Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بول، الیکٹرانک میڈیا: لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

May 5, 2017 0 1 min read
Bol TV
Bol TV
Bol TV

تحریر : عماد ظفر
ذرائع ابلاغ کو اپنے حق میں استعمال کر کے لوگوں کے نظریات و خیالات کو تابع کرنے کی رسم بے حد پرانی اور قدیم ہے. 19ویں صدی کے اوائل میں اخبارات اور بعد ازاں ریڈیو کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا. اس کے بعد ٹیلی ویثژن چینلوں اور ڈیجیٹل میڈیا کی کامیابی نے ان دونوں شعبہ جات کو بھی نظریاتی اور مفاداتی جنگ کے بیچ اہکی اہم ہتھیار کے طور پر روشناس کروا دیا. یوں انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلز کی وجہ سے انسانوں کی سوچوں یا رائے عامہ کو کسی بھی خاص نظریے کے تابع کرنا بے حد آسان ہوتا چلا گیا.

پاکستان میں اکیسویں صدی کے اوائل میں نجی ٹی وی چینلوں کو کام کرنے کے اجازت نامے دئیے گئے .یہ نجی چینلز اپنے آغاز ہی سے عوام میں مقبول ہو گئے کیوں کہ روایتی سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کے برعکس ان ٹی وی چینلوں نے سماجی،سیاسی، مزہبی اور دفاعی ڈھانچوں پر بنیادی سوالات اٹھائے. سرکاری پالیسیوں پر تنقید کی اور یوں عوام کو محسوس شروع ہوا کہ یہ ٹی وی چینل دراصل ان کی آواز ہیں. نجی ایف ایم ریڈیو چینلوں نے بھی غیر ملکی موسیقی اور سماجی و سیاسی شعبہ جات سے لیکر علوم و فنون پر زمانہ جدید سے مطابقت رکھتے ہوئے پروگرام پیش کرنے کے باعث بے انتہا مقبولیت حاصل کی.

الیکٹرانک میڈیا کی پذیرائی مقبولیت اور طاقت کو دیکھتے ہوئے اکثر صنعت کاروں جاگیرداروں اور اشرافیہ نے اس شعبے کی جانب رخ کیا جس کا بنیادی مقصد اپنے اپنے معاشی مفادات کا تحفظ اور طاقت کے کھیل میں اپنا حصہ مانگنا تھا. ایک طرح سے ٹی وی چینل کا لائنسس ایک ایسا ہتھیار بن گیا جس کی موجودگی میں ٹی وی چینل کے مالکین یا سرکردہ افراد کسی بھی قسم کی قانونی گرفت سے ماورا ہوتے چلے گئے. دوسری جانب سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں نے بھی الیکٹرانک میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا.2007 کی کامیاب وکلا تحریک جس کے نتیجے میں پرویز شرف کے آمرانہ دور اقتدار کا بھی خاتمہ ہوا تھا اس تحریک کے نتائج نے جہاں وطن عزیز کے معتدل مزاج اور لبرل طبقات کو میڈیا پر سپیس فراہم کیا وہیں مقتدر قوتوں کو اس امر کا ادراک بھی کروایا کہ موجودہ دور میں لڑائیاں بیانیوں کے دم پر لڑی اور جیتی جاتی ہیں اور اب بیانیے الیکٹرانک میڈیا کے دم پر بنائے اور مضبوط کیئے جاتے ہیں.اور یوں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی سکرینوں اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ایک جنگ کا آغاز ہو گیا.سیاسی قوتوں نے الیکٹرانک میڈیا کو اپنے حق اور بیانیے کے تسلط کی خاطر ہر جائز و ناجائز حربہ آزماتے ہوئے استعمال کیا ،جبکہ دفاعی و مذہبی ایسٹیبلیشمنٹ نے اس پلیٹ فارم کو اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا.

طاقت کے حصول اور تسلط و اجارہ داری برقرار رکھنے کی اس لڑائی نے الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلوں میں پیرا شوٹ قسم کے اینکرز اور مالشی قسم کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی کھیپ تیار ڈالی. صحافتی قابلیت سے نابلد دانشوارانہ استدلال سے محروم اور تجزیہ و تخلیق کی صلاحیتوں سے عاری اس کھیپ نے ٹی وی چینلوں پر سنسنی، زرد صحافت اور تخلیق و تخیل اور تحقیق سے عاری بے ہنگم قسم کی نشریات کی بنیاد ڈالی. ٹی چینلوں کے نیوز بلیٹن اس ضمن میں منہ بولتا ثبوت ہیں جہاں تخلیقی مواد کی کمی اوریجنل نیوز اور مواد کی عدم دستیابی کے باعث کسی بھی سیاستدان یا جرنیل کا چائےکا کپ پینا بھی بریکنگ نیوز کہلاتا ہے.تحزیاتی یا تحقیقاتی پروگراموں کے نام پر بے معنی الزامات، من گھڑت افواہیں اور جھوٹ پر مبنی دلیل کے منافی پروگرامز اور ٹاک شوز کے نام پر ایک تعمیری یا مدلل مکالمے یا مباحث کے بجائے مہمانوں کو بلا کر انہیں آپس میں لڑوانا یا پھر ان پر پوائنٹ سکورنگ کرنا اس کا واضح ثبوت ہے. دوسری جانب روایتی تنگ نظر اردو صحافیوں اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس جو کہ زیادہ تر سیاسی و غیر سیاسی طاقتوں کی پشت پناہی پر ٹی وی چینلوں میں بطور اینکرز یا اہم ذمہ دارہوں پر تعینات کیئے گئے ان لوگوں نے اس پلیٹ فارم کو بھی کفر توہین اور غداری کی اسناد بانٹنے کی فیکٹریاں بنا کر رکھ دیا. اوریا مقبول جان سے لیکر شاہد مسعود اور مبشر لقمان سے لیکر عامر لیاقت سمیت تمام حضرات مخالفین کو یا تو توہین مذہب کا مرتکب ٹھہرانے لگ گئے یا سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے غداری کے فتوے صادر شروع کرنے ہو گئے.

مقتدر قوتوں کی پشت پناہی اور بے دریغ پیسے اور طاقت کے استعمال نے ٹی وی سکرینوں پر سے زیادہ تر ترقی پسند خیالات کے حامل اینکرز تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کو ایک محدود حد تک مقید کر دیا. زیادہ تر ترقی پسند یا لبرل افراد کو یا تو ائیر ٹائم ہی نہیں دیا گیا یا انہیں ڈرا دھمکا کر اور حملے کروا کر ٹی وی سکرینوں سے دور رکھا گیا.یوں آبجیکٹو جرنلزم یا اعلی صحافی اقدار کی جگہ ٹیلیویژن چینل ضیاالحق دور کی بنائی گئی قومی سلامتی اور توہین مزہب کی خود ساختہ پالیسیوں اور بیانیوں کو تقویت دینے اور پھیلانے میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہونا شروع ہو گئے. لیکن دوسری جانب تمام تر پابندیوں دباؤ اور مالی و جانی نقصان کے خطرات کے باوجود طلعت حسین،نصرت جاوید، رضا رومی اور وسعت الہ خان جیسے صحافی و دانشور اپنی صدا بلند کرتے رہے.اپنے عمدہ تجزیات اور سوالات کی بدولت یہ ایسٹیبلیشمنٹ کو کھٹکنے لگے کیونکہ ایسٹبلیشمنٹ کبھی بھی اپنے اختیارات یا طریقہ کار و کردار سے متعلق سوالات یا تنقید سننے کی عادی نہیں تھی. بہرحال اسی اثنا میں اچانک بول نیوز کے نام سے ملک کا مہنگا ترین ٹی وی نیٹ ورک متعارف کروایا گیا. اس ٹی وی کے فرنٹ مین یا مالک کے طور پر شعیب شیخ کا چہرہ سامنے آیا. شعیب چیخ ایگزیکٹ نامی ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کا مالک تھا جو پاکستان کی چند بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں شمار ہوتی تھی. اپنے ملازمین کو بے انتہااور پرکشش تنخواہ و مراعات دینے کے باعث اس کمپنی میں کام کرنا ہر نوجوان کی خواہش تھی.

بول ٹی وی نے بھی لائنسس حاصل کرتے ہی ایگزیکٹ کی مانند انتہائی پرکشش مراعات صحافیوں کو پیش کرنا شروع کیں اور کچھ ہی عرصے میں ملکی صحافت کے تقریبا تمام بڑے نام بول کی اس کشتی میں سوار ہو گئے. ایگزیکٹ کمپنی کے بارے میں نامور بین الاقوامی صحافی ڈیکلن والش نے جعلی ڈگریاں بیچنے کا سکینڈل منظر عام پر لایا اور شعیب شیخ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھر لیا. قریب سال سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے ادارواں کی تحویل میں رہنے کے بعد مئی 2015 میں شعیب شیخ ضمانت پر رہا ہوا اور اس نے فورا بول ٹی وی کی نشریات کا آغاز کر دیا.توقعات کے عین مطابق بول ٹی وی نے نشریات کے پہلے دن ہی سے تمام مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی.قوم پرستی، نرگسیت اور مزہب کی آڑ لیتے ہوئے بول ٹی وی کے پلیٹ فارم سے میڈیا گروپس صحافیوں اور ترقی پسند طبقہ فکر کے خلاف ایک جامع اور ٹھوس مہم کا آغاز کیا گیا. جمہوریت کے خلاف منظم پراپیگینڈے کو مسلسل نشر کیا گیا. 3 مئی 2015 کو پیمرا نے بول ٹی وی کا لائسنس یہ کہہ کر معطل کر دیا کہ اس چینل کے ڈائریکٹرز کو وزارت داخلہ سے سیکیورٹی کلیئرنس نہیں ملی. تادم تحریر بول ٹی وی کا لائسنس معطل ہے اور نشریات بند ہیں. وہ ٹی وی چینل جو مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کیلئے انہیں وطن کیلئے سیکیورٹی رسک قرار دیتا تھا دراصل خود اپنے ہی ہتھیار کا شکار ہو گیا.

بول ٹی وی کی یہ کہانی لیکن داستو وسکی کے ناول “کرائم اینڈ پنشمنٹ” کی مانند بالکل سیدھی یا گناہ اور سزا کے تصور کے گرد نہیں گھومتی. بلکہ یہ کہانی دراصل مخلتلف قوتوں اور میڈیا کے گٹھ جوڑ کی جانب ایک واضح اشارہ ہے. شعیب شیخ اور اس ٹی وی چینل کی کہانی میں کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات آج تلک حک طلب ہیں یا بذات کود اپنا جواب آپ ہیں. بول ٹی وی کیلئے اس قدر وافر مقدار میں سرمایہ شعیب شیخ کو فراہم کرنے والے ہاتھ کس کے تھے؟ شعیب شیخ اکیلا اسـقدر بڑا اور مہنگا ترین ٹیلی ویژن نیٹ ورک چلانے کی مالی حیثیت نہیں رکھتا تھا. یہ بات درست ہے کہ ایگزیکٹ نامی کمپنی سے وہ بے حد منافع کماتا رھا لیکن وہ منافع بھی اس قدر مہنگے اور پر تعیش نیٹ ورک کے قیام کیلئے ناکافی تھا.دوسرا سوال یہ ہے کہ ایگزیکٹ کمپنی کی فحش ویب سائٹس چلانے سے متعلق اطلاعات باخبر اور سماجی حلقوں میں بول ٹی وی کے آنے سے بہت پہلے کی تھیں. جعلی ڈگریوں کے کاروبار کا انکشاف البتہ سب کیلئے نیا تھا. لیکن اس امر کو تسلیم کرنا ناممکن ہے کہ ایگزیکٹ کے فحش ویب سائٹس یا دیگر غیر قانونی دھندوں سے متعلق خبریں سیکیورٹی ایجنسییوں یا مقتدر قوتوں کے پاس موجود نہیں تھیں.وہ ادارے جو میڈیا کے مالکان کی سونے سمگلنگ کیس کی فائلوں سے لیکر ٹیکس چوری تک کے معاملات کی فائلیں اپنے پاس دبا کر رکھتے ہیں کیسے ایگزیکٹ اور شعیب شیخ کے کالے دھندوں سے بےخبر رہے؟ ڈیکلن والش نامی صحافی کو ایگزیکٹ اور شعیب شیخ کے متعلق لیڈ کس نے فراہم کی ؟پاکستان میں اس کے اہم افراد اور ثبوتوں تک رسائی کن سیاسی قوتوں یا میڈیا گروپس نے کروائی اس کا جوان بھی حل طلب ہے. شعیب شیخ کو دوران حراست وی آئی پی پروٹوکول کن قوتوں کی بدولت ملتا رہا؟ قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں اس کی پشت پناہی کس قوت نے کی؟ ایف آئی کے پراسیکیوٹر زاہد جمیل کے گھر پر گرنیڈ حملہ کس نے کروایا. زاہد جمیل نے ایک ایسے وقت میں جب کیس کا فیصلہ بالکل قریب تھا ایف آئی کی معاونت سے انکار کرتے ہوئے کیس سے علحدگی کیوں اختیار کی؟ جس کا فائدہ شعیب شیخ کو ہوا. ان تمام سوالات کے جوابات شاید خود سوالات میں ہی پوشیدہ ہیں اور اگر ان پوشیدہ نقطوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک بڑی اور واضح تصویر سامنے آ جاتی ہے.

بول ٹی وی کا یہ کیس دراصل ریاست کی مخلتلف قوتوں کا اپنے اپنے اختیارات اور تسلط کی خاطر الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ پر اپنا اپنا ایجنڈہ مسلط کرنے اور میڈیا گروپس کا اپنے اپنے مفادات کے حصول کیلئے رائے عامہ کو فریقین کے حق میں استوار کرنے کی ایک واضح مثال اور جیتا جاگتا ثبوت ہے.اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے تمام ٹی وی چینلوں اور میڈیا گروپس کو فریقین کی طاقت و اختیارات کی جنگ میں فریق بننے کے بجائے اور اپنے اپنے مفادات کے حصول کے بجائے صحافت کے بنیادی اور کلیدی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے. الیکٹرانک میڈیا کا بنیادی فرض اور مقصد غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرتے ہوئے معلومات و حقائق کو درست نداز تک رائے عامہ تک پہنچانے کا ہوتا ہے نا کہ کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی فریق کا آلہ کار بن کر حقائق کو تڑوڑ مڑوڑ کر کسی فریق یا بینانیے کے حق میں پیش کرنے کا . دانشوارانہ و صحافتی بددیانتی بھی ایک طرح سے دہشت گردی کےجرم کے کلزمرے میں آتی ہے کیونکہ ٹی وی سکرینوں سے رائے عامہ کوشدت پسندی ہا قومی نرگسیت میں مبتلا کرنا یا سیاسی کھییل میں بطور چارے کے استعمال کرنا نا صرف حقائق کی رسائی تک کے عوام کے بنیادی حق کے منافی ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں شدت پسندانہ ماینڈ سیٹ کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے. طاقت و اختیارات کے اس کھیل میں فریقین کا آلہ کار بن کر اگر آج بول ٹی وی بند ہو سکتا ہے تو کل کو کسی اور بڑے میڈیا گروپ کے ٹی وی چینل کی باری بھی آ سکتی ہے.ستم ظریفی دیکھئے جو بول ٹی وی کل تک مخالفین کو وطن کیلیے سیکیورٹی رسک قرار دیتا تھا خود آج سیکیورٹی کلیئرنس نہ مل پانے کے باعث بند پڑا ہے. جسے دیکھ کر وہ مصرعہ یاد آ جاتاہے کہ “لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
bol Electronic media Imad Zafar pakistan right sections الیکٹرانک میڈیا بول پاکستان حق
Pak Army
Previous Post چمن میں افغان فورسز کی پاک فوج کی چیک پوسٹوں پر گولہ باری
Next Post پیرمحل کی خبریں 5/5/2017
Pir Mahal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close