Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید تمغہ بسالت

November 3, 2017November 3, 2017 0 1 min read
Captain Najam Riaz Raja Shaheed
Captain Najam Riaz Raja Shaheed
Captain Najam Riaz Raja Shaheed

تحریر: ایمان ملک
سوات جسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے سرسبز وشاداب میدانوں، خوبصورت مرغزاروں اور شفاف پانی کے چشموں سے مالا مال ہے۔ دنیا کے حسین ترین خطوں میں شمار کیا جانے والا یہ علاقہ، پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ صوبائی دارلحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170 کلو میٹرہے۔ مگرسنہ 2007ء سے سنہ2009ء کے درمیان دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم (تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی) کے بانی صوفی محمد اور اس کے داماد ملا فضل اللہ کے زیر قیادت طالبان نے سوات میں نظام عدل اور نفاذ شریعت کی آڑ میں ایسا گھناؤنا کھیل رچا کہ اس پوری وادی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ اور یوں جولائی سنہ 2007ء میں جنوبی ایشیاء کی یہ خوبصورت ترین وادی موت اور تباہی کی وادی میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں سیاحوں کی بجائے خوف کے سائے منڈلانے لگے۔ اور بچیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانا بند کر دیے گئے۔ اور ٹی وی سیٹس، سی ڈیز اور کمپیوٹرز کو حرام قرار دے کر نذرِآتش کرنا شروع کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچیوں کے اسکولوں اور سی ڈیز کی دکانوں میں دھماکے ہونے لگے اور پولیس اور سیکورٹی فورسز پر خود کش حملے روزانہ کا معمول بن گیا۔

ملا فضل اللہ کی کھڑی کردہ دہشت گرد “شاہین فورس” نے طالبان کمانڈر سراج الدین کی زیر قیادت بالائی سوات کے اسکولوں، ہسپتالوں اور گورنمنٹ دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جہاں پاکستان کے قومی سبز ہلالی پرچم کو ٹی این ایس ایم کے سیاہ اور سفید پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لئے اس وقت کی نگران حکومت نے تقریباً25000 کے قریب سپاہیوں پر مشتمل پاک فوج کے دستے وادی سوات روانہ کئے۔ جن کی کارروائی کے بعد ملا فضل اللہ کے بہت سے ساتھی مارے گئے اور وہ خود فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 13 پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو چارباغ اورمٹہ کے علاقوں میں بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبحہ کیا گیا۔ اور یہیں سے ہی پا کستان میں دہشت اور بربریت کے ایک ایسے چیپٹر کا آغاز ہواجس میں پاکستان کے متعدد سول اور عسکری کرداروں نے تاریک راہوں پر جانیں نچھاور کر کے بہادری اور دلیری کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اوراس لئے ہم سے ڈومور کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ لازم ہوتا ہے کہ پاکستان کے ان شہریوں،فوجی افسران اور جوانوں کی لہو سے لکھی گئی منفرد داستانوں کو پڑھیں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر خود سے سوال کریں کہ کیوں ان کی ڈیرھ لاکھ کے قریب فوج، بے تحاشہ وسائل اور وسیع بجٹ کے باوجود افغانستان میں نہ تو امن قائم کر پائی اور نہ طالبان کے زیر تسلط علاقوں کا کنٹرول حاصل کر سکی؟؟؟

بہرحال، سوات میں ملا فضل اللہ دوبارہ سرگرم ہوا اس نے پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کر دیا جو اس کے شر انگیز نقط نظر میں غیر اسلامی اور غیر شرعی تھا۔ حالات مزید بگڑتے گئے مگر اسی دوران حکومت اور دہشت گرد تنظیم ٹی این ایس ایم کے بانی صوفی محمد کے مابین ‘امن معائدہ’ طے پاگیا۔ اسی اثناء میں طالبان کی جانب سے ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ) کے 4 اہلکار بھی حراست میں لئے گئے جب وہ خوازہ خیلہ بازار میں معمول کے مطابق خریداری کرنے میں مشغول تھے۔ اگرچہ ان اہلکاروں کے پاس اسلحہ موجود تھا مگر پھر بھی انہوں نے امن معائدے کی پاسداری کرتے ہوئے ہر گز کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ اور خود کو چپ چاپ طالبان کے حوالے کر دیا۔ ان ایس ایس جی کے چار اہلکاروں میں سے ایک کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید بھی تھے جنہوں نے اپنے کردار اور عمل سے پاک فوج کے بعد میں شہید ہونے والے نوجوان آفیسرز کے لئے ایک ایسی مثال چھوڑی جو سب کے لئے باعث تقلید بنی۔ اور آج اسی لئے ہم سینہ تان کر کہ سکتے ہیں کہ ہمارے آفیسرز کی شہادتوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

کہوٹہ سے تعلق رکھنے والے اس پاک فوج کے آفیسر نے اپنی ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی جو کہ پاک فوج کی نرسری تصور کی جاتی ہے۔ بعد ازاں پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے بعد کیپٹن نجم نے رضاکارانہ طور پر خود کو ایس ایس جی سروس کے لئے پیش کیا۔ جو عسکری تربیت سازی کے حوالے سے انتہائی دشوارگزار اورکٹھن انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیپٹن نجم نے اس تربیت کی ہر مشکل کو آسانی سے عبور کیا اور ایک نڈر، سخت جان کمانڈو بن کر ابھرے۔ جس کا ثبوت انہوں نے اُن بائیس 22 دنوں میں دیا جو انہوں نے اپنے چار دیگر ساتھیوں سمیت طالبان کی حراست میں گزارے۔

ان کی بڑی ہمشیرہ مسز وحیدہ عامر کے مطابق ان کے خاندان کو ان کی حراست کا علم پاک فوج سے نہیں بلکہ دنیا ٹیلی وژن کے اس براہ راست نشر کئے جانے والے انٹر ویو سے ہوا جو بہت عرصے تک علمی حلقوں میں زیرِ بحث رہا اور ابھی انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ دوران حراست کیپٹن نجم کو اپنے گھر والوں سے بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کی اجازت تھی ۔ مگر انہوں نے اپنی گفتگو میں کبھی بھی اپنے گھر والوں پر عیاں نہیں ہونے دیا کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں اور نہ ان کے خاندان نے ان پر ظاہر کیا کہ وہ سب جانتے ہیں۔

کیپٹن نجم کی ہمشیرہ کے مطابق ان کے بھائی ان 22 دنوں میں بہت باہمت اوربا حوصلہ رہے نہ تو ان کا ایمان ڈگمگایا نہ ان کے پاؤں لڑ کھڑائے۔ بلکہ وہ انہیں تاکید کرتے رہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو کبھی بھی پاک فوج کو برا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ وہ پاک فوج کو اپنا حقیقی خاندان تصور کرتے تھے۔ یہاں واضح رہے کہ یہ تذکرہ سنہ 2009ء میں اپریل کے آخری اور مئی کے اوائل کے دنوں کا ہے جب پاکستان کے حالات بہت خراب تھے اور سرعام میڈیا پر پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جانا معمول سمجھا جاتا تھا ۔

اس دوران کیپٹن نجم کے ایک بھائی اور چھوٹی بہن ملک سے باہر قیام پذیر تھے جنہیں وہاں ان کے موبائل فونز پر طالبان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے۔ طالبان یہ سب پریشر ٹیکٹکس کے لئے کر رہے تھے تا کہ ان چار اہکاروں کے بدلے ان کی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل طے پا جائے۔ جو کہ ممکن نہیں ہوئی۔ اسی اثناء میں کیپٹن نجم اور ان کے دیگر ساتھی طالبان کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے ایک قریبی گاؤں میں پناہ لی۔ مگر وہاں ان کی مخبری ہو گئی اور انہیں وہاں سے بھی بھاگنا پڑا مگراسی دوران ان کا ایک ساتھی ٹانگ پر گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا اورزمین پر گر گیا۔ اس نے کیپٹن نجم سے کہا، “سر آپ جائیں، مجھے یہیں چھوڑ دیں”۔ مگر کیپٹن نجم ریاض شہید ایک حقیقی کمانڈو تھے وہ کیسے اپنے ساتھی کو وہاں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔ لہٰذا وہ سب اپنے زخمی ساتھی کو بچانے کے چکر میں دوبارہ طالبان کی گرفت میں چلے گئے۔ اب ان کی فون پر گھر والوں سے بات چیت ہونا بھی بند ہو گئی۔ کیونکہ طالبان کو سمجھ میں آچکا تھا کہ حکومت پاکستان اور پاک فوج ان ظالمان سے کسی بھی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔

اب کیپٹن نجم اور ان کے دیگر تینوں ساتھیوں کو الگ الگ جگہوں پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ ایک دن انہیں معلوم ہوا کہ صبح طالبان ان سب کو ذبح کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ذبح کر بھی دیا گیا۔ مگر جب طالبان کیپٹن نجم کو لینے کمرے میں داخل ہوئے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کس ماں کے شیر کو للکار رہے ہیں۔ کیپٹن نجم نے ایک ایک کر کے (کمرے میں انہیں لینے کے آنے والے) آٹھ دہشت گردوں کی گردنیں توڑ کر انہیں جہنم واصل کر دیا۔ اوراسی اثناء میں پاکستان کا یہ عظیم لخت جگر کمرے کے باہر کھڑے دہشت گرد کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گیا۔ اور بالآخر 11مئی سنہ 2009ء میں پاک فوج کے اس 24 سالا نوجوان آفیسر کو اپنے آبائی علاقے کہوٹہ میں پورے عسکری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ گو کہ کوئی بھی دنیاوی تمغہ یا اعزاز کیپٹن نجم کی قربانی اوربے مثال بہادری کے شایان شان نہیں مگر بعد از شہادت کیپٹن نجم ریاض راجہ شہید کو حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات اور عظیم قربانی کے اعتراف میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔

کیپٹن نجم نے اپنے ساتھیوں سمیت جان کے نذرانے تو پیش کئے مگر واضح رہے ان چاروں سپاہیوں کی قربانی ہی تھی جو سوات کو طالبان کے ناپاک قدموں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن راہِ نجات اور راہِ راست کا موجب بنی۔ یہ آپریشن آج دنیا بھر کی متعدد ملٹری اکیڈمیز میں ایک ٹیکسٹ کیس کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ جس نے جنت کا نظارہ پیش کرنے والی اس وادی(سوات) کو خوف کے سائیوں سے نکال کر دوبارہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

آج ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ہماری افواج اور آئی ایس آئی پر دہشت گردوں سے روابط ہونے کےالزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ اس فوج پر الزامات لگائےجاتے ہیں جس نے کیپٹن نجم سمیت اپنے چار بیٹے شہید کروا دیئے مگران کی جانوں کے بدلےطالبان سے کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی۔ لیکن کہیں نہ کہیں تو کوتاہی ہماری بھی ہے کیونکہ بد قسمتی سے ہم آج تک دہشت گردی خلاف جنگ میں اپنی قربانیاں اور اپنے نڈر ہیروز کی کارنامے اس طرح دنیا کے سامنے نہیں لا پائے جس طرح امریکہ اپنے سپاہیوں کی کہانیاں عالمی جنگوں کے بعد اور ابھی افغان جنگ کے حوالے سے منظر عام پر لاتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروپیگنڈہ وار کا دور ہے۔ جس میں زمینی کارروائی کے علاوہ ذہن سازی اور مثبت سوچ کی نشونما اور ترویج پر بھی توجہ دینا لازم ہوتا ہے۔ اور جہاں ہم شاید بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ کام صرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا نہیں بلکہ ہمارے پرائیویٹ میڈیا بشمول فلم انڈسری اور ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ہے کہ وہ آگئے آئیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو فلمانے میں اپنی کردار ادا کریں تاکہ دنیا بھی جان سکے کہ پاکستان دہشت گرد ریاست نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ریاست ہے۔

تحریر : ایمان ملک

Share this:
Tags:
pakistan security forces suicide attack پاکستان خود کش حملے سیکورٹی فورسز
Islamic Banking
Previous Post اسلامی بینکاری اور نظام معیشت
Next Post جاپان میں آئی فون 10 فروخت کیلئے پیش
iPhone 10

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close