Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قندیل بلوچ کا قتل، محرکات اور ذمہ دار

July 20, 2016 0 1 min read
Qandeel Baloch
Qandeel Baloch
Qandeel Baloch

تحریر : محمد صدیق پرہار
بچپن میں ایک کہانی سناکرتے تھے۔کہانی کچھ یوں تھی کہ کسی بادشاہ اورکسان کے بیٹے کی گہری دوستی تھی۔ ہروقت دونوں ایک ساتھ رہتے۔جہاں بھی جاتے ایک ساتھ جاتے۔ جوچیزخریدتے مل کرخریدتے۔ کھانابھی مل کرکھاتے تھے۔بادشاہ اپنے بیٹے کی اس دوستی سے سخت پریشان تھا ۔ اس نے بیٹے سے باربارکہا کہ کسان کے بیٹے سے دوستی ختم کردے۔ تیری اوراس کی دوستی اچھی نہیں لگتی۔توبادشاہ کابیٹا ہے تونے کسان کے بیٹے کودوست بنارکھا ہے یہ مناسب نہیں ہے۔ بادشاہ نے مختلف طریقوں سے یہ دوستی ختم کرانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکا۔بادشاہ ایک دن پریشان بیٹھا تھا کسی نے پوچھا کہ بادشاہ سلامت خیریت تو ہے آج پریشان دکھائی دے رہے ہو۔ بادشاہ نے کہا کہ بیٹے کی دوستی کی وجہ سے پریشان ہوں۔ بیٹے بیٹے کوباربارسمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ یہ دوستی ختم کردے ۔ بیٹا ہے کہ اس پرکسی بات کااثرہی نہیںہوتا۔

بادشاہ سے کہاگیا کہ اتنی سی بات پرپریشان ہوگئے ہو۔بادشاہ نے کہا کہ میرے سارے حربے ناکام ہوگئے توکہتے ہواتنی سی بات ہے۔کہنے والوںنے کہا کہ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے۔بادشاہ نے چونک کرکہاوہ کیسے ۔ بادشاہ کوبتایا گیا کہ شہر سے کسی مکار عورت کوبلوالو۔ اس کے ذمہ یہی ڈیوٹی لگائو وہ دومنٹ میں یہ کام کردے گی۔بادشاہ کے حکم پرشہرسے مکارخاتون لائی گئی۔ بادشاہ نے اسے اپنے اورکسان کے بیٹے کی دوستی اوراپنی پریشانی کاماجراسنایا۔مکارخاتون نے کہا کہ اس میںبرائی کیا ہے۔یہ توسچی دوستی ہے اوردوستی کسی کی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔

بادشاہ نے کہا کہ مجھے یہ دوستی اچھی نہیں لگتی تو یہ دوستی ختم کرادے ۔مکارن نے کہا یہ تومیرے لیے معمولی بات ہے۔ اس کے بعد وہ مکارخاتون جوکہ بوڑھی ہوچکی تھی۔ بادشاہ کے بیٹے اورکسان کے بیٹے کی تاک میں رہنے لگی۔ ایک دن دونوں ایک ساتھ بیٹھے تھے۔مکاربڑھیا ان کے نزیک گئی ۔ ان میں سے ایک دوست کوالگ لے گئی ۔ اس کے کان کے ساتھ اپنامنہ لگایا اورمنہ کواس طرح ہلانے لگی جیسے کوئی بات کررہی ہو۔حقیقت میں اس کے کان میں اس نے کوئی بات نہیں کہی۔یہ کرتب دکھا کرمکاربڑھیاتوچلی گئی۔وہ دوست اپنے دوست کے پاس آیا تواس نے پوچھا کہ بڑھیا نے کان میں کیاکہا ہے اس نے کہا کہ کچھ نہیں کہا۔وہ دوست کہنے لگا کہ توجھوٹ بول رہا ہے اس نے کوئی بات ضرورکہی ہے۔اس نے کوئی بات نہیںکی۔ دوست نے جواب دیا۔اسی کشمکش میں دونوںمیں لڑائی ہوگئی۔یوںبادشاہ کی خواہش کے مطابق یہ دوستی ختم ہوگئی۔

Raheel Sharif
Raheel Sharif

یہ کہانی راقم الحروف کواس وقت یادآئی جب اس نے اخبارات میں اب آبھی جائو کے بینرزکی خبر اوراس پرحکومتی اوراپوزیشن سیاستدانوں کاردعمل پڑھا۔ راولپنڈی سمیت دیگرشہروںمیںمووآن پاکستان کی طرف سے پینافلیکس لگائے گئے ہیں جن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصویر ہے اورلکھا ہے کہ جانے کی باتیںہوئیں پرانی۔خداکیلئے اب آجائو۔یہ پینافلیکس مووآن پاکستان نے خودلگائے ہیںیاکسی کے کہنے پرلگائے یہ بات ابھی رازہی ہے ۔پاک فوج کے ترجمان اورآئی ایس پی آرکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹرپیغام میںکہا ہے کہ مختلف شہروںمیں آرمی چیف کی تصاویر اورپوسٹرزاوربینروں سے پاک فوج یاپاک فوج سے منسلک کسی بھی ادارے کاکوئی تعلق نہیں ہے۔اعتزازاحسن نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کوخطرہ ہے نہ فوج ٹیک اوورکررہی ہے ۔اسلام آبادمیں آرمی چیف کی حمایت میں پوسٹرلگاناہمیں خوف زدہ کرنے کی حکومتی چال ہے۔حکومت پروپیگنڈا کے ذریعے ہمیں بدنام کرناچاہتی ہے۔

خورشیدشاہ نے کہا کہ اسلام آبادمیں ایک برائے نام پارٹی کے سربراہ نے خلاف آئین بینرزلگائے مگرحکومت میں اتنی جرات نہ ہوئی کہ وہ ان بینروںکواتارنے کاحکم دیتی۔وفاقی وزیراطلاعات کاکہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے متعلق شکوک وشبہات پھیلاناآپریشن ضرب عضب کوکمزورکرنے کے مترادف ہے۔جبکہ انہیں بلانے والے نادان اوراحمق ہیں۔ایسے احمق اورنادان دوست کسی کابھلانہیں چاہتے۔اعتزازاحسن بینرلگانے کے حوالے سے الزام تراشی کررہے ہیں بینرزلگانے والوںنے اپنے فون نمبرلکھے ہیں۔ اعتزازبینرزلگانے والوںسے رابطہ کرسکتے ہیں۔حکومت کااس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب حکومت اوراپوزیشن دونوں نے ان بینروں سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے۔اب اصل کہانی کیا ہے ہمیں اس کیلئے انتظارکرنا ہوگا ۔اصل کہانی جوبھی ہویہ بات توطے ہے کہ جس طرح مکاربڑھیانے ایک دوست کوالگ بلاکردوسرے دوست کوغلط فہمی میںمبتلاکردیا۔جس سے دونوںمیں اعتماد ختم ہوگیا۔

اسی طرح بینرزلگانے والوںنے حکومت اورفوج اورحکومت اوراپوزیشن کے درمیان غلط فہمی پھیلانے کی ضرورکوشش کی ہے۔بڑھیاتواپنی سازش میں کامیاب ہوگئی ۔ادھربینرزڈپلومیسی کامیاب نہیںہوسکی۔ حالانکہ پاکستان میںمارشل لاء کی حکومت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی مارشل لاء کی حکومتیں رہ چکی ہیں۔ پاکستان میں اس سے پہلے مارشل لاء کی حکومتیں کیسے آئیں۔پس پردہ کون کون سی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں یہ سب واقفان حال بخوبی جانتے ہیں۔یہی مارشل لاء کوخوش آمدیدبھی کہتے رہے ہیں۔ترکی میں بغاوت کی ناکامی پرسیاستدانوںکاجوردعمل سامنے آیا ہے اس سے بھی یہی ظاہرہوتا ہے کہ پاکستان میںایسا ہوتا تو یہ سیاستدان حسب روایت مٹھائیاں تقسیم کرتے۔

Pakistan
Pakistan

جیسا کہ کچھ سیاستدانوںکومارشل لاء کابے چینی سے انتظار ہے پاکستان کے اکلوتے نائب وزیراعظم یہ منصب ان سے پہلے کسی کوملا ہے اورنہ ہی بعدمیں نے کہا ہے کہ عوام حکمرانوں سے تنگ آچکے زلزلہ اورمارشل لاء کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔موصوف سیاستدان کومارشل لاء کے ساتھ زلزلہ کابھی انتظارہے۔ ایسے خیرخواہوں سے قوم کواللہ بچائے۔ لگتا ہے چوہدری برادران میںبھی اس حوالے سے اتفاق رائے نہیں ہے۔ چوہدری شجاعت کہتے ہیں کہ پاکستان میں فوج کے ٹیک اوورکرنے کے حالات نہیں۔ جس طرح کسی بچے کوآئس کریم کھاتے ہوئے دیکھ کر بچے کاجی للچانے لگتا ہے ۔ اسی طرح ترکی میں فوج کوآتادیکھ کرپاکستانی سیاستدانوں کا جی بھی للچانے لگا ہے۔سیاستدانوںکی طرف سے توبینروںپرردعمل آیا ہے ۔ عوامی سطح پراس پرکوئی تبصرہ سننے میںنہیں آیا۔عوام کس کے ساتھ ہیں مارشل لاء کوخوش آمدیدکہیں گے یاترکی کے عوام جیساردعمل دکھائیں گے۔

اس پربھی سیاستدانوں کی اپنی اپنی آراء ہیں۔ عمران خان کاکہنا ہے کہ فوج آئی توایک آدمی بھی نوازشریف کیلئے نہیں نکلے گا۔ آئینی ماہرین کاکہنا ہے کہ مارشل لاء کی دعوت سنگین غداری ہے حکومت کارروائی کرے۔ مفتی عبدالقوی کے ساتھ سیلفیوں سے شہرت پانے والی ماڈل فوزیہ عظیم عرف قندیل بلوچ کواس کے بھائی نے گلادباکرقتل کردیا۔بختاوربھٹوکہتی ہیں کہ قندیل بلوچ کے بھائی کوسخت سزاملنی چاہیے۔مفتی قوی نے بھی قتل پرافسوس کااظہارکیا ہے اوراس کوشہیدقراردیا ہے۔پیپلزپارٹی کے سعیدغنی کہتے ہیں کہ غیرت کے نام پرقتل کوناقابل معافی جرم قراردیاجائے۔شرمین عبیدچنائے کاکہنا ہے کہ عورت کہاںجائے وہ گھرمیں بھی محفوظ نہیں۔جسٹس (ر)ناصرہ جاویدنے کہا ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل پراحتجاج ہوناچاہیے۔آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ قندیل بلوچ کاقتل ناقابل معافی جرم ہے۔

اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں تحریک التواء بھی جمع کرادی گئی ہے۔قندیل کے دوسرے بھائی کوبھی حراست میں لے لیاگیا ہے مفتی عبدالقوی سے بھی تفتیش کافیصلہ کیاگیا ہے جبکہ مفتی قوی کاکہنا ہے کہ مجھے شامل تفتیش کرنے کی خبرجھوٹی ہے ۔ قندیل بلوچ کی والدہ کہتی ہیں کہ بیٹے نے مفتی قوی کے کہنے پرقتل کیا ہے۔قندیل کے والدین کوبھی شامل تفتیش کیاگیا ہے۔ ان سے ابتدائی تفتیش میںکچھ اہم شواہدبھی ملے ہیں جنہیںصیغہ رازمیں رکھ کرتفتیش کی جارہی ہے۔ایف آئی آرکے اندراج اورپوسٹ مارٹم رپورٹ کے بہت سے سوال پیداہوگئے ہیں۔مدعی والدکے مطابق یہ قتل غیرت کے نام پرکیاگیاجبکہ اس مقدمہ میں اس کادوسراموقف یہ بھی ہے کہ یہ قتل پیسوںکی خاطرکیاگیا ۔ پولیس کوبتایاگیا کہ یہ قتل رات تین بجے کے قریب ہوا۔جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ایک رات پہلے آٹھ بجے سے نوبجے کے درمیان ہوا ہے۔ایک سوال یہ بھی پیداہوتا ہے کہ جس نے غیرت کے نام پرقتل کیاپھروہ موبائل فون اوررقم اٹھاکراپنے ساتھ کیوںلے گیا۔

Qandeel Baloch
Qandeel Baloch

ایک قومی اخبارمیں شائع ہونے والی اسی رپورٹ کے مطابق کچھ حالات اوربھی ایسے ہیں جن سے معاملات مزیدمشکوک نظرآتے ہیں ۔پرآسائش زندگی گزارنے کی عادی قندیل بلوچ کی لاش جس کمرے چارپائی پرپائی گئی وہاںکوئی اے سی نہیں تھا۔صرف ایک پنکھالگاہواتھا ۔ اس گھرمیںکوئی اعلیٰ فرنیچرموجودہے نہ کوئی گاڑی ۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس کے بھائیوںکااس کے ساتھ پیسوں کے لین دین پرجھگڑابھی رہتاتھا۔ایک اورقومی اخبارکی رپورٹ کچھ یوں ہے کہ مختلف ذرائع سے اس امرکاانکشاف ہوا ہے کہ ماڈل قندیل بلوچ کاقتل غیرت کالبادہ اوڑھ کرٹارگٹ کلنگ کی گئی ہے۔مذکورہ قتل میں قندیل کے بھائی وسیم کے ہمراہ اس کے تین اوررشتہ دارنوجوان بھی شامل ہیں۔مذکورہ نوجوانوںکومکمل منصوبہ بندی کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کیلئے آمادہ کرکے واردات سے قبل ماہڑہ خاندان اورمقتولہ کے اہل خانہ کے افرادکوغیرت کے نام پراکسانے اورقتل کے بعدقانونی پہلوئوں سے استفادہ کرکے قاتلوںکوبچانے کے بارے میں بھی بیان کیاگیا۔

اس تمام صورت حال میں چاروں نوجوانوں نے غیرت کے نام پرقتل کاموقف خاندان میں پھیلانے کی ذمہ داریاں اداکی ہیں۔قاتل بھائی وسیم نے بھی غیرت کے نام پرقتل کرنے کااعتراف کیا ہے۔یہ قتل ٹارگٹ کلنگ ہی ہے توبھائی کے ہاتھوںکیوںہوا ہے۔غیرت کے نام پرتوبھائی، والد، چچا، بہن، والدہ ، شوہر یادیگررشتہ دارتوقتل کرتے ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ بھی اب رشتہ دارکرنے لگے ہیں وہ بھی بھائی۔ ماڈل قندیل بلوچ کاقتل غیرت کے نام پرہوا ہے یایہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔یہ توپولیس کی تفتیش کے بعد واضح ہوجائے گا۔ قندیل بلوچ کے قتل کی توسب مذمت کررہے ہیں اورمذمت کرنی چاہیے۔ٹارگٹ کلنگ یاغیرت کے نام پرقتل کرنے کی اسلام اورملکی قوانین میںکوئی گنجائش نہیں ہے۔ان دونون عوامل کے ساتھ ساتھ ہمیں قتل کے پہلوئوں اورعوامل کوبھی دیکھناہوگا۔

ویسے توقندیل بلوچ کاقاتل اس کابھائی ہے جس نے اعتراف بھی کرلیا ہے۔غورکیاجائے تواس قتل کے ذمہ دارمقتولہ کے والدین، معاشرہ اورمیڈیابھی ہیں۔مقتولہ نے تین شادیاں پہلے کی ہوئی تھیں۔ اس نے عمران خان اورمفتی عبدالقوی کوبھی شادی کی دعوت دی۔اس کی شادیاںناکام کیوںہوئیں۔ یہ تواس کے والدین اوررشتہ دارہی بہتر جانتے ہوں گے۔اب سوال یہ بھی پیداہوتا ہے کہ کیاشادیوں کے ذمہ داراس کے شوہرتھے یاخودقندیل تھی۔ اسی سوال سے منسلک اورسوال یہ بھی ہے کہ شوہرہی ذمہ دارتھے توکیاتینوں شوہرہی ذمہ دارتھے۔شادیوںمیںناکامی کی ذمہ دار مقتولہ تھی تووالدین نے اس کوسمجھانے اورراہ راست پرلانے کی کوشش کی تھی یانہیں۔جس معاشرہ میں عورت کومعصوم اورمردکومجرم ظاہرکیاجائے وہاں شادیوں کی ناکامی اورگھروںکااجڑناحیرت کی بات نہیںہوتی بلکہ توقع کے عین مطابق ہوتا ہے۔جب مقتولہ کی کوئی شادی کامیاب نہیںہورہی تھی تووالدین نے اس کا تدارک کیوںنہ کیا۔اس کانکاح کرکے اتناکہہ دیتے کہ اب یہ شادی ناکام ہوئی توہم کوئی جوازتسلیم نہیںکریں گے اورہم سے برابھی کوئی نہ ہوگا۔ یہ شادی کبھی بھی ناکام نہ ہوتی۔

Qandeel and Qavi
Qandeel and Qavi

ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب مقتولہ مفتی قوی کے ساتھ سیلفیاں بنارہی تھی۔اس وقت اس کے والدین اوربھائی کہاں تھے۔مفتی قوی سے ملاقات کیلئے وہ کس کی اجازت سے گئی تھی۔جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا تواس کے والدین نے اسے گھرمیںکیوںپابندنہیںکیا۔تاکہ مزیدجگ ہنسائی سے بچاجاسکے۔ ایک قومی اخبارکی خبرکے مطابق سوشل میڈیاپراس کاقابل اعتراض گانابھی اپ لوڈہوا ہے۔گاناگاتے ہوئے گانے والوں اورگانے والیوں کے جومناظردکھائے جاتے ہیں وہ باعزت گھرانادیکھنابھی گوارانہیںکرسکتا۔مقتولہ بھی جب گایاکرتی تھی ۔توکیاوالدین نے اسے روکا تھا۔مان لیاوالدین نے اس کاگھربسانے اور اس کوگاناگانے سی بھی روکاتھا اوروہ ان کی کوئی بات نہیںمان رہی تھی توکیااس سے لاتعلقی کااعلان کیاتھا۔اس کے قاتل بھائی نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوںکے طعنے برداشت نہیں کرسکتاتھا۔قندیل بلوچ کے والدین اوربھائیوںکواس کے گاناگانے اورسیلفیاں بنانے پراعتراض نہیں تھا۔اعتراض ہوتاتو اعلان لاتعلقی ضرورکرتے۔ایسے میں غیرت کے نام پریہ قتل عجوبہ سالگتاہے۔میڈیابھی جب خبرشائع یانشر کرتا ہے تویہ نہیں دیکھتاکہ اس خبرکے معاشرہ پرکیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مفتی قوی کے ساتھ مقتولہ کی سیلفیاںبنائی گئی تھیں۔ وہ میڈیاکوکس نے فراہم کی تھیں۔ قندیل نے خودفراہم کی تھیںیاکسی اورنے۔ قوم میں سیلفیاںبنانے کاجوجنون چڑھاہوا ہے ۔ اس پربھی غورکرناہوگا۔بہت سے سیلفیاںبنانے کے شوقین حادثات کاشکاربھی ہوچکے ہیں۔پھربھی یہ شوق ہے کہ بڑھتاہی جارہا ہے۔اس شوق پربھی سختی سے پابندی لگاناہوگی۔اس قتل کیس سے اسلامی تعلیمات کی اہمیت اوربھی واضح ہوجاتی ہے۔اسلام میں عورت کوپردہ کرنے، چاردیواری میں رہنے اورغیرمحرم سے ملاقات اورباتیںنہ کرنے کاحکم دیاگیا ہے۔دانشور، این جی اوزاورانسانی حقوق کے پرچارکرنے والے توان تعلیمات کوعورت کوگھرمیں قیدکرنے کانام دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب تعلیمات عورت کے تحفظ کیلئے ہی ہیں۔عورت جب پردہ میں سفرکرے گی، گھرکی چار دیواری میں رہے گی اورغیرمحرم سے بات نہیںکرے گی تواس کی عزت بھی محفوظ رہے گی اورزندگی بھی۔عورت کے حقوق کاپرچاربھی بہت کیاجاتا ہے اوراس کی حفاظت کیلئے بتائی گئی اسلامی تعلیمات کی مخالفت بھی کی جاتی ہے۔یوںتوموت کاوقت، جگہ اورسبب مقرر ہے۔قندیل بلوچ نہ گھرکی چاردیواری میں رہی اورنہ ہی پردہ میں۔ اس نے غیرمحرم سے نہ صرف ملاقات اورباتیں کیں بلکہ اس کے ساتھ سیلفیاںبھی بناڈالیں۔

جہاںسے اس کے قتل کے محرکات کاآغازہوتا ہے۔وہ ایسانہ کرتی توشایداسے قتل نہ کیاجاتا۔چلوقندیل بلوچ توماڈرن تھی۔وہ ان تعلیمات پرعمل نہیں کرتی تھی۔مفتی عبدالقوی تواسلامی تعلیمات کواچھی طرح سمجھتے ہیں۔جب سیلفیاںبنائی جارہی تھیں تواس نے قندیل بلوچ کوکیوںنہیں روکا۔اورروکاتھا اورقندیل نے بات ان سنی کردی تومفتی قوی نے عدالت سے رجوع کیوںنہ کیاکہ اس کوبدنام کیاگیا ہے۔اس کی اجازت اوررضامندی کے بغیرسیلفیاںبنائی گئی ہیں۔قندیل بلوچ کے ساتھ مفتی قوی کاکرداربھی مشکوک دکھائی دیتا ہے۔اس کادامن صاف ہوتا تووہ اپنی شخصیت بچانے کیلئے کسی فورم سے ضرور رابطہ کرتا اور قندیل کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ ضرور دائر کرتا۔ علماء کوآئندہ محتاط رہنا ہو گا۔ تاکہ کوئی اور قندیل آکرجگ ہنسائی کا سبب نہ بن جائے۔

Siddique Prihar
Siddique Prihar

تحریر : محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Tags:
banners murder political Qandeel Baloch responsible son story بیٹے بینرز ذمہ دار سیاسی قتل قندیل بلوچ کہانی
Adel al-Jubeir
Previous Post ایران کی پروردہ حزب اللہ خطے میں فرقہ واریت کی جڑ ہے: عادل الجبیر
Next Post قندیل بجھ گئی لیکن یہ آخری ہونی چاہئے
Qandeel Baloch

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close