
دی ہیگ (جیوڈیسک) سابق سرب رہنما رادووان کرازچ کے خلاف بوسنیا کی جنگ کے دوران نسل کشی اور شدید نوعیت کے دیگر جنگی جرائم سے متعلق مجموعی طور پر 11 الزامات میں مقدمے کی سماعت پانچ سال تک جاری رہی۔
سماعت مکمل ہونے سے قبل کرازچ نے آخری بار اپنے دفاع میں تفصیلی بیان دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ عدالت انہیں تمام الزامات میں بری کر دے گی۔ کرازچ پر دیگر باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی الزام ہے کہ انہوں نے 1992 سے لے کر 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیا کی جنگ کے دوران بوسنی سرب فوجوں کے ہاتھوں بوسنیائی مسلمانوں پر مظالم اور ان کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کی اور انہی کی قیادت میں سرائیوو کا محاصرہ کیا گیا اور پھر 1995 میں سریبرینیسا میں 8000 مسلمان مردوں اور نوجوانوں کا قتل عام کیا گیا۔
بلقان کے اس خونریز جنگی تنازعے میں قریب ایک لاکھ انسان مارے گئے تھے جبکہ ہزار ہا شہریوں کو نسلی تطہیر کے عمل کے دوران جبری طور پر ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل بھی کر دیا گیا تھا۔ دی ہیگ میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کسی بھی فیصلے تک پہنچنے سے قبل ممکنہ طور پر کئی مہینوں تک غور و فکر کرے گی۔
