
راولپنڈی : مودبانہ گزارش ہے کہ میں انسٹی ٹیوٹ آف سائکاٹری بے نظیر بھٹو ہسپتال میں قائم کئے گئے شعبہ جو کہ WHO اور UNODC کے اشتراک سے نشے کے عادی مریضوں کو اس مودی مرض سے نجات دلانے کیلئے NOV 2012 اور ایس ٹی کے نام سے قائم کیا گیا تھا اور جو مکمل کامیابی کے ساتھ ابھی تک چل رہا ہے اس وقت بھی تقریباً 30 مریض ایسے ہیں جو کہWHO کی جانب سے مہیا کردہ دوائی کو باقاعدگی سے کھا رہے ہیں مورخہ 17 مئی 2014 کو انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری کے سربراہ ڈاکٹر فرید منہاس صاحبUNDOC سے تعلق رکھنے والے تمام ملازمیں کو بتایا کہ منسٹری آف ناکاٹکس نےWHO کی دوائی پر پابندی لگا دی ہے اور اب دوائی مریض کو مزید نہیں دی جا سکتی اور تمام ملازمیں جو جی مارچ تا مئی تک کام کرتے رہے ہیں ان کو فوری طور پر فارغ کیا جا رہا ہے۔
میں اپنی جیب سے کسی کو بھی ایک روپیہ ادا کرنے کا اہل نہیں ہوں اس لئے آپ کو ان تین ماہ کی تنخواہ نہیں مل سکتی آپ مہربانی فرما کر کسی اور جگہ نوکری تلاش کریں اور مئی کے بعد یہ ادارہ بھی مزید نہیں چل سکتا جناب سے گزارش ہے اگر ہمیں یہ بات پہلے ہی بتا دی جاتی تو ہم مارچ کے شروع میں ہی اپنے لئے کسی اور جگہ نوکری کا بندوست کرتے کیونکہ ہمارا براہ راست تعلق نہ تو UNDOC کے کسی اہلکار کے ساتھ تھا اور نہ ہی ہم لاگ کسی کو جانتے تھے ہم تو صرف فرید منہاس کو جانتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس پروگرام کے تحت بھرتی کیا، جناب والا میں نے ایک عدد درخواست پرنسپل راولپنڈی میڈیکل کالج کو بھی دی جس پر انہوں نے نام نہاد انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس میں ڈاکٹر ریاض شیخ جو کہ کمیٹی کے چیئرمین کے علاوہ ڈاکٹر فرحت عباس، ڈاکٹر احمد شہزاد جو کہ کمیٹی کے ممبران تھے۔
مگر انہوں نے بھی میری بات کو سننے کے بجائے اپنے پروفیسر بھائی کو بچانے کیلئے مجھے جھوٹا قرار دے دیا اور فیصلہ فرید منہاس کے حق میں دے دیا، جناب نا صرف یہ بلکہ میرے بچے جو کہ نجی اسکول زیر تعلیم تھے جن میں بڑا بیٹا جو کہ ACCA ، چھوٹا بیٹا جو کہ میٹرک اور بیٹی جو کہ کلاس سوئم کی طالبعلم ہے مقررہ فیس ادا نہ ہونے پر ان کا نام اسکول سے خارج کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ مالک مکان کا کرایہ کے علاوہ بجلی گیس کے بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کہا ہے کہ تم نے مورخہ 30-9-2014 تک واجبات ادا نہ کئے تو نہ صرف میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا۔
بلکہ میں تمہارے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کروں گا، جناب والا ان تمام باتوں کے علاوہ مورخہ 4-7-14 کو ڈاکٹر فرید صاحب کے ایڈمن آفیسر نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کہا کہ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو مجبوراً ڈاکٹر صاحب متعلقہ تھانے سے یا کورٹ سے رجوع کریں گے جناب والا مجھے ایک قسم کی دھمکی دی گئی ہے کیونکہ ڈاکٹر فرید صاحب ایک بااثر فرد ہیں اور وہ اپنے پیسوں اور پیشے کے بل بوطے پر جو بھی چاہیں کر سکتے ہیں میں یہاں بقائمی ہوش و حواس کے حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ اگر میرے اوپر کسی بھی قسم کی قاتلانہ حملے کی کوشش یا کسی بھی ذریعہ سے میری جان کو نقصان اٹھانا پڑا تو اس کا ذمہ دار ڈاکٹر فرید منہاس اور ان کے چہیتے ہوں گے۔
میرے اس بیان کو سند سمجھا جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے، جناب والا میری آپ سے عاجزانہ التجا ہے کہ خدارا آپ میری اپیل کو مسترد کرنے کی بجائے غیر جانبدارانہ انکوائری کمیٹی بنائیں تاکہ آپ کے سامنے تمام حقیقت واضع ہو سکے، جناب والا اگر ایک ہفتہ تک میری اپیل پر نظر ثانی نہ کی گئی تو میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں میڈٰا کے سامنے اپنے آپ کو شعبہ نفسیات کے سامنے پٹرول سے آگ لگانے سے بھی گریز نہیں کروں گا جناب والا میری مدد کریں تاکہ میں اور میرے بچے فاقہ کشی سے بچ سکیں۔
العارض راجہ توقیر مسعود
رابطہ نمبر 03345158682
راجہ توقیر مسعود، معرفت رحمانی کوکنگ سنٹر دکان نمبر b-l-440 کری روڈ صادق آباد، مسلم ٹاؤن راولپنڈی۔
