تحریر: یاسر قدیر

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
افسوس صد افسوس، جب سے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ معین کا ایک انٹرویو دیکھنے کو ملا ہے دل اندر ہی اندر تڑپ رہا ہے، موصوفہ برما کے مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کے حوالے سے الجزیرہ کے اینکر پرسن کے سوال کے جواب میں فرما رہی تھیں کہ ان کے ملک میں آگے ہی آبادی بہت زیادہ ہے اس لئے وہ ان بچے کھچے، لٹے پٹے مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ نہیں دے سکتی، یعنی یہ واپس اپنے ملک برما جائیں اورجو باقی ماندہ مسلمان رہ گئے ہیں یہ بھی گولیوں اور مظالم کا نشانہ بن جائیں، مجھے اینکر پرسن کے چہرے پر وہ تاثرات نہیں بھولتے جب وہ بار بار بنگالی وزیر اعظم کو انسانی ہمدردی و ہمسایہ ہونے کے ناطے انھیں باور کرانے کی کوشش کر رہا تھا کہ مسلمانوں کو بچانا ان کا اخلاقی فرض بنتا ہے اور آگے سے موصوفہ جس بے حسی سے اس کے سوالات کے جواب دے رہی تھی،سخت قابل مذمت ہے
یر ان موصوفہ پر ہی کیا قناعت ہم مسلمانوں کا اس وقت المیہ ہی یہی ہے کہ ہمارے لئے کہیں بھی کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے عالم اسلام میں اس وقت کوئی بھی ایسا حکمران سوائے ترکی کے کوئی نہیں جو برما کے مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر برما حکومت کو روک سکے، برما کے ان مظلوم مسلمانوں پر ظلم کے ایسے ایسے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کہ جنھیں پڑھ اور دیکھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور جن کے مظالم کے آگے ہلاکو و چنگیز خان کے ظلم بھی کم پر جائیں
منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

آپکو یہ جان کر شدید حیرانگی ہو گی کہ برما کے ارد گرد موجود جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں ان میں سے کوئی بھی ان برمن مسلمانوں کی مدد کو تیار نہیں اور جو بھی مظلوم مسلمان کسی نہ کسی طرح کشتیوں کے ذریعے برما سے فرار ہو کر اور چھپ چھپا کے اپنی جانوں کو بچا کر نکل جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کو پھر کوئی بھی مسلم ملک جن میں انڈونیشیا ،ملائشیا، بنگلہ دیش شامل ہیں پناہ دینے کو تیار نہیں اور یہ بیچارے مظلوم مسلمان بیچ سمندر کے بھوکے پیاسے مدد کے لیے اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف ترستی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ان میں سے کتنے ہی سمندر کی موجوں کا شکار بن جاتے ہیں اور کتنے ہی ان وحشی برما حکومتی اہلکاروں کے ہاتھ چڑھ کر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں سلام ہے ترکی کی لیڈر شپ پر کہ ابھی تک صرف انہوں نے ہی آگے بڑھ کر ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کی ہے اور فلک نے پھر وف نظارہ بھی دیکھا جب ترکی کی خاتون اول ان برمن مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر اپنے آنسو نہ روک سکی اور مظلوم برما کی مسلمان خواتین کے گلے لگ لگ کر ان کے آنسو پوچھتی رہی
خیر دیگر مسلمان ممالک کا کیا ذکر خیر سے اپنے وطن عزیز پاکستان کے حکمرانوں نے بھی جیسے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں کہنے کو تو ہم دنیا کی آٹھویں ایٹمی طاقت ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا ٹھیکہ بھی ہم نے اٹھا رکھا ہے لیکن صد افسوس کے ہمارے حکمرانوں کو برما میں ہونے والے مظالم نظر نہیں آ رہے اور لگ ایسا رہا ہے جیسے ستو پی کر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں،اتنی توفیق بھی نہیں کہ کھلے سمندر میں جو مظلوم مسلمان بے یار و مددگار پڑے ہیں ان کے لیے کچھ امدادی سامان ہی بھجوا سکیں ،الله ہی ہمارا حامی و ناصر ہو
اٹھ آنکھ کھول! فلک دیکھ زمین دیکھ!
شرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

تحریر: یاسر قدیر
