Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دشمن مَردے خوشی نہ کریئے ۔۔۔۔

July 5, 2014July 5, 2014 0 1 min read
Karachi Airport
Karachi Airport
Karachi Airport

میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے

اپریل کے اواخر میں کراچی ائیرپورٹ سے نکلتے ہوئے جیو کے سینئر صحافی اور معروف اینکر حامد میر پہ قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ اگلے ہی دن ان کے بھائی عابد میر نے ایک بیان داغ دیا کہ حامد میر نے کچھ عرصہ قبل ہی اپنا ایک تحریری بیان محفوظ کردیا تھا، جس کی کاپیاں ان کے ادارے کے فلاں فلاں شخص کے پاس بھی موجود ہیں کہ اگرمجھے کچھ ہوگیا توآئی ایس آئی کے ڈی جی ذمے دار ہوں گے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ ان کا چینل ”جیو” پورے آٹھ گھنٹوں تک اپنی اسکرین پر ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر کے ساتھ حامد میر کایہ الزام لکھ کے دکھاتا رہا۔ جیو کے برے دن آئے تو اس سے ایک اور سنگین غلطی سرزد ہوگئی۔

اس کے مارننگ شو کی اینکر شائستہ لودھی نے اداکارہ وینا ملک کی شادی کا ”ایکشن ری پلے” کرتے ہوئے اہلِ بیت کی شان میں جو گستاخی کی اس نے گویا پورے ملک میں آگ ہی لگا دی۔ خصوصاً ملک کے علمائے کرام نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیاتو کیبل آپریٹرز بھی پارٹی بن کر اتنے دباؤ میں آگئے کہ جیو کی نشریات بند کرتے ہی بن پڑی۔ اس واقعہ کو تقریباًدو ماہ ہونے کو آئے، ملک بھر میں آج بھی جیو کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

پیمرا کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں پہلے تو سرکاری اراکین شریک نہیں ہوئے پھر جب پرائیویٹ اراکین نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جیو کی نشریات پر پندرہ دن کی پابندی عائد کر دی تو یہ بحث چھڑ گئی کہ پیمرا کا مذکورہ اجلاس قانونی تھا یا غیر قانونی؟ بعدازاں سرکاری اراکین نے بھی ایک اجلاس بلایا، اور اُن کا فیصلہ بھی یہی تھا کہ جیو کا لائسنس پندرہ روز کے لیے معطل کر دیا جائے۔ پھر صورت یہ بنی کہ ملک بھر میں جیو کی نشریات معطل ہوگئیں، اس کے مالکان اپنے اخبارات کے ذریعے روز یہ واویلا کرتے رہے کہ اس بندش سے ان کا یومیہ کتنا نقصان ہورہا ہے۔

اب معطلی کی مدت بھی ختم ہوگئی، تاہم اُس کی نشریات پوری طرح بحال نہیں ہوسکیں۔ چناںچہ آج بھی اُس چینل کا کہنا یہی ہے کہ اُس کی نشریات پوری طرح بحال کرائی جائیں۔ کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ اُس غریب صحافی حامد میر کے زخم اب کیسے ہیں؟ اور وہ کتنے عرصے میںاپنے روزمرہ کے معمولات ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے؟ یعنی وہی شعر والی بات کہ حامد میر تو ایک الزام لگا کے، اپنا خدشہ ظاہر کر کے اکیلے ہوگئے اور حکومت ڈی جی آئی ایس آئی کی حمایت میں اور علماء توہینِ اہلِ بیت کے حوالے سے جیو کے خلاف کھڑے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ملک کے کسی نہ کسی شہر کی عدالت میں جیو کے خلاف ایک نیا مقدمہ درج نہ ہوتا ہو۔

جہاں تک جیو کی بندش کے مطالبے کا تعلق ہے تو یہ ایسا ہی ہے کہ کرے کوئی، بھرے کوئی۔ ارے بھئی…. جیو نے آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام لگا کے اور آٹھ گھنٹے تک ان کی تصویر چلا کے بے شک غلط کیا، خصوصاً قوالی کے معاملے میں تو اس کا اقدام یقیناً قابلِ تعزیر ہے۔ تاہم، چینل بند کرکے سزا کس کو دی جارہی ہے؟ یہ بھی تو کوئی سوچے۔ اس معاملے میں سب سے پہلے اس پروگرام کی میزبان سمیت تمام ٹیم ذمے دار ہے۔ اس کے بعد مجلسِ ادارت اور پھر مالکان، تو پھر سزا بھی اُنہی کو ملنی چاہیے نہ کہ ان ہزاروں کارکنوں کو جو چینل کی بندش کی صورت میں بے روزگاری کے جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ ملک میں لوگ پہلے ہی بے روزگاری سے تنگ آکر خودکُشیاں کررہے ہیں، اپنے جگرگوشوں کو قتل کررہے ہیں، اُنہیں کوڑیوں کے مول بیچ رہے ہیں۔

بے روزگاری کا یہ سونامی اور آگیا تو ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے والے اپنے خاندانوں سمیت جیتے جی مر نہیں جائیں گے کیا؟؟ لیکن افسوس…. اس سلسلے میں کچھ دوسرے چینلز کاکردار بھی قابلِ ستائش نہیں۔ صحافی بجائے اس کے کہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ،جن میں ذاتی رنجشیں بھی جھلکتی تھیں، سینہ سپر ہوجاتے اور ملزموں کو بے نقاب کرتے، آپس میں اختلافات کا شکار ہوگئے۔ صحافی خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز باہم دست وگریباں ہیں۔ دوسری جانب کچھ چینلز باقاعدہ فریق بن کر جیو دشمنی میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیںکہ ان کے نزدیک تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جیو چینل کی بندش ہی ہے۔

پنجابی کا ایک مصرع ہے : ”دشمن مَردے خوشی نہ کریئے، سجنا ں وی مرجاناں”۔ آج جیو کے خلاف ہونے والے ردِعمل پر بغلیں بجانے اور جلتی پر تیل چھڑکنے والے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ اگر ملک کا ایک چینل بند کردیا جاتا ہے، خواہ اس کے پیچھے کسی نادیدہ قوت کی سازش ہویا واقعی اس کی اپنی غلطی اور نااہلی، تو پھر کل یہی ”گھڑیال” اِس جیسی چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو کیوںکر بخش دے گا؟ آج اگر ایک چینل خاموش کردیا جاتا ہے تو مستقبل میں باقی چینلز کی زباں بندی نہ ہونے کی ضمانت کیوں کردی جاسکتی ہے؟ تازہ ترین مثال ایک اور چینل کی بندش کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔

Electronic Media
Electronic Media

برسوں پہلے تک جب صرف پرنٹ میڈیا ہی میدان میں تھا تو ملک بھر میں اس کے کارکنوں کی مجموعی تعداد محض چند ہزار تھی، لیکن اب الیکٹرانک میڈیا کو پیشِ نظر رکھا جائے تو کارکنوں کی تعداد دَسیوں ہزار تک جا پہنچتی ہے۔ پرنٹ میڈیا کے دَور میں 1970ء اور پھر 1977ء میں اخباری کارکنوں کی جدوجہد، مقتدر حلقوں کا جبر اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی بے روزگاری، آج بھی بہت سے پرانے اور سینئر صحافیوں اور کارکنوں کو یاد ہے۔ آج اس پیشے میں موجود نوجوان نسل شاید ذہنی طور پر پر اس کی شدّت کا احساس نہ کرسکے۔

آج بھی سیاست دان اور مقتدر حلقوں کی جُون نہیں بدلی۔ وہ اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اتنے بڑے میڈیا پر بیک وقت ہاتھ ڈالنا شاید ان کے لیے ممکن نہیں۔لہٰذا، ایک ایک کر کے ”دشمن” گرانے کی پالیسی ہی انہیں بہتر دکھائی دیتی ہے۔ اور زد میں آنے والے شاید معاملے کی سنگینی کا ادراک کرنا نہیں چاہتے۔

یہاں مجھے ایک پرانی کہانی یاد آرہی ہے۔صورتِ حال سے ربط یا بے ربطی کا تعین آپ خود کرلیں۔ کون کس کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے؟ یہ بھی آپ خود طے کرلیں۔ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کوئی بارات ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں گئی۔لڑکی کے گاؤں والوں نے ایک عجیب شرط رکھی تھی کہ بارات میں کوئی بوڑھا یا بزرگ نہیں ہوگا۔ لیکن باراتی بھی آخر گاؤں والے ہی تھے، ”بَری” کے سامان میں باندھ بوندھ، چھُپا کے ایک بڑے میاں کو بھی ساتھ لے لیا۔ کھانے کا وقت آیا تو میزبانوں نے ایک اور شرط عائد کی کہ ہر باراتی کو تھال میں بھنا ہوا سالم دنبہ پیش کیا جائے گاجو اُسے پورا ختم کرنا ہوگا۔ یہ شرط سُن کے باراتیوں کی تو جان پہ بن آئی۔ وہ سوچنے لگے کہ بھلا ایک آدمی سالم دنبہ کس طرح کھا سکتا ہے؟

تب ان کی سمجھ میںیہ بات آئی کہ کسی بزرگ کو ساتھ نہ لانے کو کیوں کہا گیا تھا۔ خیر….. انہوں نے بَری کے بورے کھدیڑ، بڑے میاں کو باہر نکالا ۔ بڑے میاں نے دوچار انگڑائیاں لیں، اپنی ہڈیوں پسلیوں کا ”تیل پانی” چیک کیا۔ وہ بورے میں بند ساری باتیں سن رہے تھے اور صورتِ حال کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہوں نے سارے باراتیوں کو جمع کیا اور کچھ کن پھوسی کی۔ اس کے بعد باراتیوں نے جوابی شرط یہ عائد کی کہ بھنے ہوئے سالم دنبے ایک ساتھ لانے کی بجائے ایک ایک کر کے پیش کیے جائیں تاکہ وہ گرم رہیں۔میزبانوں نے یہ شرط بہ خوشی قبول کرلی۔ اب منظر یہ بنا کہ ایک بھنا ہوا، گرما گرم دنبہ آیا اور تمام باراتی اس پہ ٹوٹ پڑے،دوسرا دنبہ آنے تک تھال صاف ہوگیا۔ اسی طرح ایک ایک کر کے دنبہ آتا گیا اور باراتی چشم زدن میں اُس کی ”تکا بوٹی” کرتے رہے۔ یوں کسی کو پتا بھی نہ چلا اور سارے دنبے ختم ہوگئے۔

اب یہ موجودہ صورتِ حال میں اُلجھے میڈیا کے ادنیٰ واعلیٰ کارکنوں کا کام ہے کہ انہیں ”بڑے میاں” کو بورے سے باہر لانے کی نوبت لانی چاہیے یا نہیں؟ ذرا سوچئے…. ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بارے میں پیمرا جیو کے مذکورہ مارننگ شو کی میزبان اور ٹیم سمیت مجلسِ ادارت اور مالکان سے بازپُرس کرتی۔ قانون کے مطابق قید وجرمانے کی جو سزا بنتی ہے وہ بھی انہی کو دی جاتی۔ الٹا چینل بند کرا کے دیکھنے والوں اور وہاں کام کرنے والوں کو ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔

اس وقت ایک ”جیو” کا مارننگ شو کیا، تمام چینلز پہ جو مارننگ شوز دکھائے جارہے ہیں کیا وہ تمام کے تمام اسلامی اور اخلاقی تقاضوں کو ملحوظ رکھ رہے ہیں؟ مخلوط محفلوں میں گانا بجانا اور شادیوں کی تقاریب منعقد کرانا ایک طرف…. عام پروگراموں میں بھی ان کی میزبان جو لباس زیبِ تن کرتی ہیں ان کی قیمت کیا ہوتی ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ کیا پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک کی خواتین جنہیں اس مہنگائی میں گھر کے ہانڈی چولہے کے لیے اشیائے ضروریہ بڑی مشکل سے میسّر ہوپاتی ہیں، ایسے ملبوسات خریدنے کے بارے میں سوچ بھی سکتی ہیں؟ نتیجہ یہ کہ وہ مایوسی اور اعصابی تنائو یعنی ڈیپریشن کا شکار ہوتی جارہی ہیں، جس کا لازمی نتیجہ گھریلو ناچاقی، بچوں کی مار پیٹ اور اعصابی بیماریوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مارننگ شوز فی الفور بند کردیے جائیں اور اگر اشتہارات کی آمدنی کی خاطر یہ شوز مجبوری بن چکے ہیں تو…. اشتہارات کی بات نکل ہی آئی تو یہاں یہ بتانابھی ضروری ہے کہ ہمارے چینلز پہ چلنے والے اکثر اشتہارات بھی بے حیائی اور عریانی کی تمام حدود پار کرچکے ہیں، اس بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

بات ہورہی تھی مارننگ شوز کی…. تو ہر ادارے میں سنجیدہ، بردبار اور مخلص لوگوں پر مشتمل تھنک ٹینک بنائے جائیں جو گھریلو خواتین سے جن کے لیے یہ مارننگ شوز ترتیب دیے جاتے ہیں، سروے کرکے اس کی روشنی میں ایسے پروگرام تشکیل دیں جن سے خواتین کی گھر بیٹھے تربیت ہوسکے کہ وہ کس طرح کم بجٹ میں اپنے گھر کے اخراجات پورے کرسکتی ہیں۔ گھریلو رشتوں کو کس طرح نبھایا جاتا ہے، بچوں کی تربیت کیسے کی جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ…. نہ کہ جعلی عاملوں اور پیروں کے ذریعے جھوٹے تعویذ برآمد کرا کے لوگوں کے ایمان کمزور کرنے کی کوشش کی جائے اور ان فراڈیوں کے کاروبار کو فروغ دیا جائے۔

مارننگ شوز سے ایک قدم آگے ”نائٹ شوز” یعنی ٹاک شوز کے بارے میں بھی اکثر لوگوں کی رائے یہی ہے کہ قبل اس کے کہ یہاں بھی کوئی ”بم پھٹے” اس کی پالیسی پر بھی نظرثانی کی جائے۔ وہاں بھی اینکرپرسنز بی جمالو بنے ہوئے ہیں۔ تین چار مختلف الخیال لوگوں کو جمع کیا اور کوئی متنازعہ شوشہ چھوڑ کے ایک طرف ہوگئے۔ اب شرکا ہیںکہ اپنی بات منوانے اور خودکو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگنے لگتے ہیں۔ ایسے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیںکہ الامان والحفیظ…. اور یہ سب کچھ ”آزادیٔ اظہار” کے نام پر ہوتا ہے۔ گویا ”ہمارا میڈیا آزاد نہیں، آوارہ ہوگیا ہے۔” یہ جب چاہے، جس کی چاہے پگڑی اچھال دیتا ہے۔

Government Of Pakistan
Government Of Pakistan

حکومت تو خیر ویسے بھی ان معاملات میں ایک دو بیان دینے کے سوا کسی خاص سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی وگرنہ ”جیو” کا معاملہ ہرگز اتنا طول نہ پکڑتا۔ تاہم، سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر کب تک اُس ادارے کے ملازمین ناکردہ گناہ کی سزا بھگتیں گے؟

تحریر:حمیرا اطہر

Share this:
Tags:
Hamid Mir journalist Karachi Airport اپریل حامد میر صحافی قبل
Zulfiqar Ali Bhutto
Previous Post اِک چراغ جو ہم نے سرِ شام کھو دیا
Next Post خیرپور: رشتے کے تنازع پر ملزم نے ماں اور بہن کو قتل کر دیا
Khairpur

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close