Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بہار میں اردو: جڑیں سوکھ رہی ہیں

May 15, 2014May 15, 2014 0 1 min read
Bihar
Bihar
Bihar

بہار میں اردو کی صورت حال مایوس کن نہیں لیکن اچھی بھی نہیں ہے۔ اردو میں کتابوں اور رسائل و جرائد کی اشاعت میں بے تحاشہ اضافہ، اردو اخبارات خاص طور پر روزنامے کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مختلف یونیورسیٹیوں اور ادبی اداروں کے زیر اہتمام تقریباً روزانہ منعقد ہونے والے سیمینار اور مشاعرے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاست میں اردو رواں دواں ہے، پھل پھول رہی ہے اور تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن حقیقت ِ حال اس کے برعکس ہے۔

اردو اخبارات و رسائل اور کتابوں کی اشاعت میں روز افزوں اضافہ ، بڑے بڑے اور مہنگے سیمینار اور مشاعرے اور بڑی بڑی کانفرنسوں کا انعقاد محض پتیوں پر چھڑکائو ہے۔ اردو کی جڑوں کی ا?بیاری نہیں ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اردو سمٹتی جا رہی ہے اور اس کی جڑیں سوکھ رہی ہیں۔ اس کا اندازہ اردو اخبارات سے وابستہ کارکن صحافیوں کو زیادہ ہے کیونکہ اردو والوں سے ان کا براہ راست واسطہ اور تعلق ہے۔ وہ روزانہ ہی اردو کے دوست نما دشمنوں کو جھیلتے رہتے ہیں۔ اگر کارکن صحافی اردو اخبارات کے دفاتر میں روزانہ موصول ہونے والے مضامین ، پریس ریلیز، بیانات، مراسلوں، نامہ نگاروں اور نمائندوں کی ارسال کردہ خبروں اور رپورٹ کو من و عن چھاپ دیں اور اس کی نوک و پلک درست نہ کریں تو اردو رسوا ہو جائے۔ یہ تو اردو صحافیوں کا احسان ہے کہ انہوں نے اردو کے نام نہاد بہی خواہوں اور اردو کو رسوا ہونے سے بچا لیا ہے۔ا?ج کے اردو صحافی سنگ تراش کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جس طرح ایک سنگ تراش پتھر کو کاٹ چھانٹ کر خوب صور ت شکل دے دیتا ہے اسی طرح اردو صحافی بھی اپنی فن کارانہ صلاحیتوں سے خام مال کو حسن بخش رہے ہیں۔

اردو اخبارات کی میز پر بیٹھے کارکن صحافیوں کی بے بسی کا اندازہ عام لوگ نہیں کر سکتے۔ ہاں، اردو کو رسوا ہونے سے کسی حد تک مدارس اسلامیہ اور ان کے اساتذہ نے بچا لیا ہے۔ بہار میں اردو کی زبوں حالی کے لیے حکومت اور اردو والے یکساں طور پر ذمہ دار ہیں۔ بہار میں تقریبا تیس (30) برسوں کی لگاتار جدو جہد کے بعد 17 اپریل 1981کو حکومت نے سات مخصوص مقاصد کے لئے پہلے مرحلہ میں ریاست کے 15اضلاع پورنیہ، کٹیہار، دربھنگہ، سیتامڑھی ،بھاگلپور، مدھوبنی ، بیگوسرائے، مظفرپور، سہرسہ، مشرقی چمپارن، نوادہ ، دھنباد، مغربی چمپارن، گیا اور سیتامڑھی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ اس کے بعد پھر 29جون 1989کو 11اضلاع اور 16اگست1989کو 13اضلاع میں نوٹیفیکیشن جاری کر کے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔

اس طرح متحدہ بہار کے 39اضلاع میں اردو کو سرکاری مراعات حاصل ہو گئیں۔ لیکن اس میں بہت ہی سفاکی کے ساتھ نوکر شاہوں نے اردو والوں کی ا?نکھوں میں دھول جھونک دی۔ اردو والوں نے جن سات مخصوص مقاصد کے لئے بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائے جانے اور اسے سرکاری مراعات دینے کا مطالبہ کیا تھا ان میں پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک اردو کی تعلیم کو یقینی اور لازمی بنانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ لیکن جب محکمہ راج بھاشا سے پہلے مرحلے میں 15اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تو اس میں اردو تعلیم کو با لکل نظر انداز کر دیا گیا۔ جب کہ محبان اردو کا حکومت سے یہ بنیادی مطالبہ تھا۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ راج بھاشا ہندی کے علاوہ اردو کا استعمال دوسری راج بھاشاکے طور پر درج ذیل سرکاری کاموں کے لئے کیا جائے گا:

1. اردو میں عرضیوں اور درخواستوں کی وصولی اور اس کا جواب
2. اردو میں تحریر شدہ دستاویزات کا رجسٹری ا?فس کے ذریعہ قبول کیا جانا
3. اہم سرکاری قوانین ، ضابطوں اور نوٹیفیکیشن کی بھی اردو میں اشاعت
4. عوامی اہمیت کے حامل سرکاری احکامات اور سرکلر کا اردو میں جاری کیا جانا۔
5. اہم سرکاری اشتہارات کی اردو میں بھی اشاعت۔
6. ضلع گزٹ کی اردو میں بھی اشاعت۔
7. اہم سائن بورڈوں کو بھی اردو میں ا?ویزاں کرنا۔

مذکورہ بالا نکات کے جائزہ سے یہ بات بہ خوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ اس میں اردو تعلیم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جب سرکاری سطح پر اردو تعلیم کو یقینی بنائے جانے کی بات نہیں کی جائے گی تو پھر اردو کی ترقی کیسے ممکن ہے؟ اس سے اردو کے سلسلہ میں حکومت کی ذہنیت کا بہ خوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ مذکورہ نکات میں ایک اور خامی بھی تھی۔ نکات نمبر 3،5اور 7میں ”اہم” لفظ کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس لفظ کے استعمال سے اندیشہ یہ تھا کہ متعصب سرکاری عملہ یہ کہہ کر ان نکات پر عمل نہیں کرے گا کہ وہ انہیں اہم نہیں سمجھتا۔ اس اندیشے کے پیش نظر تقریباً 12برسوں کے بعد 20مارچ1993کو محکمہ راج بھاشا کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری کر کے اس خامی کی اصلاح کی گئی اور لفظ ”اہم” کو نکات سے حذف کر دیا گیا۔ لیکن اردو تعلیم کو یقینی بنانے کا معاملہ ا?ج بھی نکات میں شامل نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی سطح تک اردو تعلیم کا برا حال ہے۔ 30جولائی 2009کو بہار قانون ساز کونسل میں اردو کے عملی نفاذ کے تعلق سے رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر تنویر حسن نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ اس کے بعد کونسل کے چیرمین نے ان کی سربراہی میں ہی ایوان کی راج بھاشا کمیٹی کو بہار میں اردو کی صورت حال کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اس کمیٹی نے 7دسمبر 2010کو اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں ڈاکٹر تنویر حسن نے واضح طور پر تحریر کیا کہ” دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کو جو حقوق ملنے چاہئے تھے وہ اب تک نہیں مل سکے ہیں۔”رپورٹ میں کہا گیا کہ ”کمیٹی اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ بہار میں قوانین ِ اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ ریاست کی بیوروکریسی کی شعوری چشم پوشی اور کہیں کہیں کھلے عام ان کے ذریعہ کی گئی رخنہ اندازی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ”اس بات سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے اردو کے لئے کئی قابل قدر اقدام کئے لیکن اگر افسر شاہی کے ذریعہ اردو کے ارتقا ئ میں پیدا کئے گئے تعطل کے ازالے کی پوری ایمانداری سے کوشش کی گئی ہوتی تو ا?ج ریاست میں اردو ترقیات کے کئی مراحل طے کر چکی ہوتی اور افسر شاہوں کو بھی شاید اردو زبان کے تئیں منفی رجحانات اختیار کرنے کی جرائ ت نہیں ہوتی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ راج بھاشا کے اردو مترجم کے 314منظور شدہ عہدوں میں60،نائب مترجم کے449منظور شدہ عہدوں میں 81اور اردو ٹائپسٹ کے 471منظور شدہ عہدوں میں 134یعنی مجموعی طور پر 275عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار میں نئے تشکیل شدہ اضلاع اور بلاکوں میں اردو ملازمین کے نئے عہدے ا?ج تک تشکیل نہیں دئے گئے۔ اسی طرح محکمہ راج بھاشا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ نے مولانا مظہر الحق، حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری اور عبدالقیوم انصاری کے نام سے تین بڑے ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈائرکٹوریت نے 2007ـ08اور 2008ـ09میں یہ تینوں ایوارڈ اردو کے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کو دئیے۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ ا?ج تک موقوف ہے۔ اردو ڈائرکٹوریٹ اردو کے ادیبوں اور شاعروں کے مسودات کی اشاعت کے لیے بھی مالی امداد دیتا رہا ہے لیکن گزشتہ تقریباً دو برسو ں سے کسی مسودے پر مالی امداد نہیں دی گئی۔ محکمہ کا ترجمان بھاشا سنگم کے ایڈیٹر کے مستقل عہدے کی بھی تشکیل نہیں کی گئی ہے جبکہ اسی محکمہ کے تحت ہندی میں شائع ہونے والے رسالے کے ایڈیٹر کا عہدہ منظور شدہ ہے۔ یہ امتیاز اردو کے ساتھ محکمہ کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو ڈائرکٹوریت کے تحت ایک اردو مشاورتی کمیٹی بھی ہے۔ اس کے چیئرمین اس وقت بزرگ شاعر پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجز ہیں لیکن اس کمیٹی کو کوئی ا?ئینی اختیارات نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ بہت ہی بے اثر کمیٹی ہے۔ اردو کے معاملہ میں یہی حال بہار کی یونیورسٹیوں کا بھی ہے۔ ڈاکٹر تنویر حسن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ریاست میں 10 میں سے 7 یونیورسٹیوں کے جو اعداد و شمار موصول ہوئے ہیں اس کے مطابق اردو کے 303عہدے منظور شدہ ہیں جن میں سے صرف 109عہدوں پر اساتذہ مامور ہیں۔ یعنی تقریباً ایک تہائی اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

Urdu
Urdu

بہار کی یونیورسٹیوں میں ا? خری مرتبہ اردو اساتذہ کا تقرر 2003 میں ہوا تھا۔ اس دوران اور بھی کئی اساتذہ سبکدوش ہوئے ہوں گے۔ اس طرح ریاست کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو کی خالی اسامیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر تنویر حسن کہتے ہیں کہ اگر اساتذہ کے خالی عہدوں کی تعداد 109 بھی مان لی جائے تب بھی یہ حقیقت تو سامنے ا? ہی جاتی ہے کہ ان عہدوں کے خالی ہونے کا سلسلہ دہائیوں قبل شروع ہوا ہو گا۔ ڈاکٹر تنویر حسن کہتے ہیں کہ ایمانداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ برسوں سے خالی پڑے اردو اساتذہ کے عہدے 2003 میں ہونے والی تقرری کے دوران ہی بھر لیے جاتے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

اس پس منظر میں سرکاری سطح پر اردو کی صورت حال انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔ دوسری طرف اردو والوں کا بھی حال اس سے بد تر ہے۔ بہار اردو اکادمی اور انجمن ترقی اردو یہ دو ایسے بڑے ادارے ہیں جنھیں حکومت کی طرف سے گرانٹ ملتے ہیں۔ ان دونوں اداروں میں سرکاری رقم کی بند ر بانٹ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بہار اردو اکادمی کا حال یہ ہے کہ اس کی 37 سالہ تاریخ میں حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ 2008ـ09 میں ایک مشت ایک کروڑ روپئے گرانٹ کے طور پر ملے لیکن اکادمی یہ رقم خرچ نہیں کر سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسے دی جانے والی گرانٹ کی رقم بتدریج کم ہوتی چلی گئی۔اس کے ساتھ ہی اردو اکادمی میں پیشہ وارانہ کورس شروع کر کے اردو کی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر رکاوٹ پیدا کی گئی۔ ابھی حالت یہ ہے کہ اردو اکادمی صرف ایک سرکاری افسرکے ماتحت چل رہی ہے۔ اکادمی کے صدر بہ جہت عہدہ وزیر اعلی ہوتے ہیں۔انہیں سرکاری کام سے ہی فرصت کہاں کہ وہ اردو کے اس معمولی ادارے کی طرف توجہ دیں۔اردو اکادمی میں سکریٹری کے علاوہ دو نائب صدور اور مجلس عاملہ کے اراکین ہوتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دونوں نائب صدور، سکریٹری اور مجلس عاملہ کے اراکین کی مدت ختم ہوئے تقریبا تین سال ہو چکے لیکن ابھی تک اس کی تشکیل نو نہیں کی گئی ہے۔ جس کا براہ راست اثر اکادمی کے کام کاج پر پڑ رہا ہے۔

انجمن ترقی اردو بہار کو پہلے حکومت چار لاکھ روپئے گرانٹ دیا کرتی تھی لیکن اب گزشتہ دو سال سے اسے تقریبا ا?ٹھ لاکھ روپئے گرانٹ کے طور پر مل رہے ہیں لیکن یہ انجمن صرف سکریٹری کا ذاتی ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ بہار میں اردو کے عملی نفاذ کی راہ میں یہی تمام عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران اردو تحریک کے منظر نامے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد اردو سے تعلق رکھنے والے لوگ مطمئن ہو گئے اور الحاج غلام سرور کی قیادت میں جس طرح بہار میں تحریک مضبوط ہوئی تھی اور عروج پر پہنچی تھی اس کا گراف اچانک نیچے ا? گیااور اردو تحریک کا کارواں سست پڑ گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خود اردو والوں کی دلچسپی اپنی زبان سے ختم ہو گئی۔ اردو اخبارات پڑھنااور اسے ڈرائنگ روم میں رکھنا اردو والے کسر شان سمجھتے ہیں۔ بچوں کو اردو پڑھانے کی طرف بھی ہمارا رجحان کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر مسلسل اردو کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں لیکن ان ناانصافیوں کے خلاف کوئی ا?واز بلند کرنے والا بھی نہیں ہے۔ بہار میں اردو تحریک دم توڑ چکی ہے۔ جسے زندہ کرنے کی پھر سے کوشش کی جارہی ہے۔ ادھر چند برسوں کے دوران ایک خوش ا?ئند بات یہ ہوئی ہے کہ اردو کے کچھ دیوانے میدان عمل میں ا?ئے ہیں اور محمد کمال الظفر کی قیادت میں ”تحریک اردو” کے نام سے ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی گئی ہے۔ یہ تنظیم جس نہج پر کام کر رہی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بہار میں اردو کا قافلہ ایک مرتبہ پھر رواں دواں ہوگا اور سرکاری سطح پر اردو کے ساتھ جو نا انصافیاں ہو رہی ہیں اس کے ازالے کی کوئی ٹھوس شکل نکلے گی اور بہار میں ایک مرتبہ پھر اردو تحریک مضبوط ہو گی۔اس پس منظر میں ایک خوش ا?ئند بات یہ ہے کہ اردو کے فروغ کی کوششیں ان لوگوں کی طرف سے کی جارہی ہیں جن کا نام اردو کے بہی خواہوں اور جاں نثاروں کی فہرست میں کہیں بھی نہیں ہے۔ان میں راشٹریہ سہارا گروپ کا نام سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ بھی اردو کے سلسلہ میں اسی طرح کا گروپ سرگرم ہے اور اخبارات اور نیوز چینلوں کے حوالے سے اردو کی خدمت میں شب و روز لگا ہوا ہے۔

Urdu Language
Urdu Language

اس موقع پر بہار کے ایک بزرگ اور کہنہ مشق صحافی شاہد رام نگری کی وہ باتیں یاد ا?تی ہیں جو انہوں نے 1989 میں خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں اردو دانشوری پر پٹنہ میں منعقد کئے گئے ایک سیمینار میں کہی تھیں۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا اردو اس صدی کے بات بھی زندہ رہے گی؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ّمیں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اس سوال کا جواب یہ دے رہاہوں کہ اردو زبان مرے گی نہیں۔ اس صدی کے بات بھی زندہ رہے گی لیکن اس میں کوئی حصہ شاید ان لوگوں کا نہیں ہو گا جو اردو کے جاں نثاروں میں شمار کیے جاتے ہیں، اردو نے جن کو قیادت و سیادت کی عزت سے سرفراز کیا ہے یا اردو جن کو روزی روٹی فراہم کر رہی ہے۔ واقع یہ ہے کہ اردو اپنی زندگی کے سامان خود فراہم کر رہی ہے ان لوگوں کے ذریعہ جن کا نام اردو کے جاں نثاروں میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اردو دیوناگری رسم الخط میں زندہ رہے گی اور یہ خدمت اردو کے پرستار انجام دیں گے۔

تحریر : ڈاکٹر ریحان غنی، پٹنہ
Dr. Raihan Ghani
C/o Hakim Alimuddin Balkhi
Post Gulzar Bagh
Main Road Alam Gunj
Patna
Moblie : 9308610691

Share this:
Tags:
book dried roots Seminar Seminars Urdu اردو بہار جڑیں سیمینار کتاب مشاعرے
Sunni Tehreek
Previous Post صحابہ کرام کے مزارات کو مسمار، نذر آتش کرنیکی شدید مذمت کرتے ہیں، سنی تحریک
Next Post امریکہ پاکستان کو اپنی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا
Pakistan,America

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close