Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یہ بھیک مانگتے لوگ

December 15, 2015December 15, 2015 0 1 min read
Beggars
Beggars
Beggars

تحریر: ابنِ نیاز
اللہ کے نام پر دے دے بابا۔ مولا کے نام پر دے دے بابا۔ تیرے بچے جیون۔ تیری حیاتی سوہنی ہووے، تیریاں مراداں پوریاں ہوون۔پاکستان کے کسی بھی شہر میں، کسی بھی بازار میں اس قسم کی آوازیں بکثرت سنائی دیتی ہیں۔ فرق اگر ہوتا ہے تو شاید زبان کا کوئی اردو میں تو کوئی پشتو میں۔ کوئی پنجابی میں تو کوئی سندھی میں دعائوں کی پوٹلی کھولے ایک کے بعد ایک دعا نکال رہا ہوتا ہے۔

ان دعائوں کا مقصد ماسوائے اسکے اور کچھ نہیں ہوتا کہ بن مانگے اسکو کچھ روپے مل جائیں۔ یہ اور بات ہے کہ زبان سے تو کچھ نہیں مانگا جاتا لیکن یاتو ہاتھ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں یا کوئی کٹورا آگے گیا ہوتا ہے اور یا اگر زمین پر بیٹھے ہیں تو کوئی چادر پھیلائی ہوئی ہوتی ہے۔حالتیں مختلف ہوتی ہیں، انداز جدا جدا ہوتے ہیں لیکن سب کے خیالات ، انداز ایک ہی مرکز سے نکلتے ہیں۔

تان سب کی ایک سُر پر مبنی ہوتی ہے اور پسند سب کو صرف ایک ہی آواز ہوتی ہے اور وہ پیسے کی جھنکار کی آواز ہوتی ہے۔ ہرکسی کا زندگی میں کبھی نہ کبھی اس سے سامنا ہوتا رہتا ہے، اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔اور ہر کوئی ان سے اپنے اپنے انداز میں پیش آتا ہے۔ دھتکارتے ہیں، نظر انداز بھی کرتے ہیں، ترس بھری نگاہوں سے بھی دیکھتے ہیں، انکی خواہش کو پورا کرتے ہوئے پیسوں کی جھنکار بھی سنا دیتے ہیںاور بعض جھنکار سنانے کے ساتھ تھوڑی سی بحث بھی کر لیتے ہیں۔لیکن بحث بھی انکی جسمانی حالت دیکھ کر کی جاتی ہے۔ دھتکارنے والے اور بحث کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی کرے بھی تو کیا۔

Begging
Begging

ہماری نگا ہ میں تو یہ لوگ شاید ہی پورے دن میں دو تین سو روپے سے زیادہ اکٹھا کرپاتے ہوں۔لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ شاید دس سے بیس فیصد لوگ ایسے ہوںجو اتنی کم مقدار پیسے کماتے ہوں ورنہ تو باقی سب کی آمدنی پانچ سو روپے سے دو تین ہزار روپے تک یا زیادہ ہوتی ہے۔اور وہ واقعی آمدن ہوتی ہے۔کیونکہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روٹی اور کپڑا بھی یہ مانگتے ہیں۔کھانے کے وقت میں کسی بھی ہوٹل کے سامنے اپنا ٹھیہ لگا لیتے ہیں۔کپڑوں میں موسم کے مناسبت سے مانگتے ہیں۔ساتھ میں کمبل یا لحاف سردیوں میں ضرور طلب کرتے ہیں۔ تو جو کچھ انھوں نے کمایا ہوتاہے وہ آمدنی میں ہی شمار ہو سکتا ہے۔

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ بھکاری ایک جگہ مستقل ٹھکانہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے بھکاریوں میں زیادہ تر معذور نظر آتے ہیں یا پھر کوئی چرسی یا ہیروئن پینے والا بیٹھا ہوتا ہے۔ اب وہ معذور کس حد تک معذور ہوتے ہیں یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔لیکن ان میں سے شاید کوئی تین سے پانچ فیصد واقعی معذور ہوتے ہیں لیکن پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خود معذور ہوتے ہیں یا انکو بھیک مانگنے کی خاطرمعذور بنایا جاتا ہے۔

کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اپنی اسکی کٹی ہوئی ٹانگ کو سامنے رکھ کر لوگوںکے دلوں میں اپنے لیے رحم پیدا کرتا ہے اور ان سے بھیک لیتا ہے۔بدلے میں دعائیں دیتا ہے۔ تو کوئی اپنے کٹے ہوئے یا ٹیڑے میڑھے بازو کو دوسرے ہاتھ سے تھامتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ آتا جاتا ہے ، بغیر صدا لگائے یتیم صورت بنائے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ کوئی صدا لگا تا ہے ” آنکھوںوالو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں”۔ تو جھٹ سے لوگ جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنے اپنے ظرف کے مطابق اسکے ہاتھ میں ریزگاری یا نوٹ رکھ دیتے ہیں مبادا انکی آنکھوں کو نظر لگ جائے۔

میری ذاتی طور پر کئی بھکاریوں سے کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی ہے۔اپنے بچپن میں جب میں شاید پانچویں یا چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ایک بھکاری کو تو باقاعدہ کھانا تک کھلاتا رہا۔ اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر اسکے منہ میں ڈالتا رہا۔ اسکے منہ سے ٹپکتی رال کو صاف کرتارہا تھا۔ اور دنوں یا ہفتوں نہیں بلکہ دو تین سال تک اسکے ساتھ اسی طرح پیش آتا رہا۔ اسکا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے بہت سی باتوں کا پتہ چلا تھا۔اسکا نام رحمت تھا۔

Beggars on Sreets
Beggars on Sreets

اسکو شاید کبھی فالج ہوا ہوگا (بعد میں پتہ چلاتھا کہ حقیقت کچھ اور تھی) جسکی وجہ سے اسکے ہاتھ اور پائوں بیکار ہو گئے تھے۔ ہاتھوں کو تو پھرکسی حد تک حرکت دے لیتا تھا۔ لیکن ٹانگوں کو گھسیٹنا پڑتا تھا۔کسی اللہ کے نیک بندے نے اسکو ایک تین پہیوں والی بڑی سائیکل ، جس طرح کی آج کل چنگ چی رکشہ ہوتا ہے، خرید کر دے دی تھی جسکو ایک ہاتھ سے تھامے دوسرے ہاتھ سے چلاتا تھا۔

صرف اسکواوپر بٹھانے کے لیے دوسرے کی مدد کی ضرورت پڑتی تھی۔کبھی کبھی اسکے ہاتھوں کی طاقت جواب دے جاتی تھی تو کوئی راہ گیر سائیکل کو کچھ فاصلے تک دھکا لگا دیتا تھا۔ اسی طرح کبھی خود چلاتے ہوئے تو کبھی دوسرے لوگوں کی مدد سے وہ اپنے گھر اور گھر سے اس مخصوص جگہ تک آتا جاتا تھا۔ ایک بات جو کم از کم مجھے عجیب لگتی تھی کہ جب وہ گھر کے قریب پہنچتا تھا تو ہمیشہ کسی نہ کسی طرف سے ایک لمبا تڑنگا آدمی اسکو فوراً گھر کے اندر لے جاتا تھا۔ تین چار دفعہ تو میں نے اس کو خود دیکھا تھا کیونکہ محلے کی کرکٹ ٹیم کبھی ایک محلے میں میچ کھیلنے جاتی تھی تو کبھی دوسرے میں۔اور میں بھی اس ٹیم کا ایک ممبر ہوتا تھا۔تو کئی دفعہ رحمت کے محلے میں بھی ہم میچ کھیلنے گئے تھے۔

یوں تین سال گز گئے۔ایک دن دوپہر کا کھانا کھلاتے ہوئے میں نے اس سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو پہلے تو بات کو ٹال گیا۔ لیکن میرے اصرار پر بہت احتیاط سے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے جو بات بتائی اس وقت تو مجھے اس پر یقین نہ آیا۔ گھر آکر جب میں نے وہ بات اپنے والد محترم کو بتائی تو انھوں نے رحمت کی طرف میرا جانا بند کر دیا۔

بہت پوچھا تو بھی کچھ نہ بتایا۔ تو تین ہفتوں کے بعد جب والد صاحب نے تھوڑی نرمی برتی تو میں پھر رحمت کی طرف چل دیا۔لیکن اس بار تو اسکا حلیہ ہی بگڑا ہوا تھا۔چہرے پر زخموں کے مندمل ہوتے نشانات تھے ۔سر پر دائیں جانب کان سے تھوڑا اوپر ایک عدد گومڑ ابھرا ہوا تھا۔بازوئوں اور پنڈلیوں پر بھی زخموں کے نشانات تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے صرف اتنا کہا کہ یہ اس دن مجھ سے بات کرنے کی سزا تھی۔ اور دوبارہ اسکو اس جگہ پر آئے ہوئے صرف چاردن ہوئے ہیں۔کیونکہ اسے زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا گیا تھا جب کہ وہ اصلیت بتا بیٹھا تھا۔

اس نے جو بات بتائی تھی وہ یہ تھی کہ اسکو فالج نہیں ہوا تھا بلکہ اسکے چند سگے رشتہ داروں نے اسکو نا معلوم وجہ سے زہر دینے کی کوشش کی تھی۔ ڈاکٹروں کی محنت اور بروقت علاج سے گو اسکی زندگی تو بچ گئی تھی لیکن اسکا اثر اسکے پٹھوں پر مختلف صورتوں میںہوا تھا۔ اور اسکی حالت یوں ہوگئی تھی جیسے فالج کے شدید حملے سے گذرا ہو۔اسکو بات کرتے ہوئے بھی مشکل پیش آتی تھی کیونکہ اسکا منہ تھوڑا ٹیڑھا ہو گیا تھا اور اسکے منہ سے رال بھی ٹپکتی تھی۔اسنے بتایا تھا کہ اسکا علاج علاقے کے ایک بظاہر شریف نظر آنے والے شخص نے کرایا تھا۔ اسکے علاج پر اس وقت کے لحاظ سے کافی خرچ آیا تھا۔ چونکہ علاج کے بعد اسکی ظاہری حالت ایسی ہو گئی تھی کہ اب وہ کوئی کام کاج نہ کر سکتا تھاتو اس شخص نے کوئی دو تین مہینے تک اسکا بوجھ برداشت کیا۔ اسکو اپنے دوکمرے والے مکان میں جگہ دی۔

ایک دن کہنے لگا کہ اسکے پا س کوئی حرام کے پیسے نہیں ہیں جو وہ اس پر لٹاتا رہے۔رحمت نے اس شخص سے کہا کہ اسکی حالت سے تو وہ واقف ہی ہے کہ وہ کچھ کر بھی تو نہیں سکتا اور نہ ہی اسکا آگے پیچھے کوئی ہے۔تو اس شخص نے جس کا نام پرویز تھا ، اصلیت دکھا دی۔کہنے لگا کہ پھر اسکا تو ایک ہی حل ہے کہ وہ بھیک مانگے کہ اسکی ظاہری حالت دیکھ کر ہی لوگ اس پر ترس کھائیں گے اور اسکو بہت بھیک ملے گی۔ خود بھی کمائے ، کھائے اور اسکو بھی کھلائے۔رحمت کے بقول اس نے بہت سوچا لیکن کوئی اور راستہ نظر نہ آیا۔ مجبوراً اسکو یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ آج اس دشت کی سیاہی میں اسکو دس سال ہو گئے تھے۔

اس شخص کے متعلق جو سائیکل کو آخری لمحے میں گھر کے اندر لے جاتا تھا رحمت نے بتایاکہ اسکا نام سلیم تھا اور وہ پرویز کا تنخواہ دار تھا۔جسکی ذمہ داری تھی کہ وہ رحمت پر اور اور جیسے مزید پانچ افراد پر نظر رکھے کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائیں۔ میں یہ سن کر بہت حیران ہوا تھا۔ میںنے رحمت سے پوچھا کہ پانچ افراد کون ہیں اور کہاں ہیں؟ رحمت نے کہا کہ پرویز نے نے جانے کہاں کہاں سے ایسے افراد ڈھونڈ کر لائے ہیں جو ایک تو معذور ہوں اور دوسرا انکا کوئی والی وارث نہ ہو۔پرویز ان سب سے بھیک منگواتا تھا۔سلیم جیسے اس نے تین چار اور بندے ملازم رکھے ہوئے تھے جنکا کام رحمت اور دوسرے بھکاریوں پر نظر رکھنا ہوتا تھا۔

میرے پوچھنے پر کہ سلیم تو کبھی بھی اسکے قریب نظر نہیں آیا تو رحمت نے جواب دیا کہ وہ قریب ضرور ہوتا تھا لیکن ہمیشہ کسی نہ کسی آڑ میں بیٹھا ہوتا تھا کہ کسی کو علم نہ ہو سکے کہ اسکا رحمت سے کوئی تعلق واسطہ ہے۔ ایک دن رحمت نے بڑے کرب سے بتایا کہ اس پرویز جیسے نجانے کتنے لوگ اس ملک میں اپنے گھنائونے پنجے پھیلائے ہوئے ہیں۔جو ننھے معصوم بچوں سے لیکر ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں تک سے مختلف طریقوں سے بھیک منگواتے ہیں۔اور خود ٹھاٹھ سے رہتے ہیں۔ رحمت نے پرویز کے متعلق بتایا کہ پرویز کبھی جو دو کمروں کے مکان میں رہتا تھا آج اسکا ایک کنال پر مشتمل شہر کے پوش علاقے میں ایک تین منزلہ بنگلہ ہے۔دس دس مرلہ کے دو گھر اور کوئی سات آٹھ دکانیں کرائے پر اٹھائی ہوئی ہیں۔اور یہ سب کچھ اس نے ہمارے بھیک میں مانگے ہوئے پیسوں سے بنایا ہے۔

Educating Children
Educating Children

اس طرح کی اور بھی بہت سی باتیں رحمت نے بتائی تھی۔ جب میں نے ہوش سنبھالا۔ کسی کو کچھ سمجھانے کے قابل ہوا تو جب کسی بھکاری کو دیکھا تو رحمت ایک دفعہ ضرور یاد آیا۔یاد اسلیے کہ انٹر کرنے کے بعد ہم نے وہ شہر چھوڑ دیا تھا اور اپنے آبائی شہر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔میںنے اکثر اوقات لوگوں سے بھکاریوں کے متعلق باتیں کیں۔ انھیں اپنے تجربے سے آگاہ کیا۔ لیکن کبھی کسی نے میری ایک نہ سنی۔بلکہ جواب میں صرف یہ ہی کہا کہ بھائی یہ لوگ بھی خدا کی طرف سے ایک امتحان ہیں۔ میں بھکاریوں تک سے باتیں کرتا رہا بلکہ اب بھی کبھی کبھی موقع ملے تو ضرور کرتا ہوں۔اکثر یہ محسوس ہوتا تھا کہ کچھ بھکاری بات کرتے کرتے ادھر ادھر ضرور دیکھتے تھے۔ بلکہ چند ایک تو بات کرتے کرتے اچانک بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ تو تب رحمت کی بات یاد آتی تھی کہ وہ خود اپنی خوشی سے یا مرضی سے بھیک نہیں مانگتے تھے بلکہ ان سے بھیک منگوائی جاتی تھی۔

سوال یہ ہے کہ اگر عام عوام اس بات سے واقف نہیں تو پھر تو ٹھیک ہے لیکن ان کو اس بات کا علم ہے تو پھر وہ انھیں بھیک کیوں دیتے ہیں۔ وہ اس سماجی بیماری کا کوئی مستقل حل کیوں نہیں نکالتے۔وہ کیوں ووٹ مانگنے والوں کو نہیں کہتے کہ پہلے شہر کے رئوسا کو غریب کرو جو بھیک کے پیسوں سے امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں پھر ووٹ مانگو۔لیکن نہیں۔ کیونکہ جب کتی (بچ) ہی چوروں سے ملی ہوئی ہو تو اللہ ہی مالک ہے۔ حکمران پرویز جیسے لوگوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچا سکتے۔کیونکہ ان کی دال روٹی بھی چلتی ہے۔ ان زبردستی کے بھکاریوںکے لیے کوئی دارلکفالہ قسم کا ادارہ کیوںنہیں بنایا جاتا جہاں بڑوں کو مخلتف ہننر سکھائے جا سکتے ہیں ، انکے ہنر کو استعمال کر کے انکے بنائی ہوئی اشیاء کو بازار میں فروخت کیا جا سکتا ہے اور آمدنی کا ایک حصہ انکے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکتا ہے۔کتنی ہی بڑی عمر کے بھکاری ایسے ہوتے ہیںجو پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ وہ بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو مختلف قسم کے فنون سکھائے جا سکتے ہیں۔ تا کہ کل جب وہ میدان عمل میںنکلیں تو اگر وہ سرکاری ملازمت نہ حاصل کر سکیں تو کم از کم محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال سکیں۔مخیر حضرات بھی یہ کار خیر انجان دے سکتے ہیں۔ زیادہ نہیںاگر ہر امیر آدمی صرف ایک ایک بھکاری چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا کے سر پر ہاتھ رکھ دے تو معاشرہ اس لعنت سے انتہائی قلیل عرصے میں پاک ہو سکتا ہے۔دنیا میں بھی انہیں کامیابی ہی نصیب ہو گی اور آخرت میں تو ہے ہی۔

Iibn e Niaz Logo
Iibn e Niaz Logo

تحریر: ابنِ نیاز

Share this:
Tags:
beggars Begging Ibn e Niaz pakistan people Prayer purpose بھیک پاکستان دعا لوگ مقصد
Suicide
Previous Post گزشتہ ماہ پاکستان میں 45 خواتین سمیت 127 افراد کی خودکشی
Next Post اے خدا پھر ایسا دسمبر کبھی نہ آئے
Army Public School Peshawar, Attack Victims

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close