
جدھر دیکھتا ہوں جلوے ہیں تیرے
سب سے اونچے رتبے ہیں تیرے
نہ جانے ہماری کیا حالت ہوتی
بچائے ہوئے ہمیں سجدے ہیں تیرے
اذان میں، نماز میں، میلاد میں
مکان سے لامکاں چرچے ہیں تیرے
سب جہانوں میں حکومت ہے تیری
کائنات میں سکے چلتے ہیں تیرے
پھیلی ہوئی ہے چارسوروشنی
دلوں میںچراغ جلتے ہیں تیرے
بتارہا ہے مقام محمودہمیں
سب سے بلنددرجے ہیں تیرے
بانٹ رہے ہیں دنیاکواجالے
روشن ستارے ایسے چمکے ہیں تیرے
بلاتے ہودرپہ اپنے انہیں
جوبھی قصیدے پڑھتے ہیں تیرے
بچ جائیں نارجہنم سے مسلمان
بھلائی پرمبنی جذبے ہیں تیرے
بوسے لیے نعلین کے عرش نے
پسند جبرائیل کو تلوے ہیں تیرے
ڈھانپ لو رحمت میں صدیق کو
عیبوں پر ہمارے پردے ہیں تیرے
کلام : محمد صدیق پرہار
