
دبئی (جیوڈیسک) آئی سی سی سے بولنگ ایکشن قوانین میں لچک کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، آف اسپن آرٹ کو بچانے کیلیے سوچ بچار کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، کچھ حلقوں کی جانب مشکوک بولرز کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت بھی جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جب سے مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل کرکٹرز کیخلاف کارروائی شروع کی سب سے زیادہ آف اسپنرز ہی پکڑ میں آئے، ان میں اہم ترین سعید اجمل ہیں۔
تھروئنگ کے خلاف قانون سازی کا سب سے بڑا مقصد فاسٹ بولرز کو زیادہ اسپیڈ سے گیند کرنے سے روکنا تھا، انٹرنیشنل میچ میں چکنگ پر نوبال کا شکار ہونے والے پہلے بولر آسٹریلوی اسپیڈ اسٹار ایرنی جونز تھے، ان کی گیند ڈبلیو جی گریس کی داڑھی کے بالوں کو چھوتی ہوئی گزری تھی۔
مگر اس اب قانون کی زد میں اسپنرز آرہے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گیند کو زیادہ ٹرن کرنے کیلیے کہنی کو زیادہ موڑتے ہیں آئی سی سی کے 15 ڈگری قانون کے حوالے سے کرکٹ برادری دوحصوں میں منقسم دکھائی دیتی ہے، کچھ چاہتے ہیں کہ آف اسپن بولنگ کو بچانے کیلیے اس قانون میں نرمی ہونی چاہے، اس حوالے سے گذشتہ کئی برس سے اقدمات میں عدم تسلسل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سابق آسٹریلوی اسپنر بیو کیسن نے اس حوالے سے کہا کہ آئی سی سی قوانین پر کوچز کو عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے، مجھے خوشی ہے کہ کونسل اس حوالے سے تھوڑی سختی برت رہی اور 15 ڈگری قانون پر عملدرآمدکی کوشش کررہی ہے، میں سمجھتا ہوں۔
کہ اس قانون کو توڑے بغیر بھی دونوں جانب اسپن بولنگ ہو سکتی ہے، بعض اسپنرز انگلیوں کی مدد سے اپنا کام کرتے ہیں جیسے آسٹریلیا کے جیسن کریزا اس میں کافی بہتر ہیں، مرلی دھرن ’’دوسرا‘‘ کیلیے کلائی کا استعمال کرتے تھے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ گیند بھی 15 ڈگری کے اندر رہتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔
