Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غریب و سادہ رنگین ہے داستان حرم

November 6, 2014 0 1 min read
Hazrat Imam Hussein AS
Hazrat Imam Hussein AS
Hazrat Imam Hussein AS

تحریر : آصف لانگو

٢٠ ھ امیر معاویہ کا انتقال ہو ا تو ان کا بیٹا یزیدانکا جانشین بناامیر معاویہ اپنی زندگی ہی میں یزید کے لئے بیعت لے چکے تھے۔ مدینہ کے کچھ بزرگوں نے والی عہد کے طور پریزید کی نامزدگی کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔حضرت امام حسین علیہ سلام بھی اُن لوگوں میں شامل تھے یزید نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو اس کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ ان بزرگوں سے اپنے لئے بیت حاصل کرے کیونکہ ان کی بیعت کے بغیر وہ اپنی حکومت کو نا مکمل اور غیر مستحکم سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے حاکم مدینہ ولید بن عتبہ کو حکم بھیجا کہ ان بزرگوں سے اس کے لئے فوراََ بیعت لی جائے ولید نے حضرت امام حسین کو بلایا امیر معاویہ کی وفات کی خبر دی اور یزید کا حکم سنایا ۔ امام حسین نے فرمایا ”بیعت ایک اہم معاملہ ہے ۔ مجھ جیسا آ دمی چُھپ کر بیعت نہیں کر سکتا اور نہ میرے لئے ایسا کرنا زیبا ہے۔ جبکہ عام لوگوں کو بلایا جائے گا تو میں بھی آ جاؤں گا ” ولید نیک فطرت اور امن پسند شخص تھا، راض ہو گیا اورحضرت امام حسین کو گھر جانے دیا۔

حضرت امام حسین دیکھ رہے تھے کہ خلافت کو ملوکیت میں بدلا جا رہا ہے وہ زید کی موروثی بادشاہت کو تسلیم کرنے پر ہر گز تیار نہ تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ یزید خلافت جیسے اہم اور اعلیٰ منصب کا اہل نہیں ہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگوں کو اپنی مرضی سے خلیفہ منتخب کرنے کے حق سے محروم کر دیاہے اورخوف و لالچ کے زریعے یزید اپنے تخت کو استحکام بخشنے میں مصرو ف ہے ۔ حضرت امام حسین یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ حضور نبی کریم ۖ اور چاروں خلفاء راشدین نے امامت و خلافت کو جو اعلیٰ معیا ر قائم کیا ہے اس سے انحراف کیا جارہا ہے حکمران کے تقرراور امت کے معاملات کوطے کرنے میں مسلمانوں کا نہ کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی مشورہ شامل ہے۔حکومت پاکر یزید نے مسلمانوں کے بیت المال کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا ہے۔ حاکموں پر تنقید کی آ زادی باقی نہیں رہی۔

جبر و تشدد کا دور دورہ ہے، حق گوئی کی جگہ خوشامد لے چکی ہے ۔گمراہ لوگوں کی حوصلہ افزائی اور سر پرستی ہو رہی ہے ۔ امام حسین جانتے تھے کہ ایسے حکمران کی بیعت کی گئی تو ایک بری مثال قائم ہو جائے گی اوردین واخلاق کو حکومت کے ایوان سے دیس نکالا مل جائے گا۔ چنانچہ اما م حسین نے چشم پوشی اور مصلحت کوشی کے بجائے استحقامت کا راستہ اختیار کیا اور یزید کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے اصرار بڑھ رہا تھا ۔اس لئے آ پ نے مدینہ کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ کا قصد کیا ۔ اہل و عیال بھی ساتھ تھے ۔ راستے میں اہل بیت کے ایک حامی اور ہمدرد عبداللہ بن مطیع سے ملاقات ہوئی ۔اُس نے پوچھا : ” کہاں کا قصد ہے ؟” تو امام حسین نے فرمایا” مکہ کا” ۔ ابن مطیع نے کہا ” مکہ جانے میں مضائقہ نہیں ہے لیکن خدا کے لئے کوفہ کا قصد ہر گز نہ کیجئے گا۔ وہاں کے لوگ بڑے غدار ہیں۔ انھوں نے آ پ کے والد بز ر گوار اور محترم بھائی دونوں کو دھوکہ دیا ۔ آ پ اہل حجاز کے سردار ہیں حرم میں بیٹھ کر اطمینان سے لوگوں کو دعوت دیجئے۔ حرم کا گوشہ ہر گز نہ چھوڑیئے گا۔”

آ پ مکہ میں تھے کہ اہل کوفہ کے خطوط پہنچنے لگے کہ وہ خلافت کے منصب کے لئے آ پ ہی کو موزوں سمجھتے ہیں ۔ عمائدین کوفہ کا ایک وفد بھی آپ کے پاس آیا اور کوفہ چلنے کی درخواست کی۔ آ پ نے اپنے چچاد اد بھائی مسلم بن عقیل کو صورتحال معلوم کرنے کے لئے کوفہ بھیجا۔ مسلم بن عقیل نے کوفہ پہنچ کر امام حسین کے حامیوں سے ملاقاتیں شروع کیں اور امام کو خط لکھا کہ لوگ آ پ کے ساتھ ہیں ۔ تشریف لئے آ ئے ۔ یزید کو بھی اس کی خبر مل گئی آ س نے ایک سخت گیر حاکم عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ بھیجا۔ عبید اللہ بن زیاد کی سختیوں سے ڈر کر اہل کوفہ نے مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ دیا اور ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کو قتل کر ا دیا۔

اُدھر مکہ معظمہ میں امام حسین کو مسلم بن عقیل کا خط ملا تو وہ کوفہ کی طرف روانگی کی تیاریاں کرنے لگے ۔امام حسین کے رشتہ داروں اور اہل مکہ نے اُ ن سے گزارش کی کہ وہ کوفہ جانے کا ارادہ ترک کر دیں ، کیونکہ اہل کوفہ ناقابل اعتبار ہیں ۔ مگر امام حسین نے کہا کہ : ” مجھے معلو م ہے کہ آ پ سب لوگ میرے خیر خواہ ہیںلیکن میں عزم کر چکاہوں ”چنانچہ ذی الحجہ ٢٠ ھ میں آ پ اپنے اہل و اعیا ل سمیت کوفہ روانہ ہو گئے آ پ مکہ سے نکلے ہی تھے کہ فَر زوق شاعرنے جو کوفہ آ رہا تھا آ پ کو صورتحا ل سے آ گاہ کیا اور کہا کوفیوںکے دل آ پ کے ساتھ ہیں مگر اُ ن کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں ۔مقام ثعلبیہ میں پہنچ کر آ پ کو مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی آ پ کے ارادے میں کچھ تبدیلی ہوئی اور خیر خواہوں نے بھی واپسی کا مشورہ دیا مگر مسلم بن عقیل کے بھائی نہ مانے ، انھوں نے کہا ہم مسلم کے خون کا بدلہ لیں گے۔

اسی دوران میں دو قاصدوں نے مسلم بن عقیل کی وصیعت آپ تک پہنچائی کہ آپ کوفہ آ نے کا ارادہ ترک کر دیں ۔ اس موقع پر آ پ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا : ” مسلم بن عقیل ، ہانی بن عروہ اور عبد اللہ بن بقطر قتل ہوگئے ۔ ہمارے حامیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا۔ تم میں سے کو شخص لوٹنا چاہئے وہ لوٹ سکتا ہے میری طرف سے اس پر کوئی الزام نہیں ہوگا۔ عوام کا جو ہجوم راستے میں ساتھ ہوگیا تھا سنتے ہی چھٹنے لگاآ پ کے ساتھ وہی جان نثار رہ گئے جو مدینہ سے ساتھ چلے تھے۔

کچھ آ گئے بڑھے تو مقام ذی حشم میں حر بن یزید تمیمی سے آ منا سامنا ہوا حرکو ایک ہزار سپاہ کے ساتھ اس لئے بھیجا گیا تھا کہ وہ آ پ کو گیر کر ابن زیاد کے پاس پہنچا دے۔ آ پ نے اُ س فرمایا : ” میں خود نہیں آ یا ہوں ۔ تم لوگوں کے خطوط آ ئے تھے کہ ہمارا کوئی امام نہیں۔ آ پ آ کر ہماری رہنمائی کیجئے ۔ اگر تم لوگ اس بیا ن پر قائم ہو تو میں تمھارے شہر چلوں ورنہ یہی سے پلٹ جاؤں” ۔ حر نے کہا مجھے حکم ملا ہے کہ ”میںآ پ کو ابن زیاد کے پاس پہنچا دوں میں ابن زیاد کو لکھ دیتا ہوں ، ممکن ہے مفاہمت کی کوئی صورت نکل آ ئے ” لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔

Allah
Allah

مقام بیضا میں حضرت امام حسین نے اپنا موقف واضع کرنے لئے ایک پر جوش خطب دیا: ” لوگو! رسول اللہ ۖ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی ایسے حاکم کو دیکھے جو ظالم ہے حدوداللہ کو توڑتا ہے ، خدا سے کیے ہوئے عہد کا پاس نہیں کرتا اور وہ شخص یہ سب کچھ دیکھنے کے باجاوجود اس ظالم حکمران کی مخالفت نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اُس ظالم حکمران کی مخالفت نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اُس ظالم حکمران کے ساتھ اسے بھی دوزخ میں ڈال دے گا۔ یزید اور اس کے ساتھی شیطان کی پیروی میں لگ گئے ہیں ۔ رحمن کے باغی ہوگئے ہیں۔ فساد کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ احکام الٰہی کو معطل کر چکے ہیں۔ بیت المال پر ان کا ناجائز قبضہ ہے ۔انھوں نے خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کر دیا ہے اور جس کو حلال فرمایا ہے اسے وہ حرام ٹھہرا چکے ہیں۔ اس لیے میں ان کی سر کشی کو حق و عدل سے بدل دینے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں ۔”

نینو یٰ میں حُر کو حکم ملا کہ امام حسین کو ایسے چٹیل میدان میں اترنے پر مجبور کرو جہاں نہ پانی ، نہ کو ئی پناہ کی جگہ ۔ ٢ محرم ٦١ ھ کو امام حسین کا قافلہ اس جگہ اترا جس نے کربلا کا نام پایا ۔ ٣ محرم کو عمر بن سعد چار ہزار مزید فوج لے کر پہنچا ۔ اس نے بھی پہلے مفاہمت کی کوشش کی لیکن ابن زیاد کی طرف سے حکم آ یا کہ ہر صورت امام حسین سے بیعت لو۔ ابن زیاد نے دوسرا حکم یہ بھیجا کہ امام حسین پر پانی بند کر دو ۔ چنانچہ ابن سعاد نے دریا ئے فرات پر پہرا بٹھا دیا ۔ ابن زیاد کو اندازہ ہوا کہ ابن سعد جنگ کو ٹال رہا ہے چنانچہ اس نے شمر زی الجوش کو اس کے پاس بھیج دیا اور لکھا کہ میرا حکم پہنچتے ہی امام حسین سے بیعت لیکر میرے پاس بھیج دو ۔ اگر تم یہ کام نہیں کر سکتے ہو تو پھر فوج کی کمان زی الجوش کے حوالے کر دو۔

حضرت امام حسین بیعت پر آ مادہ نہ تھے ۔ یزید کی فوج بیعت لئے بغیر انھیں چھوڑنے پر تیار نہ تھی ۔ آ پ نے ایک دفعہ پھر ساتھیوں کو اختیار دیا کہ چاہیں تو چلیں جائیں مگر وہاں جان نثاروں نے اسے قبول نہیں نہ کیا ۔ حضرت امام حسین نے اہل بیت اور خیموں کی حفاظت کا انتظام کیا ۔ ٧٢ جان نثا روں کی فوج کو مقابلے کے لئے ترتیب دیا ۔ بارگاہ خدا وندی میں دعا کی اور اتمام حجت کیلے دشمن فوج سے خطاب کرتے ہوئے اپنا حسب نسب بیان کیا ۔ آ نے کاسبب بتایا اور واپسی کا ارادہ ظاہر کیا ۔ اُدھر سے ایک ہی شرط تھی :” بیعت کر لو تمھاری ہر خواہش پوری کی جائے گی ۔” آ پ کا جواب تھا : ” خد ا کی قسم میں ذلیل کی طرح یزید کی بیعت کر کے غلام کی طرح اس کی خلافت تسلیم نہیں کروں گا ۔” حر بن یزید تمیمی یہ باتیں سن کر یزید کے لشکر سے کٹ کر امام حسین کے ساتھ آ ملا۔

جمعہ کا دن تھا، محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ امام حسین رات بھر عبادت اور صبح کی نماز سے فارغ ہو کر میدان میں آ ئے ۔ جنگ شروع ہوئی ۔ ایک طرف چار ہزار مسلح سپاہ تھی۔ دوسری طرف کل ٧٢ آ دمی تھے ۔ تاہم یہ مٹھی بھر جان باز بڑی شخصیت سے لڑے ۔ دوپہر تک حضرت امام حسین کے بہت سے جان نثار کام آ ئے ۔ دشمن ہر طرف سے یورش کر دی ۔ آ پ کے بھائی اور جگر گوشے آ پ کے سامنے گرتے اور شہید ہوتے رہے ۔ مگر آ پ نے لڑائی میں حیدر کردار کی یاد تازہ کر دی ۔ آ خر آ پ اکیلے رہ گئے اور لڑتے لڑتے خستہ حال اور نڈھال ہو گئے ۔ پیاز کی شدت نے غلبہ کیا تو پانی کی طرف بڑھے لیکن اسی اثنا میں دشمن کا تیر آ یا ۔ آ پ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا ۔ آ پ دریا سے واپس آ ئے تو دشمنوں نے ہر طرف سے گیر لیا ۔آ پ زخمو ں سے چور تھے مگر برابر مزاحمت کر رہے تھے۔

عمر بن سعد نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ آپ کا سر تن سے جد ا کر دیں مگر کسی میں یہ ہمت اور جرات نہ تھی کہ یہ کام کر سکے ۔ آ پ نے نماز ِ عصر میں مصروف تھے ۔ سر سجدے میں رکھا تھا کہ شمر نے آ گئے بڑھ کر وار کیا اور آ پ کا سر تن مبارک آ پ کے مبارک جسم سے الگ کر دیا ۔ اس کے بعد آ پ کی نعش پر گھوڑے دوڑائے گئے ۔ آ پ کے خیمے نذر آ تش کر دیئے گئے ، آ پ کے جسد مبارک دفن کر دیا گیا اور آ پ کا سر ابن زیاد کے پاس بھیجا گیا۔ لٹے پٹے اہل بیت کا قافلہ بھی ساتھ تھا ۔ اہل بیت کا یہ قافلہ اور آ پ کا سر بعد میں ابن زیاد نے یزید کے پاس بھجوا دیا ۔

اس بے سرو سامانی کے عالم میں حضرت امام حسین کی ہمشیرہ حضرت زینب نے جس طرح اہل قافلہ کو تسلی دی اور ہمت بڑھائی۔ تاریخ میںاسکی مثال نہیں ملتی ہے ۔ واقعہ کربلا تاریخ اسلام کا بہت اہم واقعہ ہے ۔ یہ امام حسین اور اہل بیت کی مظلومیت کی داستان بھی ہے اور راہ حق میں انکی قربانیوں ، جان نثاریوں اور جراتوں کا قابل تلقید کار نامہ بھی۔ حضرت امام حسین نے مقدس خون سے تاریخ اسلام کا یہ بات رقم کیا کہ اہل حق سر تو کٹا سکتا ہے مگر باطل کے آ گے جھکا نہیں سکتے ۔ آ ج بھی رزم ِ حق و باطل میں کوئی شخص قدم رکھتا ہے تو اُس کے سامنے اسوہ حسین روشنی بن کر نمودار ہوتا ہے واقعہ کربلا اسے یاد دلاتا ہے ۔
قتل ِ حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کر بلا کے بعد

محترم قارئین حضر ات ! وقعہ کربلا اور شہادت امام حسین سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ راہ حق میں مرنے سے ڈرنا ہر گز نہیں چاہئے اور طابل کے سامنے جھکنے سے بہتر ہے کہ اہم موت گلے لگا لیں ۔ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوتا ہے کہ غلط حکمران کے سامنے جھکنا یا اس کی بیعت کرنا انتہائی غلط عمل ہو گا۔ایسیطاقت ور حاکم یا ظالم شخص جو اسلام کی نظام کو نقصان پہنچانے کیطاقت رکھتا ہے ایسے شخص کے ساتھ جہاد کر حق کا ساتھ دینا ہی درست ہے۔

غریب و سادہ رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتداہے اسماعیل

Asif Langove
Asif Langove

تحریر : آصف لانگو

Share this:
Tags:
case colorful Haram narrative simple حکومت داستان سادہ غریب معاملہ
Peshawar
Previous Post پشاور میں پولیس مقابلے میں دہشت گرد ہلاک، ایک اہلکار بھی شہید
Next Post حکومت نے 6 ماہ میں پولیو کے خاتمے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی، ترجمان وزیراعظم ہاؤس
PM House

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close