Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آئینی حقوق کی دلخراش داستان

November 5, 2013November 5, 2013 0 1 min read
Sajjad Hussain
Vote
Vote

ایک کمرشل مارکیٹ میں اپنے آرڈر کیلیئے منتظر بیٹھا ہوا تھا۔ نگاہیں اخبار پر ٹکی ہوئی تھیں۔ احساسات پر ایسے ہی جذبات کا بسیرا تھا جو ہر ذی شعور کو آج کل کے حالات کو جان کر ڈستے ہیں۔ اخبار کیا تھا مفلسی، غربت، قتل و غارت گری، بدعنوانی اور لاقانونیت کے کھلے عام ہونے والے واقعات کا عکاس تھا۔ ابھی میرا ذہن ان واقعات کے کرب میں جکٹرا ہوا تھا۔ اسی لمحے اسکی آواز بلند ہونے لگی۔ اسکی صدا میں درد بھی تھااور بات میں وزن بھی۔ میں بھی دوسرے بہت سارے افراد کی طرح اسے غور سے سننے لگا۔ وہ دہائی دے رہا تھا کہ اس پر ظلم کی انتہا ہوئی ہے۔ اسکی آزادی سلب کر لی گئی۔ یہ انسانی حقوق پر سفاکانہ وار ہے۔ ماجرہ یہ تھا کہ الیکشن 2013ء کی ووٹر لسٹ میں اسکا نام ہی نہیں ہے۔ آس پاس کے افراد بھی اس کیساتھ ہونے والے واقعے پر کھل کر اظہار افسوس کر رہے تھے۔ ایک آزاد محب وطن شہری کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا سراسر زیادتی ہے۔

اسکی محرومی کا احساس میرے وجود میں کرنٹ کی طرح سرائیت کرنے لگا۔ محرومی کیا ہوتی ہے۔ذہن کے پروں پر مغموم احساسات کی ارتعاش پیدا ہونے لگی۔ زندگی میں پہلی بار میرے خیالات میں گلگت بلتستان کی 60 سالہ محرومی کے مناظر گردش کرنے لگے۔ ایک ایسا خطہ جو وطن وعزیز سے بے پناہ محبت کے باوجود محرومی کا شکار ہے۔ اپنی قسمت کے فیصلے کرنے سے قاصر ہے۔ حکمرانوں کے چناو کا حق انہیں حاصل نہیں۔

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سے محرومی کی داستان بہت سنسنی خیز بھی ہے ، فکر انگیز اور دل خراش بھی ہے۔ اس کی وجوہات بہت ساری ہیں۔ شومہ قسمت غربت، پسماندگی، شعور و آگاہی کا فقدان اور ناہل،بدعنوان اور غدار حکمرانوں کا چناو ہے۔ جس طرح پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ چند اشخاص نے ذاتی مفاد کی صورت اٹھا کر ملک کو مسائل کے دلدل میں دھکیلا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت کو نااہل سیاستدان نما کاروباری طبقے نے سبوتاژ کیا ہے۔ محض مالی فوائد اور اقتدار کی ہوس کی خاطر لاکھوں انسانوں کو سبز باغ دکھاتے رہے ۔ ان میں سے بعض نے اپنے کاروبار اور بنک بیلنس کو عوام کی خواہشات اور امنگوں پر ترجیح دی ہے۔ بعض ان پڑھ اور سیاسی شعور سے عاری افراد اپنے آقاوں کی غلامی نبھا رہے ہیں۔ کہیں دام و زر کیلئے پارٹیاں بدل بدل کر لوگوں کو غیر حقیقی اعلانات اور پیکجز کی صورت اندھیرے میں رکھا گیا تو کہیں پارٹی سے وفاداری کے پر نام پر لوٹ مار کی منڈیاں سجائی گئی ہیں۔ غلامانہ سوچ انسانوں کو محرومیوں سے نجات نہیں دلا سکتی۔ اپنے آقاوں سے نمک حلالی کی خاطر خطے کی ترجیحات کو پس پشت ڈالا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ دس پندرہ سالوںمیں ہی برائے نام اصلاحات اور آئینی پیکجز کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا جاتا رہا اور نتیجہ ندارت۔ اسے ڈکیتی کا Modern Module کہا جا سکتا ہے۔

محرومی کی اس داستان کے پیچھے قربانی اور ایثار کا جذبہ بھی کارفرما ضرور ہے۔ وہ یہ کہ کشمیر کی آزادی تک گلگت بلتستان کو بے آئین رکھا جائے۔ گلگت بلتستان کی یہ صدا رہی ہے۔ یہ ایک مستحسن جذبہ ہے۔مگر محض نیک خواہشات کے بل بوتے پر لامتناہی عرصے تک انسانوں کو مادر دطن سے دور رکھنا دانشمندی بھی نہیں ہوگی اور منصفانہ قدم بھی۔یہ تو ایسی بات ہوئی کہ ایک جوان دوشیزہ کو کوسوں دور مقیم ان دیکھے مجاز خدا کے نام انتظار کی سولی پر چڑھا دیا جائے۔شوق وفاداری اور ذوق ایثار میں اس کے بالوں پر پہلے چاندی اتر آئے پھر اس کی ہڈیاں تک گھل جائے پر عہدے دفا بر نہ آئے۔ستم بالائے ستم ! جب یہ آشکار ہو جائے کہ وہ تو پہلے ہی اپنی ازدواجی زندگی خوش و خرم گزار رہاہے جبکہ دوسری طرف خوش فہمی ہی سلسلہ انتظار کو طوالت فراہم کر رہی تھی۔فطرت انسانی کا تقاضا ہے یا گردش دوراںسوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا اب بھی آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی گلی کوچوں میں کشمیر بنے کا پاکستان کی صدائیں اسی طرح زور آور سنائی دئتی ہیں۔کیا ایسا تو نہیں کہ دلوں میں آزاد ریاست کے سپنے پل رہے ہیں۔

بعید نہیں کہ انڈین میڈیا کی جھوٹی چکا چوند اور چکنی چپڑی باتوں کا سحر آزادی کی تحر یکوں میں جمود پیدا کر دے اور گلگت بلتستان کا خطہ بے آئین مدتوں پڑا رہے۔ ایمانداری سے تجزیہ کیا جائے تو اکیسوی صدی کے اس دور میں جہاں جانوروں کے حقوق مقدم ہو چکے ہیں وہاں کسی قوم کو 60سالوں سے محض ایک خواہش اور خیال کے بل بوتے پر ایک ایسے ملک کے آئین اور ووٹ کے حق سے محروم رکھنا سر ا سر زیادتی ہوگی جس میں شمولیت کیلئے انہوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان سے الحاق انکے لئے سب سے بڑی سعادت ہے۔

المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا تعلیم یافتہ طبقہ اسوقت اس بحث میں الجھا ہوا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے یا نہیں۔ یہ گفتگو نہ صرف غیر ضروری تضادات کو جنم دیتی ہے بلکہ مسائل کی اصل تصویر کو دھندلا دیتی ہے۔ اس موضوع گفتگو کا تعلق گلگت بلتستان کے گھمبیر اور پیچیدہ مسائل سے بالکل بھی نہیں ۔ چاہے وہ محرومیوں اور پسماندگی کی پکار ہو یا سیاسی اور آئینی حقوق کی للکار۔ بحث کے دونوں پہلوون کی میری نظر میںخاص ووقعت نہیں۔ اس لئے میں ایک مختصر مگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہونگا۔ جو لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے۔ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ گزشتہ 60برسوں میں جن کشمیری قیادست کیساتھ زبردستی کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں اس نے مسائل میں گھرے اس خطے کیلئے کیا کیا ہے۔ تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو بات عیاں ہوتی ہے کہ گلگت بلتستان اور کشمیر کا کوئی سیاسی اور انتظامی الحاق نہیں رہا ہے۔ ماسوائے کہ دونوں کسی دو ر میں ڈوگرہ راج کے زیر عتاب رہے۔ اس طرح تو پاکستان اور انڈیا بھی انگریز سامراج کے زیر تسلط رہے تھے ۔ تو کیا انہیں بھی ایک ہی خطہ سمجھا جائے۔پس یہ دلیل دونوں حصوں کی شناخت کو باہم ضم کرنے کیلئے کافی نہیں۔ اگر گلگت بلتستان کشمیر ہی کا حصہ ہوتا تو یہاںبھی SSR( اسٹیٹ سبجکٹ رول) لاگو ہوتا۔ یوں بیرونی عناصر کے اثر نفوذ، لاقانونیت اور شرپسندی کے مضر اثرات سے یہ خطہ محفوظ رہتا۔

 Gilgit-Baltistan
Gilgit-Baltistan

یاد رہے کہ یکم نومبر 1947ء کو یہ خطہ آزاد ہوا۔ 1970 میں ذولفقار علی بھٹو نے ایف سی آر قانون کا خاتمہ کر لیا تھا۔ سہی معنوں میں گلگت بلتستان اس وقت سیاسی اور سماجی مسائل کی آماجگاہ بن گیا جب ضیاء الحق نے اسے E-zoneقرار دیکر نہ تتیر نہ بٹیر کی صورتحال سے دوچار کیا۔ دوسری طرف ان صاحبان کیلئے عرض ہے جو یہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں ہے۔ یہاں صوبے کی طرز کی حکومت قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے جو پارٹی وفاق میں منتخب ہو جاتی ہے اسی کی ایک کٹ پتلی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔ جو ریموٹ کنٹرول پر کام کرتی ہے۔ ماضی کا مشا ہدہ ہے کہ قانون سازی تو دور کی بات میرٹ پر کوئی چپراسی تک بھرتی نہیں ہوا۔غیر تعلیم یافتہ اور غیر موزوں افراد نے اسمبلی تک رسائی حاصل کی اور رشوت ستانی کو ہوا دی گئی۔ اپنے ذاتی مادی مفادات کی خاطر لوگوں کی خواہشات اور امنگوںکو نظر انداز کیا گیا۔ اعلیٰ ایوانوں کی زینت وہ افراد بنے جو یا تو بہت نااہل اور نا عاقبت اندیش تھے یا دولت اور مال و زر کے پجاری ہیں۔

جہاں تک گلگت بلتستان کے عام شہریوں کی بات کی جائے تو وہ اپنے مستقبل سے نگاہیں موڑ کر تصورات کی دنیا میں مگن ہیں۔ انہوں نے اپنی امیدیں ملک کی بڑ ی بڑی سیاسی پارٹیوں سے جوڑا ہوا ہے۔ ان کی حیثیت اس عبد اللہ سے بدتر ہے جو بیگانے کی شادی میں دیوانہ ہے۔ عبد اللہ کا اگرچہ بیگانے کی شادی سے براہ راست تعلق نہ سہی مگر وہ شادی کی تقریبات و لوازمات سے لطف اندوز ضرور ہوتا ہے۔ وہ شادی کی تقریبات میں شامل حال بھی ہوتا اور نان و نفقے کا مزہ بھی لیتا ہے مگر گلگت بلتستان کے عوام بھی ملک کی بڑی جماعتوں کیلئے مرمٹ رہے ہیں۔ کوئی تیر کے حق میں گلے پھاڑ رہا ہے اور کوئی شیر کی حمایت میں بھنگڑے ڈال رہا ہے۔ کسی نے بلے کو سینے سے لگایا ہوا ہے تو کوئی پتنگ کی ڈور سے لٹکا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان جماعتوں کی فی الحال اس خطے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔چونکہ اس خطے کی تقدیر کا فیصلہ کشمیر کی آزادی سے منسلک ہے اور کشمیر کی آزادی پر کوئی بریک تھرو کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

اگرچہ ماضی میں پی پی پی کی طرف سے چند اقدامات دیکھنے کو ملے مگر ان کا فائندہ کم اور نقصانات زیاد ہوئے۔ جب کہ ن لیگ اور دوسری جماعتوں کی سرد مہری کی کوئی حد نہیں۔ 23 اگست 2007ء کو مشرف حکومت کی جانب سے GB Reforms Package کا اعلان ہوا۔یہ محض ایک تصوراتی لفا ظی اعلانات کا مجموعہ تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسکی قلعی کھل گئی اور اب یہ ماضی کا ایک قصہ بن چکا ہے۔ 2009ء میں زراداری حکومت نے Self Goverence Order کے نام پر ایک پیکیج کا اعلان کیا اس کے چار بنیادی نقات ہیں۔ آزاد کشمیر طرز کی حکومت کا قیام۔ ٢۔ ایک آزاد خود مختار منتخب حکومت۔ ٣۔ منسٹریوں کا قیام ٤۔ بجٹ میں اضافہ۔ بڑے وثوق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں کوئی ایک بھی ایسی شق نہیںہے جو گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات سے مماثلت رکھتی ہواور جسے موجودہ حکومت نے نافذ العمل بنانے کی سعی کی ہو۔ دراصل اس پیکیج کے ذریعے نہ صرف اختلافات کو ہوا دی گئی بلکہ غلامانہ ذہنیت کے چند کاروباری لوگوں کو عنان حکومت عطا کرکے خطے کو بد امنی، کرپشن، لاقانونیت کا مسکن بنا دیا ہے۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پیکج کیا تھا سفید جھوٹ کا پلندہ تھا۔ اس وقت بھی گلگت بلتستان کی حکومت مسائل سے بیگانہ ہو کر بندر بانٹ میں مست و مگن ہیں ۔تاریخ کی بدترین کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ تعلیم سے لیکر صحت جیسے اہم شعبے تباہی و بربادی کے دہانے پر ہیں۔

ہوش مندی کا تقاضا ہے کہ گلگت بلتستان کی قیادت اصولوں کی سودہ بازی اور ذاتی مفادات کی خریدو فروخت کو بالا طاق رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی محروم اور غیور عوام کی خوہشات اور مسائل کو ازبر کر لے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس خطے کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنا کر نہ صرف خطے کی وفاداری کا صلہ دیا جائے بلکہ یہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو مزید موثر بنائیگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام دانشمندانہ، تعلیم یافتہ اور اہل افراد کو قیادت کی داغ بیل سونپ دیں جن میں اتنی استعداد ہو کہ وہ ہر فورم پر گلگت بلتستان کے عوام کی موثر انداز میں ترجمانی کر سکے۔

Sajjad Hussain
Sajjad Hussain

ٰتحریر: سجاد حسین کامل

Share this:
Tags:
gilgit baltistan ruler Vote حکمران گلگت بلتستان
NEPRA
Previous Post نیپرا نے ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا
Next Post اور اب حکیم اللہ محسود
M.R.Malik

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close