
تحریر : وقار انساء
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں جارج ٹان یونیورسٹی کے تعاون سے نائمن (NAIMUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا-جس میں 40 ممالک کے 3500 طلبا نے شرکت کی-اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد بین الاقوامی سطح پر درپیش مسائل کو زیر بحث لانا ان پر تبادلہ خیال کرنا اور پھر اس کا حل تلاش کرنا ہے تاکہ ان مسائل اور برائیوں کا تدارک کیا جا سکے۔ پاکستان سے بھی طلبا اس کانفرنس میں شرکت کے لئے امریکہ پہنچے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نجی سکول (HeadStart) کے تھے یہ طالبعلم پاکستانی کے لئے قابل اسی کانفرنس میں سکول کا کم عمر طالبعلم بارہ سالہ باسل خان بھی موجود تھا جو اپنی ذہانت کی وجہ سے مڈل جماعتوں کوعبور کرتے میٹرک میں آپہنچا وہ کلاس کا سب سے کم عمر طالبعلم ہے جس نے کانفرنس میں شرکت کی۔ باسل خان نے اس کانفرنس میں ایک گروپ کو لیڈ بھی کیا-جس کے لئے اس نے بھر پور تیاری کی اس کانفرنس میں دیگر ممالک سے آئے ہوئے سینئر کلاس کے طلبا بھی تھے۔
اس کانفرنس میں بچوں کی شمولیت کے لئے سکول نے مرحلہ وار بچوں کا انتخاب کیا اور اپنے سکول کے ذہین اور پر اعتماد بچوں کا انتخاب کیا جو بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں اور یہ ثابت کریں کہ ھمارے پاکستان کے ہونہار طلبا کسی سے کم نہیں ان بچوں کو دیگر ممالک سے آئے ہوئے طلبا کے ساتھ بحث ومباحثہ اور بات چیت کرنی تھی اس مقصد کے لئے دلچسپی رکھنے والے اچھے طالبعلموں کا انتخاب کیا گیا جو اچھی گفتگو کرنے والے اور مقرر بھی تھے ان کی ذہانت کو پرکھنے کے لئے ٹیسٹ بھی لئے گئے۔
بچوں میں اعتماد بڑھانے اوراپنا نقطہ نظر واضح کرنے کے لئے سکول نے خصوصی اہتمام کیا اور انہیں Lums University لاہور لے جایا گیا جہاں انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور اس کے علاوہ NUST یونیورسٹی اسلام آباد اور بہت سے اچھے معیاری نجی سکولوں میں بھی لے جایا گیا جس کا مقصد بچوں میں اعتماد پیدا کرنا تھا اور یہ ان کی تربیت کا حصہ تھا بچوں نے دو دن نیویارک اور آٹھ دن واشنگٹن قیام کیا جن ممالک پر بچوں نے ریسرچ کرنی تھی ان ممالک کے نام انہیں بتائے گئے ملک پر خود ریسرچ کرنی تھی اور اس کے مسائل تلاش کرنے تھے-اس کے لئے خوب محنت کی گئی شرکا کو 39 کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا-ہر کمیٹی کو مختلف موضوع پر بحث کرنی تھی اپنے قیام کے دوران پاکستان سے شریک بچے پاکستانی سفارتخانے گئے۔
امریکہ میں تعینات سفیر پاکستان جناب جلیل عباس جلیلانی نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی خوب حوصلہ افزائی کی اور ماڈل یو این او میں پاکستان کا مثبت ایمیج قائم کرنے پر ان کی کوششوں اور محنت کو سراہا اور مبارکباد دی اس کانفرنس میں پاکستانی بچوں کی شمولیت باعث فخر ہے اور باسل خان نے بارہ سال کی عمر میں اپنے سے بڑے طا لبعلم ساتھیوں کے مقابل شرکت کر کے ثابت کیا کہ وطن عزیز میں ایسے گوہر نایاب بھی ہیں جن پر بجا طور پر والدین اور استاد فخر کر سکتے ہیں- کم عمری میں میٹرک تک پہنچنے والا یہ بچہ نصابی کتب کے علاوہ آگہی اور شعور رکھتا ہے۔
ایسے بچے ہی ملک وقوم کا گراں بہا سرمایہ ہیں-
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی-
تحریر : وقار انساء
