Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

گدا گری کے پس پردہ اٹھنے والے جرائم

August 11, 2014August 11, 2014 0 1 min read
Begging
Begging
Begging

پلازہ کی سیڑھیوں پر بیٹھی ایک نوجوان عورت نے اپنی گود میں کمزور سی بچی بٹھائے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں سیڑھیاں چڑھنے ہی والی تھی کہ ہاتھ کے تعاقب میں عورت کی آنکھوں میں جھانکا اس کی نہایت بامعنی غلیظ آنکھوں نے میرا ارادہ تبدیل کر دیا اور اسے نظرانداز کرتے ہوئے میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئی پلازہ میں داخل ہو گئی۔ کچھ ضروری چیزیں خرید کر جب میں واپس آئی تو وہ عورت مستقل وہی بیٹھی دکھائی دی۔ ناجانے کیوں اسے دیکھ کر مجھے کوفت ہو رہی تھی۔ اتنے میں ایک لڑکا جو بے حد کمزور صحت کا مالک تھا اس عورت کے پاس آکر اسے دس روپے دیتا ہے اور ساتھ ہی معنی خیز اشارہ کر کے ایک تنگ سی ویران گلی میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس خاموش مشاہدے کے بعد میں نے وہاں کھڑا رہنا مناسب نہ سمجھا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔

انسان کا تجسس کبھی اسے چین نہیں لینے دیتا ۔ یہی میرے ساتھ ہوا جو کچھ میرے دماغ میں چل رہا تھا میں اسے رد کرنا چاہتی تھی ۔ لہذا میںگاڑی کے Back View Mirror سے اس عورت کو دیکھنے لگی چند لمحوں بعد وہ عورت ، معلوم نہیں وہ گداگر تھی ، پیشہ ور تھی ، یا پھر کچھ اور ۔۔۔ خیر جو بھی تھی میلے کپڑوں کے باوجود وہ چلتی ہوئی بہت جاندار عورت لگ رہی تھی وہ بھی اسی تنگ ویران گلی میں داخل ہو گئی ۔۔ وہ کیوں داخل ہوئی اس پر لکھنا بے کار ہے ۔ کیونکہ ہر باشعور انسان اس منطق سے انکار نہیں کر سکتا ۔ لیکن کچھ سوال مجھے بری طرح پریشان کر رہے تھے ۔ آنکھیں بند کر کے میں سوچنے لگی ۔ دس روپے میں ایک کمزور لڑکے نے غلیظ آنکھوں والی مگر جاندارعورت کو خرید لیا ۔۔ دس روپے میں ایک عورت نے اپنے آپ کو کسی کے سپر د کر دیا کیا عورت اتنی سستی ہو گئی ہے ؟ یا حالات وواقعات ، بھوک وافلاس یا اولاد کی آہوں نے اسے مجبور کر دیا ہے ۔۔۔؟

معاشرہ جہاں اور بہت سی برائیوں سے بھرا پڑا ہے ۔ وہیں بہت سے چلتے پھرتے گناہ ہیں ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے رہتے ہیں مگر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔اب اس عورت جیسی اور کتنی عورتیں ہو ں گی جو غربت کی ماری ہوئی بھوک کی ستائی ہوئی گھروں سے باہر نکل آتی ہیں معاشرہ میں گداگروں کی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو قبولیت کا شرف دیتی ہیں ۔ گداگری ایک لعنت ہے کوئی معزور شخص ہو وہ مانگنے سے اجتناب کرتے ہوئے محنت سے رزق کمانے کو ترجیح دیتا ہے مگر المیہ اس بات ہے کہ پاکستان میں گداگروں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ اور اس سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ صحت مند افراد چاہے وہ عورت ہوں یا مرد بڑے شوق سے مانگنے کیلئے کشکول اٹھائے پھرتے نظر آتے ہیں حقیقت میں ان لوگوں کی عادت بن جاتی ہے اور یہ لوگ اپنے آپ کو تکلیف میں نہیں ڈالتے۔

Pakistan
Pakistan

پاکستان میں بگڑتے ہوئے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو باآسانی ایک پہلو واضح ہو جاتا ہے کہ جیسے ہی مہنگائی بڑھتی ہے، گداگروں کی تعداد اور جرائم ایک ہنگامی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے ، عام انسان کیلئے زندگی گزارنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔ اس مشکل ترین دور میں غریب کے بچوں کی تعداد بھی گنتی میں نہیں آتی تو پھر ان سب کا پیٹ پالنا اور بھی محال ہو جاتا ہے ۔ ظاہر ہے اولاد کا دکھ کسی سے برداشت نہیں ہوتا تو مجبوراً غربت کے ستائے افراد اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کوئی آسان اور کالی گلی استعمال کرتے ہیں ۔ بھوک کا احساس ایمان اور اچھے برے کی تمیز اور یہاں تک کہ مذہب تک کو بھلا دیتا ہے ۔

پاکستان میں دو مشہور طبقے پائے جاتے ہیں ایک امیر اور دوسرا غریب ترین ۔۔ دونوں طبقے اپنے اپنے حلیوں میں مطمئن ہیں ۔ امیر ترین طبقہ عیاشیوں میں ملوث جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ ان قابل فخر حرکتوں سے عار محسوس نہیں کرتے بلکہ ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم لائف انجوائے کر رہے ہیں ۔ مگر غریب ترین طبقہ اس میں بھی تین طرح کے لوگ آتے ہیں ۔ ایک قسم تو ان لوگوں کی ہوتی ہے جو معمولی سی ریڑھیاں لگا کر رزق کماتے ہیں اور شکر بجا لاتے ہیں ۔ دوسری قسم کے لوگ سفید پوش ہوتے ہیں جن کے پاس اللہ پر ایمان اورصبر و شکر کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔ مگر تیسری قسم کے لوگ ڈھیٹ ، بے حس ، بے شرم اور ٹوپی ڈرامہ باز ہوتے ہیں ۔ گداگر اور جرائم پیشہ افراد بھی اسی قسم کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کوئی شک نہیں کہ یہ غریب ہوتے ہیں مگر اپنی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاندان کے خاندان بازاروں میں گداگری کیلئے نکل پڑتے ہیں اور عام لوگوں کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں ۔

گداگروں میں سے کوئی پانچ فیصد گداگر ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں مجبور ی کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مگر باقی 95فیصد تن آسانی ، شوق سے بھرپور اور گداگری کی آڑ میں کوئی نہ کوئی جرم کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ بسوں ، ویگنوں کے اڈوں پر بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ان لوگوں نے لمبے لمبے ہمدردی کے جملے زبانی یا د کر رکھے ہوتے ہیں ۔ اڈوں پر یہ لوگ خاص طور پر عورتوں کے پاس کشکول لے کر جاتے ہیں اور اپنے دکھ کی داستان سناتے ہیں ۔ اگر کوئی غصہ کرے تو بددعا سے ڈراتے ہیں ۔ لہذا عورتیں تو نرم دل ہوتی ہیں فوراً پگھل جاتی ہیں ۔ جمعہ کو مسجدوں کے باہر انہیں لوگوں کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ جمعرات کو تو ان گداگروں کی جیسے عید ہو جاتی ہے ۔ جمعرات کو اگر ہم غلطی سے کسی ٹریفک میں پھنس جائیں تو سگنل بعد میں کھولیں گے ۔یہ گداگر بھاری تعداد میں پہلے برآمد ہو جائیں گے ۔ ان لوگوں سے جان چھڑانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

مرد گداگر شہروں ،بازاروں ، گلیوں کا چکر کاٹ کر اندازہ کر لیتے ہیں کہ کون سا علاقہ ان کیلئے موذوں رہے گا ۔ پھر آہستہ آہستہ یہی لوگ بچوں ، نوجوانوں کو چرس اور اعلیٰ قسم کی نشہ آور چیزوں کا عادی بناتے ہیں ۔ بعد ازاں پولیس بھی ان لوگوں سے مل کر ہاتھ صاف کر تی ہے یہی نہیں بلکہ بچوں کو اغوا ء کر کے غلط کاموں میں لگوانے والے بھی یہی لوگ ہیں۔ دوسری طرف گداگر عورتیں بازاروں میں بیٹھ کر گداگری کی آڑ میں دعوت گناہ دیتی ہیں اور کچھ گھروں میں گھس کر اپنی دکھ بھری باتوں سے اگلے کا دل مو لیتی ہیں اور بدقسمت افراد ان کی باتوں میں آکر گھروں میں کام کیلئے رکھ لیتے ہیں اور چند ہی دنوں میں یہ عورتیں گھروں کو نقصان پہنچا کر غائب ہو جاتی ہیں۔

کچھ گداگر تو جیب کترے بھی ہو تے ہیں یہ لوگ ایک ہی علاقے کی مختلف جگہوں میں خاندان کی صورت پھیلے ہوتے ہیں عورتیں اپنی جوان بیٹی کی شادی کی فکر میں نظر آتی ہیں مگر پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ جوان بیٹی خود گداگر ہے ۔ مرد اپنے بیٹے کو کینسر کا مریض کہتا ہے اور بیٹا ساتھ والی دکان سے اپنے باپ کو کینسر کا مریض بتاتا ہے ۔ رمضان میں تو ان لوگوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اور روزے کی حالت میں انہیں نظرانداز کرنا اور دشوار ہو جاتا ہے ۔

ہم لوگ یا تو بے حد بے حس لوگ ہوتے ہیں کہ ان برائیوں کو معاشرے میں پھیلتے ہوئے دیکھتے بھی ہیں اور کچھ کر نہیں پاتے یا توپھر لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینے والوں میں سے ہیں کہ برائی دیکھی ، محسوس کی اور چل دیئے ، خیر ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے۔۔ لیکن ہم شاید بھول رہے ہیں کہ فرق تو پڑتا ہے ۔۔۔نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے فرق تو پڑتا ہے۔ بچے بری صحبت کا شکار ہو رہے ہیں فرق تو پڑتا ہے ۔۔۔۔لوگوں سے نظریں نہیں ملا پاتے ، جانتے ہوئے بھی انجان بنتے ہیں ۔۔انہیں لوگوں کو نظرانداز کر کے ان کے حوصلے بڑھاتے ہیں فرق تو پڑتا ہے ۔۔۔

حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی گداگری جیسی نحوست کو ختم کر نے کیلئے مناسب اقدام کرے ۔ ان لوگوں کیلئے کوئی قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ یہ لوگ اس گندے پیشے سے باز آجائیں ۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ صحت مند افراد جو گداگری کی لعنت میں مبتلا ہیں ان کیلئے ایسے ادارے بنائے جس میں ان کی محنت سے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ ایسے اداروں میں ان لوگوں کو مفت نوکریاں دی جائیں ۔یہ ادارے کپڑے سلائی کرنیوالے ، کتابیں جلد کرنیوالے ، پلاسٹک کے ڈبے بنانے والے ، تیل صاف کرنے والے ، کھلونے بنانے والے ، مٹی کے برتن بنانے والے ، لکڑی کا سامان بنانے والے ، فٹبال یا چمڑے کا کام کرنے والے اور اس طرح کے اور بہت سے کام ان لوگوں سے کروائے جا سکتے ہیں ۔ اور پھر اس کا م کی انہیں اجرت دی جائے تاکہ ملک سے گداگروں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔

Criminal
Criminal

اس کے علاوہ ہم شہریوں کا یہ فرض ہے کہ ہم اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں جہاں کوئی مشکوک گداگر دیکھیں جو جرائم کی دعوت دے رہا ہو تو فورا پولیس کو اطلاع کریں اور ہر ضلع کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض پوری ایمانداری کیساتھ نبھائیں اور اپنے علاقوں میں باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھیں۔ گداگروں کی شکل میں جرائم پیشہ افراد پر کڑی نظر رکھیں انہیں ضرورت پڑنے پر سخت سزا بھی دیں تاکہ ملک سے گداگری کی لعنت کو ختم کرنے کیساتھ ساتھ جرائم کا بھی خاتمہ ہو اور آئندہ کوئی بھی فرد گداگری کی آڑ میں ملکی سالمیت کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

تحریر: لبنی اعظم

Share this:
Tags:
Begging Crime intended weak ارادہ جرائم کمزور
Independence Day
Previous Post آزادی کی نعمت کو وہی سمجھتے ہیں جو آزادی کی نعمت کو جانتے ہیں: چوہدری امجد علی
Next Post پیرمحل کی خبریں 11/8/2014
Pir Mahal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close