نہیں ہوسکی اورپتھروں کے سامنے رام رام جپنے والے سکھوں کوشرک نہیں سکھاسکے۔سکھ اپنے مذہب کے پکے لوگ ہیں اورمسلمانوں کے لیے ان کے ہاں بہت کچھ نرم گوشہ موجودہے۔قومیں قوموں کو معاف نہیں کرتیں کے مصداق تقسیم ہندکے وقت مسلمان قافلوں کے راستے میں مشرقی پنجاب ایک جغرافیائی مجبوری تھی لیکن سکھوں نے ان مہاجروں کے ساتھ جو سلوک کیاوہ زخم آج بھی تازہ ہے۔اگرچہ سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی سے صرف برہمن نے فائدہ اٹھایالیکن اگست1947ء کی خون آشام راتیں،لٹے پھٹے قافلے اور لاشوں سے بھری ریل گاڑیاں تاریخ کے وہ اندوہناک اسباق ہیں جو پاکستان کوکبھی نہیں بھولیں گے۔سکھوں کے کرپان کس طرح مسلمانوں کے سینوں میں پیوست ہوئے اور مشرقی پنجاب میں عصمت اسلام کس طرح تارتارہوئی ،کربناک لمحات سینہ بہ سینہ آج بھی ازبرہیں۔ظلم و ستم کی ناقابل فراموش داستانیں سکھ ملت پرلہولہورلانے کاقرض ہیں۔جس برہمن کی آشیربادکے لیے سکھ مسلمانوں پرقہربن کرٹوٹے اسی سودخور نے 1984ء میں سکھوںکی گولڈن ٹیمپل جیسی مقدس عبادت گاہ کوخون میں نہلاکراورناپاک فوجی بوٹوں تلے روندکر سکھوں پرایک اوربھاری قرض چڑھادیا۔تاریخ کادھارابہت تیزی سے آگے بڑھ رہاہے ،کہیں نہ کہیں اس قرض کو چکانا ہے کہ قومیں قومیں کبھی معاف نہیں کرتیں خواہ نسلیں اور صدیاں ہی بیت جائیں۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com

Share this:
Tags:
calendar History Religion Sikhs successful تاریخوں سکھوں کامیاب کیلنڈر مذہب
Imran Khan
Previous Post وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی
Next Post پاکستان کپ 2019 کا ٹائٹل خیبرپختونخوا نے جیت لیا
Pakistan Cup 2019

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close