ٹوٹے سپنوں کا شہر باقی ہے
رنج و غم کا قہر باقی ہے
کیسے ٹھیک سے زندہ رہ پائیں
ابھی یا د وں کا زہر با قی ہے
تیرے لفظوں کو بھلا نہ پایا
تیری باتوں کا سحر باقی ہے
زخم بھر گئے جد ائی کے مگر
درد کی آہوں کا اثر باقی ہے
جھڑ گیا مگر ہمارے نام کے سا تھ
ابھی تک بوڑھا شجر باقی ہے
تیری یاد ہے ساگر جو ا بھی باقی ہے
اک تو نہیں سب کچھ مگر باقی ہے

تحریر : شکیل ساگر
