
ٹورانٹو (جیوڈیسک) اس میوزیم میں اسلامی آرٹ کے ایک ہزار سے زائد نمونے بھی رکھے جائیں گے، جن میں قرآن کے ایسے نسخے بھی شامل ہوں گے، جو ساتویں اور آٹھویں صدی میں ہاتھ سے لکھے گئے تھے۔
امریکا اور کینیڈا کے کئی عجائب گھروں میں اسلامی آرٹ کے نمونے رکھے ہوئے ہیں لیکن یہ وہ پہلا میوزیم ہو گا، جہاں صرف اور صرف اسلامی فنون لطیفہ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس میوزیم کا باقاعدہ افتتاح اٹھارہ ستمبر کو ہو گا۔ مجموعی طور پر 17 ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے اس منصوبے پر 274 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ اس کا نام آغا خان میوزیم رکھا گیا ہے جبکہ اس سے ملحقہ ایک اسماعیلی سینٹر بھی بنایا گیا ہے۔
پرنس آغا کریم شیعہ اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا ہیں۔ اس میوزیم کا مقصد لوگوں کو اسلامی تاریخ سے آگاہی فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ اس میوزیم کے ڈائریکٹر ہنری کِم کا کہنا تھا کہ اس میوزیم میں رکھی گئی بہت سی اشیا پرنس آغا خان کے خاندان کی ملکیت تھیں۔
جو مسلمانوں کی سپین اور چین میں شاندار کامیابیوں کی عکاس ہیں۔ پتھر سے تیار کردہ اس عمارت کا رقبہ ساڑھے دَس ہزار مربع میٹر ہے اور اس کے اندر تین سو پچاس نشستوں کا ایک شاندار آڈیٹوریم بھی ہے، جس کے اندر منقش لکڑی سے تیار کردہ فریمز لگے ہوئے ہیں۔ افتتاحی تقریب میں پاکستان سے چھ ایسے فنکار شرکت کریں گے، جنہوں نے منی ایچر آرٹ، موسیقی اور پرفارمنگ آرٹس میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ اس عجائب گھر میں آگے چل کر موسیقی کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
