Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خوشحال پاکستان

July 9, 2014 0 1 min read
Shahid Shakeel
Pakistan
Pakistan

موجودہ دور میں وطن عزیز کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،تمام تر کوششوں کے باوجود ہر آن مسائل گھٹنے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں ایسا کون سا مسئلہ ہے جو عوام کو در پیش نہ ہو، مہنگائی، بد عنوانی، جرائم، بھوک و افلاس، ناانصافی، ظلم و تشدد اور ماحولیاتی کثافت کے علاوہ دہشت گردی جس میں علاقائی، معاشی اور سیاسی دہشت گردی سر فہرست ہے، ان تمام تر سنگین مسائل کی وجہ سے قوم بے حال ہو چکی ہیں۔

کہنے کو تو پاکستان ایک اسلامی اور جمہوری ریاست ہے لیکن اس ریاست میں نہ تو مکمل طور پر اسلامی قوانین رائج ہیں اور نہ ہی سیاست دانوں میںرتی بھر اہلیت کہ وہ ان مسائل کوحل کر سکیں ،ملک کو جمہوری طریقے سے چلانے کیلئے آئین موجود ہے لیکن وہ صرف کتابی شکل میں موجود کسی کباڑ خانے میں پھینک دیا گیا ہے اور جب بھی نئی حکومت برسر اقتدار آتی ہے اپنے مفاد کیلئے نئے قوانین بناتی ہے آئین میں ترامیم کی جاتی ہیں اور ان ترامیم سے صرف یہ نام نہادلیڈر اپنی جیبیں بھرتے ہیں ،عوام اور ان کے بنیادی حقوق کو گندی نالی کا کیڑا سمجھ کر مسل دیا جاتا ہے۔عدلیہ ،انتظامیہ ،سرکاری ،غیر سرکاری ادارے ان حکومتوں کی غلامی کرتے اور تلوے چاٹتے ہیں۔

پاکستان کو قدرت نے اپنی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے زمین سونا چاندی اگلتی ہے کسی چیز کی کمی نہیںلیکن تعمیری کاموں میں استعمال کرنے کی کسی میں اہلیت نہیںاور اسی وجہ سے ملک مسائل در مسائل سے دوچار ہوتا جا رہا ہے ،ایک مسئلہ حل نہیں ہوپاتا دیگر نت نئے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں ،کمزور اور بے بس عوام بھوک و افلاس ،ظلم و زیادتی ،ناانصافی ،مہنگائی کے خاردار سنگی پاٹوں میں پس رہے ہیں،مایوسی اور خود کشی کے رحجانات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ان مسائل کا کوئی سدباب یا حل کرنے والا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ ملک میں آئین، جمہوریت، مرکزی و صوبائی حکومتیں، عدلیہ و انتظامیہ اور ان کی مد د کیلئے مختلف ادارے ہونے کے باوجود یہ سنگین مسائل کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ ان کے رکنے کی بجائے بڑھنے کے کیا اسباب ہیں ؟کیا ان کا علاج ممکن ہے؟اگر ان مسائل کا حل یا خاتمہ ممکن ہے تو کیسے؟اور اس کا ذریعہ کیا ہے؟یہ تمام سوالات انتہائی اہم اوربنیادی حیثیت کے حامل ہیں ،ماسوائے موجودہ دہشت گردی کے، دیگر مسائل آج کے نہیں بلکہ جب بھی حکومتیں تبدیل ہوئیں جمہوریت ہو یا آمریت ملکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ ان مسائل میںبھی اضافہ ہوتا رہا بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا روزبروز ملک و قوم کا معیار و گراف تیزی سے ڈاؤن ہوتا گیا۔

مختلف بحرانوں کا شکار ہوا۔جب تک پرنٹ میڈیا کاراج تھا ملک میں سکون اور طمانیت کا دور دورہ تھا لیکن جیسے ہی الیکٹرونک میڈیا اور بالخصوس سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کا دور شروع ہوا اس وقت سے آج تک بتدریج مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا ،دنیا کے کئی ممالک نے الیکٹرونک میڈیا سے فائدہ اٹھایا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گئے برعکس ترقی کی راہ پر چلنا تو درکنار پاکستان میں اس میڈیا نے ایسے ایسے کارنامے انجام دئے جس سے میڈیا مالکان نے اربوں کھربوں روپے کمائے لیکن انکی غیر ذمہ داری نے قوم کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔

جمہوری ممالک میں میڈیا کی آزادی کو اہم ترین تصور کیا جاتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عملی طور جمہوریت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب کہ میڈیا کو آزادی حاصل ہو اور اظہار رائے پر پابندی نہ ہو ، میڈیا ایک طاقت ور اور باوقار حیثیت کا حامل ہے دیگر ملکی اداروں کی طرح یہ بھی تعمیری اور اصلاحی رول ادا کرتا ہے ،سوال یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہونی چاہئے یا نہیں؟۔

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران آزاد میڈیا نے جو کردار پیش کیا ہے اور ہنوز کر رہا ہے وہ ملک و قوم کے حق میں بہتر ثابت ہونے کی بجائے خطرناک ثابت ہو رہا ہے ،نجی ٹی وی چینلز دولت اور مقبولیت حاصل کرنے کیلئے اپنے فرض اور ذمہ داری کو بھول گئے ہیں جس کے نتائج ہر سطح پر دکھائی دے رہے ہیں ،انٹر ٹینمنٹ کے نام پر تمام چینلز معاشرے میں زہر گھول رہے ہیں اور نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر لے جارہے ہیں ،نیوز چینلز قتل و غارت گری ،اغواہ، ریپ کی خبریں بڑھ چڑھ کر نشر کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مقابلہ رہتا ہے۔

یہ خبر سب سے پہلے ہمیں نشر کرنے کا اعزاز حاصل ہے، کہنے کو تو یہ چوبیس گھنٹے کے چینلز ہیں لیکن چوبیس گھنٹوں میں شاید دو چار اہم و تعمیری خبریں نشر کر پاتے ہیں، یہ چینلز عوام میں سنسنی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور جوبھی الٹی سیدھی خبریں موصول ہوتی ہیں بغیر تصدیق اور ٹھوس ثبوت کے نشر کرتے رہتے ہیں۔

Crime
Crime

لائیو کوریج کے نام پر اکثر اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ یہ سوچ نہیں پاتے آیا یہ خبر قوم کے مفاد میں ہے بھی یا نہیں اور عوام کا کیا رد عمل ہو گا علاوہ ازیں جرائم پیشہ افراد یا دہشت گرد عناصر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،ملک کے کسی بھی حصے میں اگر دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوجائے تو ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی خواہش میں تما م ڈھکی چھپی باتوں کا پردہ فاش کر دیا جاتا ہے یہ نہیں سوچتے کہ اس لائیو کوریج کو ہزراوں کلو میٹر دور بیٹھے دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ تک تمام معلومات پہنچ رہی ہیں اور وہ نئی حکمت عملی تیار کرسکتے ہیں۔
الیکٹرونک میڈیا کی اس آزادی نے ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

دنیا میں ہر چینلز لائیو کوریج کرتا ہے دس سے پندرہ منٹ کے بعد دیگر خبروں یا واقعات کو نشر کرنا شروع کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا خبر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتا ہے، بال کی کھال نکالی جاتی ہے بات ہاتھا پائی تک پہنچتی ہے تو بیان دئے جاتے ہیں کہ پریس پر تشدد کیا گیا،یہ سب غیر ذمہ داری اور آزادی کا ناجائز استعما ل ہے۔

حکومت کو چاہئے نیوز چینلز کو اتنا بے لگام نہ چھوڑا جائے کہ ان کی وجہ سے ملکی اور قومی مفادات متاثر ہوں،انہی چینلز پر انٹرٹینمنٹ اور ثقافت کے نام پر سماج میں عریانیت کو فروغ دیا جارہا ہے اور وہ پروگرامز جو معاشرے کے لئے سود مند نہیں ہیں انہیں فوری بند کیا جائے ،کیا ملک میں کوئی ایسا سٹوری رائٹر یا پروڈیوسر ڈائیریکٹر نہیں جو تعمیری ، ثقافتی یا قومی یکجہتی پر سیریل یا ڈرامہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہو۔

ملک کے غیر تعلیم یافتہ افراد انہی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے بے ہودہ پروگرامز جن میں ظلم و ستم ،تشدد ،خواتین اور بچوں سے زیادتی کو ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے آسکر ایوارڈ کیلئے بھیجا جائے گا، کو دیکھ کر جرائم میں ملوث ہو رہے ہیںاور حکومت جانتے بوجھتے ہوئے خواب و خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔

یاد رہے دنیا کے ہر ملک کی انفورمیشن منسٹری میڈیا پر گہری نظر رکھتی ہے کہ کوئی ایسی خبر نشریا پروگرام پیش نہ کیاجائے جس سے ملک و قوم میں انتشار ، بد نظمی یا ایسا ماحول پیدا ہو جس سے ملک وقوم کی بدنامی ہو یا حکومت پر انگلی اٹھائی جائے،اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب تک میڈیا اصلاح پسند اور غیر متعصب نہیں ہو گا اس وقت تک اس کے فوائد سامنے نہیں آئیں گے۔

ملک میں جرائم کی شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرے نے مجرموں اور بد کردار لوگوں کے آگے سپر ڈال دی ہے اور مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں سب کا کام جرائم پر قابو پانا نہیں بلکہ ان کے اعداد و شمار جمع کرنا رہ گیا ہے ،نام کی کمیٹیا ں اور کمیشن بٹھائے جاتے ہیں جو نہ کوئی رپورٹ تیار کرتے ہیں نہ کسی مجرم کی شہہ رگ تو دور انکی دھول تک نہیں پہنچ پاتے اس دوران پھر کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے اور پھر نوٹس لئے جاتے ہیں اور کمیشن بٹھائے جانے کی ڈرامہ بازی شروع ہو جاتی ہے سالوں سے یہی چلتا آرہا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا۔

کہنے کو جرائم آج پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور ہر جگہ ان کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں جرائم کی رفتار اس کی آبادی میں اضافہ سے کہیں زیادہ ہے ،گزشتہ چند سالوں میں حکومتوں نے جرائم اور مجرموں کا قلع قمع کرنے کیلئے نہ تو کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا اور نہ ہی جرائم کو روکنے کی پلاننگ کی ،پولیس فورس میں اضافے کے بعد بھی جرائم کی شرح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی کیونکہ مجرمانہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی پولیس ہی مجرموں کی پشت پناہ بن جاتی ہے،آج اگر معاشرے میں قتل و غارت گری ، ڈاکہ، لوٹ مار ،عصمت فروشی اور عصمت دری روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں تو اس کی ذمہ داری انتظامیہ اور اس پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

Police
Police

جس پر سالانہ کروڑوں اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں ،علاوہ ازیں ملک کے تمام ٹی وی چینلز مجرموں اور پولیس کی حرکات سکنات سے واقف ہیں اور کئی معاملات و واقعات کو پوری ذمہ داری سے نشر کرتے ہیں تاکہ حکومت اور اداروں تک حقائق پہنچیں ،لیکن حکومت ان مجرموں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی۔

جرائم میں روز مرہ کے اس اضافے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ملک کے عام لوگ سماج دشمن عناصر سے مقابلے کی ہمت کھو بیٹھے ہیں وہ اپنی نگاہوں کے سامنے ظالم کے ظلم اور مظلوم کی بے بسی ،بے کسی کو دیکھتے ہیں لیکن مداخلت کی جرأت کرتے ہیں نہ ہی مجرموں کی نشاندہی اور نہ ہی عدالتوں تک جا کر ان کے خلاف گواہی دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ،کیونکہ ہر فرد جانتا ہے ملک میں قانون و انصاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کسی مصیبت میں پھنس جائے گا ،ایک ڈوکٹر اپنے مریض کو نااہلی کی بنا پر غلط انجیکشن دے کر مار دے گا یا ایک قانون کا رکھوالا وکیل اپنے کلائنٹ کو قتل کرے گا تو ایسے ماحول میں بھلا کون ہوگا جو اتحاد و اتفاق کا دامن تھامے گا؟

ان نام نہاد لیڈرز کو سوچنا چاہئے جیسے انہیں اپنی ماں ، بہن ، بیوی ، بہو اور بیٹی کی عزت عزیز اور پیاری ہے ایسے ہی عوام کو بھی ان کے تمام رشتے ہر دلعزیز اور پیارے ہیں ،اپنی جان اور عزت کی حفاظت کیلئے ہزاروں کی نفری میں ہر سو پولیس تعینات کی جاتی ہے جبکہ یہی پولیس خود بے گناہ عوام کی جان لیتی اور سرعام عزت اتارتی ہے ،شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے،جمہوریت کے نام پر ملک وقوم کی چمڑی تک اتار لی گئی ہے،اور اس نازک اور افسوسناک ماحول میں اگر کوئی اصلاحات کی بات کرتا ہے تو لطیفے سننے کو ملتے ہیں۔

جمہوریت نما میری کرسی کو کوئی نہ کھینچے ،جمہوریت نہ ہوئی دھوتی ، شلوار یا پینٹ ہو گئی جو اتر گئی تو کالم کے آغاز میں چند سوال تھے کہ ملک میں سنگین مسائل کیوں پیدا ہورہے ہیں؟ان کے رکنے کی بجائے بڑھنے کے کیا اسباب ہیں ؟ کیا ان کا علاج ممکن ہے؟ان مسائل کا حل یا خاتمہ ممکن ہے تو کیسے اور ذریعہ کیا ہے؟

تو ان سوالوں کے چند جوابات پیش خدمت ہیں۔پہلی بات اس ملک میں نہ انقلاب آسکتا ہے اور نہ کوئی لا سکتا ہے ،ملک میں انقلاب موجودہ حکومت ہی لا سکتی ہے لیکن حکومت کو نئے سرے سے اپنے منشور کا اعلان کرنا ہو گا اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ چودہ اگست تک صرف ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنے تمام وزیروں سفیروں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے، اور سب سے پہلے اوپر بیان کئے گئے مسائل کا حل نکالے ،اپنے اخراجات جو کروڑوں اربوں میں ہیں انہیں کم کرے پولیس اور کرپٹ اداروں میں تبدیلی لائے (پولیس میں کم سے کم ایف اے پاس کو بھرتی کیا جائے)اور ان کی ٹریننگ فوج سے کروائی جائے تاکہ وہ ملک و قوم سے وفاداری کے جذبے سے سرشار ہوں۔

جس دن پولیس کا مورال بلند ہو گیا کوئی غیر ملک پرندہ بھی ملک میں پر نہیں مار سکے گا، عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے فوری طور پر جعلی توانائی کے بحران کو ختم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر ملک کے کونے کونے میں سکولز بنائے جائیں، کم سے کم میٹرک تک تعلیم مفت کی جائے اور سکولز میں بچوں پر اساتذہ کا تشدد جرم میں شمار کیا جائے ،کچہری اور پٹواری سسٹم کو فوری ختم کیا جائے

وکلا اور ججز کیلئے ایک ایسا ادارہ یا سسٹم بنایا جائے جہاں نا انصافی کو کچلا جائے ،انصاف اور سچ کا بول بالا ہو، یہ سب کچھ ناممکن نہیں ہے ،میرا دعوہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک سال کے اندر ملک میں خوشحالی کا انقلاب آجائے گا ، تب نہ کوئی کسی کی پگڑی اتارے گا نہ ہی ٹانگیں یا کرسی کھینچے گا۔

سوال یہ ہے حکومت خودخوشحالی کا انقلاب لانا چاہے گی یا اس وقت تک انتظار کرے گی کہ واقعی کوئی خونی انقلاب لائے اور سب کچھ اتار لے؟فیصلہ حکومت نے کرنا ہے اور حکومت کے پاس سب کچھ ہے لیکن وقت نہیں۔

Shahid Shakeel
Shahid Shakeel

تحریر ۔۔۔شاہد شکیل

Share this:
Tags:
cases law patient safety حفاظت حوصلہ قانون مریض معاملات
Abdul Malik Baloch
Previous Post بحالیٔ امن کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے: وزیر اعلیٰ بلوچستان
Next Post بیت المال کا تھیلیسمیا میں مبتلا چار بچیوں کے تاعمر اخراجات برداشت کرنے کا اعلان
Children

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close