
رب کریم جس پہ انعام کرے
محفل میلاد کا وہ اہتمام کرے
رہے گی گھر اس کے سلامتی
باہر سے جب آئے سلام کرے
بھیجتے ہیں درود رب اور فرشتے
وظیفہ یہی روزانہ صبح و شام کرے
ملی ہے نعمت سخن وقلم جسے
محبت رسول دہر میں عام کرے
اشک زین العابدین کا صدقہ اللہ
دور سب کے رنج وآلام کرے
بڑھتا ہے باہمی محبت کا رشتہ
کرے بڑا شفقت چھوٹا احترام کرے
دل میں رہے الفت رسول کی
زبان سے مدحت خیرالانام کرے
قابل تکریم ہے تیراوہ رہبر
نمازوں میں جس کو امام کرے
سفر زندگی کا اتنا ہے فقط
جیسے مسافر راہ میں قیام کرے
بسم اللہ پڑھے شروع کرتے وقت
جب بھی کوئی جائز کام کرے
خوراک دوپہر کھانے کے بعد صدیق
سنت ہے کچھ دیر آرام کرے
ساحل منیر
