Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بھگت سنگھ ہر عہد کے نوجوانوں کا ہیرو

March 23, 2017 0 1 min read
Bhagat Singh
Bhagat Singh
Bhagat Singh

تحریر: سید انور محمود
انیس سو تیرہ (1913) میں امریکہ کی تین یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کچھ سکھ، ہندو اور مسلمان طلبہ نے امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں غدر پارٹی قائم کی۔ غدر پارٹی کے قیام کا مقصد متحدہ ہندوستان کو مسلح جہدوجہد کے زریعے برطانوی تسلط سے آزاد کرانا تھا۔ 1915میں غدر پارٹی کے ارکان امریکہ اور کینیڈا سے ہندوستان آئے اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر برطانوی فوج میں موجود مقامی سپاہیوں کو بغاوت پر اکسانے لگے۔ پارٹی کی قیادت نے لاہور کے علاقے میاں میر کی فوجی چھائونی اور فیروز پور کی فوجی چھائونی پر حملہ کرکے اسلحہ قبضہ میں لینے کا منصوبہ بنایا تاکہ دہلی پر حملہ کیا جائے لیکن لاہور میں غدر پارٹی کے خفیہ مرکز پر چھاپہ مارکر کرتار سنگھ، حافظ عبداللہ، ہرنام سنگھ سیالکوٹی، بابورام اور دیگر کو گرفتار کرلیا گیا۔ بھگت سنگھ کے والد اجیت سنگھ بھی غدرپارٹی میں شامل تھے۔ انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ سینٹرل جیل لاہور میں کرتار سنگھ اور حافظ عبداللہ وغیرہ پر مقدمہ چلا کر ان سب کو پھانسی پر لٹکادیا گیا۔غدر پارٹی کے یہ بہادر قائدین بھگت سنگھ کا آئیڈیل تھے۔

بھگت سنگھ28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور (فیصل آباد) کی تحصیل جڑانوالہ میں پیدا ہوا۔ 1919میں صرف 12 سال کی عمر میں وہ خود سانحہ جلیانوالہ باغ کی جائے وقوعہ پر چند گھنٹے کے بعد پہنچا تھا، جہاں برطانوی سرکار کے حکم پر نہتے لوگوں پر گولیاں چلا کر1500 افراد کو بے گناہ مار دیا گیا تھا اور جائے وقوعہ پرمقتولوں کا خون تازہ تھا ۔ انقلاب کا راستہ بھگت سنگھ نے خود چنا تھا ۔ بھگت سنگھ کو اپنی زندگی سے زیادہ عزیز انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا تھی۔اس کی سوچ انقلابی تھی، اس کا کہنا تھا کہ’’میں انقلاب کی علامت کو داغ دار نہیں ہونے دوں گا ۔ میرے اصولوں کے سامنے زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘ ۔ نوجوان انقلابی بھگت سنگھ انگریز سامراج سے آزادی کی کوششوں کے دوران کئی بارگرفتار کیا گیا لیکن وہ کسی بھی قیمت پر اپنے نظریات کو بدلنے سے انکاری تھا۔ انگریز حکومت نے بھگت سنگھ کو تحریک آزادی ختم کرنے کے عوض راجباہ پاؤلیانی جڑانوالہ کے تمام چکوک کی زمین دینے کی پیشکش کی تھی مگر اس نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ “زمین ہماری ہے تم کون ہو جو ہمیں دیتے ہو۔ تم برصغیر کو چھوڑ دو۔ میری جدوجہد لوگوں کے حقوق اور دھرتی کی آزادی کے لیے ہے اپنے یا اپنے خاندان کے مفاد کے لیے نہیں”۔

بھگت سنگھ مہاتما گاندھی کا سخت گیر پیروکار تھا لیکن20 فروری 1921 کو ننکانہ صاحب گوردوارا میں نہتے انسانوں کو تہ تیغ کیا گیا، اسی بنا پر وہ مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک سے متنفر ہوگیا۔ اسکا ماننا تھا کہ “گولی کا جواب گولی سے ہی دیا جا سکتا ہے”۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب انصاف نہیں ملتا ہے تو بھگت سنگھ پیدا ہوتے ہیں ۔ 1928 میں برطانوی سائمن کمیشن جس میں ہندوستانیوں کی کوئی نمائندگی نہیں دی گئی تھی اس کی لاہور آمد کے موقع پر تحریک آزادی میں شامل جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے کسانوں کے انقلابی رہنما لالہ لجپت رائے زخمی ہوگئے ۔ کچھ دن بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ یہ بات بھگت سنگھ سے برداشت نہ ہوئی اور اس نے لالہ لجپت رائے کی موت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ ایک دن اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انگریز پولیس افسر ایس پی اسکاٹ پر حملہ کیا اور شناخت کی غلطی کی وجہ سے ایک دوسرا انگریز پولیس افسر ڈی ایس پی ، جان پی سنڈریس مارا گیا ۔ بھگت سنگھ نے آٹھ اپریل 1929 کو اپنے ایک ساتھی باتوکشور دت کے ساتھ ملکر لاہور میں پنجاب اسمبلی میں، انقلاب زندہ باد، جئے ہندوستان، کے نعرے لگاتے ہوئے دو بم دھماکے کیے۔ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح اسمبلی میں موجود تھے لیکن وہ اس حملے میں زخمی نہ ہوئے۔ ایک رات لاہور کی کشمیر بلڈنگ سے تمام انقلابی گرفتار کرلیے گئے۔

لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں بھگت سنگھ پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور باتوکشور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا۔ بھگت سنگھ کو 23 مارچ 1931 کو ان کے انقلابی ساتھیوں کے ساتھ انگریز سرکار نے جب پھانسی دی تو اس کی عمر صرف 23 سال تھی، اس کے ساتھ پھانسی پانے والوں کی عمریں بھی زیادہ نہیں تھیں، سب نوجوان تھے۔ عام لوگوں کا ماننا ہے کہ جب تک آزادی کی تاریخ میں بھگت سنگھ کا نام نہ آئےتب تک پاک و ہندو کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا ۔ برطانیہ کی کمیونسٹ پارٹی نے بھگت سنگھ کے مقدمے کے فیصلے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ فیصلہ سامراجی درندگی کا مظہر ہے ۔ گاندھی نے بھگت سنگھ کو حق پر قرار دیا لیکن اس کی پھانسی سے صرف چار دن پہلے 19 مارچ 1931 کو’عدم تشدد کا علمبردار‘ گاندھی نے اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ ارون کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، معاہدے کےلیےمذاکرات بھی کیے، اس دوران اگر وہ چاہتا تو رحم کی اپیل کر کے ان انقلابیوں کی زندگیاں بچاسکتا تھا۔ عوام میں اس معاہدے کے خلاف شدید نفرت اور غصہ تھا کیونکہ اس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ کانگریس کے اہم رہنما ڈاکٹر سبھاش چندر بوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا تھا کہ’’ہمارے اور برطانویوں کے درمیان خون کا ایک دریا اور لاشوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہے۔ گاندھی کی جانب سے کیے گئے سمجھوتے کو ہم کسی صورت قبول نہیں کر سکتے‘‘۔

بھگت سنگھ ہر عہد کے نوجوانوں کا ہیرو رہے گا ۔ 2008ء میں ’’ انڈیا ٹو ڈے ‘‘ نے ایک سروے کرایا تھا ، جس میں نوجوانوں نے بھگت سنگھ کو گاندھی اور سوبھاس چندرا بوس سے بھی بڑا آدمی قرار دیا ۔ تاریخ کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کوئی مجسٹریٹ بھگت سنگھ کی پھانسی کے وقت وہاں کھڑا ہونے اور موت کے سرٹیفیکٹ پر دستخط کرنے کےلیے تیار نہیں تھا ۔ ایک نوجوان آنریری مجسٹریٹ نے یہ کام کیا ، اس مجسٹریٹ کا نام نواب محمد احمد قصوری تھا۔ نواب قصوری وہی شخص ہے، جو اپنے عہد کے ایک اور بھگت سنگھ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا سبب بنا ۔ نواب قصوری کو اسی جگہ قتل کیا گیا تھا ، جہاں بھگت سنگھ کو پھانسی ہوئی تھی ۔ اس جیل کو بعد ازاں توڑ دیا گیا تھا اور آج وہاں لاہور کا شادمان چوک ہے ۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے ہیرو اورنشان حیدر پانے والے راجہ عزیز بھٹی شہید نے ایک مضمون میں بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا۔

آج پاکستان میں اس بات پر ایک دوسرئے سے اختلاف کیا جارہا کہ شادمان چوک کا نام کیا ہونا چاہیے، جنرل ضیاءالحق جو مذہبی شدت پسندی اس ملک میں چھوڑ گیا ابھی اس کو ختم ہونے وقت لگے، حالانکہ وہ تمام لوگ جو شادمان چوک کا نام بھگت سنگھ کے نام پر رکھنے کے مخالف ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھگت سنگھ نے اپنی پیدائش سے پھانسی گھاٹ تک کا سفر غلام ہندوستان میں طے کیا تھا، وہ برطانوی ہندوستان کا شہری تھا، اس کی پھانسی کے وقت کسی ایک بھی مسلمان کے خواب و خیال میں بھی پاکستان نہ تھا۔ایک انسان جو دوسرے انسانوں کے لئے آزادی کی جنگ لڑئے، ایسے ہیرو اور شہید کی شہادت اور قربانیوں کو فراموش کرنا سراسر زیادتی ہے۔ بھگت سنگھ شہید ہماری تاریخ کا سرمایہ ہیں ان پر جتنا ناز کیا جائے کم ہے۔

Syed Anwer Mahmood
Syed Anwer Mahmood

تحریر: سید انور محمود

Share this:
Tags:
committed Hero India Syed Anwer Mahmood youth تعلیم عہد نوجوانوں ہندوستان ہیرو
Salam
Previous Post اسلام میں سلام کی اہمیت، فضیلت اور احکام
Next Post سنہرا دن سنہرا پاکستان
Pakistan Day 23 March

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close