
ملائیشیا (جیوڈیسک) ملائیشیا کو ایشین ٹائیگر بنانے کیساتھ ساتھ قرآن و سنت نبوی کو اپنا کر ملک کے اسلامی تشخص کا تحفظ کیا، ملک میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ سے ملائیشین عوام ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہوئی، سابق وزیر اعظم ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ اپنے دور وزارت میں حکومتی اداروں میں رشوت کا خاتمہ کڑی سزائیں دے کر کیا۔
جس کے بعد ہی ملائیشیا معاشی طور پر مضبوط ہو کر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کھڑا ہوا۔ سعودی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے قرآن کی آیت تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین پر عمل کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی پیدا کی اور مسلمان، عیسائی اور بدھ مت کے ماننے والوں کے درمیان فاصلے ختم کر دیئے جبکہ مذہبی رہنماں کو ایک دوسرے کے عقائد میں دخل اندازی کرنے اور مخالف بیان بازی سے سختی سے روکا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا کو ایشین ٹائیگر بنانے کے ساتھ ساتھ قرآن اور سنت نبوی کو اپنا کر ملک کے اسلامی تشخص کا تحفظ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں تعلیمی نصاب کو ترقی دے کر اور یکساں نظام تعلیم کے نفاذ سے ملائیشین عوام کو ترقی یافتہ قوموں میں شامل کر دیا۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ملائیشین عوام نے جاپانیوں کی دیانتداری اور جفاکشی سے متاثر ہو کر ان کی طرح پیروں پر کھڑے ہونا سیکھا جبکہ ان کی حکومت نے برطانوی راج میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کو وسعت دے کر چین کی ترقی سے بھی استفادہ کیا۔
