Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کب بدلو گے یہ نظام

October 17, 2016 0 1 min read
Police
Society
Society

تحریر : عقیل احمد خان لودھی
انسانی معاشروں کو انسانیت کے تقاضے پورے کرکے ہی بچایا جا سکتا ہے دنیا میں جن قوموں نے اپنے اوپر مہذب ہونے کا لیبل لگوایا انہوں نے اخلاقیات کو اپنا نصب العین بنایا ہے بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جن کے پاس کوئی ایسا ریاستی دستور نہیں تھاجو بہت عرق ریزی سے تیار کیا گیا ہوبس چند افراد یا اداروں نے خلوص نیت سے بہتری کی ٹھان کراپنی ریاستوں کی بہتری اور نیک نامی کے لئے کام کا آغاز کیا اور پھر کامیابیاں ان کے قدم چومتی گئیں۔ قوانین بنانے اور ان پر عملدرآمد کروانے والی شخصیات نے خود کو قوانین کی پیروی میں عملی نمونہ بنا کر دوسروں کے سامنے پیش کیا خواہ معاملہ ٹریفک اشارے پر رکنے کا تھا یا کہیں کسی ادارے سے سہولیات کے حصول کا ، حکمرانوں اور افسروں نے بلا تفریق قوانین کی پاسداری کی (وہاں آج بھی ملک کے صدور، وزیر اعظم تک عوامی قطاروں میں لگ کر بل جمع کرواتے ہیں تو کہیں ٹکٹوں کے حصول کیلئے لائنوں میں لگ جاتے ہیں۔

کہیں کوئی پروٹوکول نظر نہیں آتا) جنہیں اختیارات سونپے گئے انہوں نے قوم کی امانت سمجھ کر ان کا استعمال کیا یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے وہ ریاستیں آج تہذیب یافتہ کہلاتی ہیں۔ہمارے ہاں کیا ہے الٹی گنگا تیزی سے بہہ رہی ہے، کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والے ملک جسے اسلامی جمہوریہ ہونے کا بھی ہم نے لیبل لگوالیا مگر ستر برسوں میں 1400سو سالہ دستور حیات یا دستور ریاست کی بھی کسی ایک شق پر عملدرآمدکرنا گوارہ نہ کیا ،تہذیب تو کیا آتی ہر گزرتے دن ہم جہالت کے پاسبان بن رہے ہیں۔ نہ قرآن کی مانی اور نا ہی ریاستی دستور کو خاطر میں لائے قانون شکنی کی سب سے زیادہ پریکٹس انہی کی جانب سے ہورہی ہے جن کی ذمہ داری میں قوانین کا نفاذ شامل ہے باقی اداروں کی بات کیا کریں کہ ذکر خیر کیلئے ہماری جان ومال کی حفاظت کیلئے بنائے جانے والے ادارے پولیس اور ہمارے پیارے محافظوں کی داستانیں ہی کچھ کم نہیں۔۔ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی؟ نہیں۔۔۔۔ پولیس کا ہے فرض تذلیل آپ کی ،جی ہاں! خیر سے اگر آپ عام اور شریف شہری ہیں تو اور پھر سونے پر سہاگہ اس پر کہ آپ کو قانون کے دائرہ کار میں رہنا اور اپنا حق حاصل کرنے کا اگر کچھ شوق زیادہ ہی ہو تو ۔۔ آزمائیے اور قریبی تھانہ میںضرور جائیے ۔اگر آپ کیساتھ ہوا ہے کہیں بھی ہاتھ یا پہنچا ہے کوئی دوسرا ہاتھ آپ کے گریبان تک، تھانہ جائیے۔۔۔

محافظوں کو دیجئے درخواست اور پھر دیکھئے افسروں کی آنیاں جانیاں اور لن ترانیاں ۔۔۔واللہ ہر دوسرے پولیس اہلکار کے منہ سے پھول جھڑتے ہوںگے ۔ اگر آپ کسی شریف گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں آپ کو بدزبانی، فحش گوئی یا گالیاں بکنا نہیں آتیں تو آپ تھانہ جانے میں ذرا احتیاط ہی برتئے کیونکہ ہمارے تھانے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کم ،عزت نفس کا جنازہ نکال دینے کے مراکز زیادہ بن چکے ہیں بعد میںجو آپ اپنے ذہن ودماغ میں نقش ہوجانیوالے غلیظ ناپاک تجربہ کو پاک کرنے کیلئے مہینوں غسل دیتے رہیں۔۔فائدہ؟۔۔۔ تھانوں میں پولیس اہلکاروں افسروں کی فحش کلامی، بدزبانی،یاوہ گوئی جس قدربڑھ چکی ہے یہ امر لازم ہوچکا ہے تھانوں کی عمارتوں کے باہر پولیس اسٹیشن کی بجائے اگر گالی گلوچ مرکز ،گالی ایجاد مرکز، یاانسانی تذلیل سینٹر لکھ دیا جائے جس سے اندر کے حالات کی بہتر انداز میں تعریف /عکاسی ہوسکتی ہے ۔۔ یوں توکسی ریاستی ، معاشرتی یامذہبی قوانین میں گالی گلوچ کی اجازت نہیں اور مذہب اسلام نے گالی کو سنگین جرم اور بد ترین گناہ قرار دیا ہے۔بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ۖ نے گالی گلوچ کومنافق کی نشانی قرار دیا ہے مگر کیا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں شخصیات ہی نہیں ادارے بالخصوص پولیس سینٹرز مسلسلا س کے فروغ کیلئے کام کررہے ہیں آپ بطور ایک عام شہری(کسی ٹائوٹ ٹائپ چوہدری صاحب جاگیردار،یا سیاستدان، وزیر وغیرہ کو ضرورت نہیںکیونکہ انہیں تھانوںکی تذلیل سے استثنیٰ حاصل ہے) کسی وقت تھانہ کا چکر لگا کرجائزہ لیں آپ دیکھیں گے کہ بعض اہلکاروں، تھانیداروں کی چند منٹ کی گفتگو گالیوں سے شروع ہو کر گالیوں کے درمیان رہتی اور گالیوں پر ہی ختم ہوجاتی ہے ایک عام فہم شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کا اوڑھنا اور بچھونا گالی دینا بن چکا ہے۔

Police
Police

کیا گالی اور پولیس لازم وملزوم ہوچکے ہیں؟ہمارے ہاں شریف شہری کو اگر پولیس سے صرف چند منٹوں کیلئے واسطہ پڑجائے تو وہ اپنی نسلوں کو بھی ان سے دور رہنے کی ہدایت کرتا ہے یہاں پولیس والے کو دیکھ کر شہری مزید خوفزدہ اور خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر کسی کے ہاں چھوٹی موٹی چوری ہوجائے یا کوئی حادثہ ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ تھانے جانے سے مزید مال کیساتھ عزت بھی جائے گی بار بار تفتیشی آئے گا یا پھر فون پر بلا کر گھنٹوں تھانے بیٹھا دے گا ۔ایسا ہی ہوتا ہے کئی بار تو صاحب کے فارغ نہ ہونے، میٹنگ میں ہونے یا عدالتوں میں پیش ہونے کا عندیہ دیکر آئندہ دنوں کیلئے بار بار پیشیوں پر ٹال دیا جاتا ہے جو کسی اذیت سے کم نہیں آخرپھر مجبور ا مک مکا کا فارمولہ ہی رہ جاتا ہے۔ اگر حادثاتی طور پر کوئی مجرم پکڑا جائے تو نشاندہی کے نام پر شرفائ(مدعیوں) کی شرافت کا شیرازہ بکھیر دیا جاتا ہے ۔جبکہ پکڑے جانے والے کی نشاندہی پرساتھی ملزموں کے ٹھکانوں/گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں جہاں ملزم موجود ہو یا نہ ہو اس کے گھر والوں کی سختی آجاتی ہے انسانی آبادیوں میں بچوں خواتین اہل محلہ کی موجودگی کی پرواہ کئے بغیر کھلے عام دیدہ دلیری سے ایسی ایسی قبیل کی گالیاں دی جاتی ہیں کہ خدا کی پناہ نہ کسی کی ماں کو بخشا جاتا ہے نہ کسی کی بہن کو، ہمارے شیر جوان ایسے میں جرات کا مظاہرہ کرکے گالیوں سے باز رکھنے والوں پر پل پڑتے اور خوب عزت افزائی کرتے ہیں۔۔۔ کس اختیار کے تحت اس کا جواب آپ کو قانون کی کسی بھی کتاب سے نہیں ملے گا البتہ اگر آپ اعلیٰ حکام کو شکایت کریں گے تو آپ کی چکروں میں رکھ کر مزید تذلیل کی جائے گی۔

ہمارے ہاں ایک مزاحیہ مثال دی جاتی ہے کہ اگر کسی ”ہاتھی”کو تھانے لے جا کر اس پر بغیر سوچے سمجھے ٹھڈوں، مکوں، گھونسوںاور فحش گالیوں کی بارش کی جائے تو وہ بھی کہے گا کہ جناب بے شک میرا ڈی این اے ٹیسٹ کروالیں میں ہاتھی نہیں بکرا ہوں اور میری نسلیں بھی بکروں کے خاندان سے ہیں۔راقم معاشرے میں قوانین کے احترام کی عادت کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا اور اچھی شہرت کا حامل ہے۔مورخہ30ستمبر2016ء کو راقم کے بھائی بلال کو چند افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا وقوعہ کی بابت پولیس تھانہ صدر وزیرآباد میں درخواست گزاری گئی تودرخواست جمع کروانے کیلئے جاتے ہی جو ہوا ذرا ملاحظہ ہو۔۔محررصاحب کے کمرے میں چار مختلف کرسیوں پر اہلکار براجمان تھے جبکہ ایک بغیر وردی اہلکار سامنے سائلین کیلئے رکھے ہوئے بینچ پر ٹانگیں پھیلا کرلیٹا ہوا تھا۔ راقم نے محرر کی سیٹ پر موجود اہلکار سے اسلام علیکم کہتے ہوئے ہاتھ ملایا تو اخلاقی اقدار کی پاسداری میں دوسرے ملازمین سے بھی سلام کی غرض سے ہاتھ ملانا مناسب سمجھا مگر دوسرے کے بعد جب تیسرے سے ہاتھ ملانے لگا تو بینچ پر لیٹے ہوئے اہلکار نے روایتی پولیسی انداز چوکنا کیا اور کہا ”اوہ ہیلو اُراں او جا ہو گئی ایے تیری سلام قبول ایہناں ای بڑا اے ساریاں نال ہتھ ملان دی ضرورت نئیں ۔۔( اوئے ہیلو ادھر ہو جا تیری سلام قبول ہوگئی ہے سب کیساتھ ہاتھ ملانے کی کوئی ضرورت نہیں)راقم پولیس اہلکار کے رویے پر حیران رہ گیا کہ محکمہ پولیس کے لوگ سائلین سے کس قدر بیزار ہیں اور کیسے غیر اخلاقی رویے سے پیش آتے ہیںسائل خاموش ہوگیا کہ شایدمحکمہ نے کوئی سرکلر جاری کردیا ہو کہ سلام کیلئے پولیس اہلکاروں کیساتھ ہاتھ نہیں ملانا۔یکم اکتوبر 2016ء کوراقم کے بھائی کی درخواست پر انکوائری کرنے والے سب انسپکٹر الیاس چانڈیو نے فون کرکے یہ کہہ کر تھانہ میں بلایا کہ ایس ایچ او صاحب نے ملزمان کو تھانہ میں بلا رکھا ہے اس لئے جلدی تھانہ پہنچو راقم اپنے بھائی کے ساتھ ہی ہولیا ۔ جہاں ملزمان تو موجود نہ تھے البتہ الیاس چانڈیو اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار ضرور موجود تھے ۔الیاس چانڈیو نے بغیر کسی تفتیش تحقیق کے سائل کے بھائی (درخواست گزار، مدعی) کوغیر اخلاقی رویے کا نشانہ بنانا شروع کردیا گالی گلوچ کرتے ہوئے کہا تمہارا کون سا کوئی قتل ہو گیا ہے جو تھانہ میں درخواست دے گئے ہوہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ فضول درخواستوں پر کاروائی کریں۔راقم سے رہا نہ گیا اور صرف یہ کہاکہ جناب اللہ نہ کرے کوئی قتل ہوآپ نے ویسے بھی ہمیں ایس ایچ او صاحب کا کہہ کر تھانہ میں بلایا ہے یہاں آپ کا ہمیں گالیاں دینااور برابھلا کہنا کسی صورت مناسب نہیں ،یہ سنتے ہی سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار جس کا نام بعد میںمحمد اکرم سندھو سب انسپکٹر معلوم ہوا نے سائل کے بھائی کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور انتہائی تلخ رویہ میں کہالے جائو انہیں اور حوالات میں بند کر دو۔

Police Station
Police Station

راقم کی طرف سے اتنا کہنے پرکہ آپ ایسا غیر اخلاقی،نامناسب رویہ اختیار کرکے ہمارے ساتھ زیادتی کررہے ہیں تو موصوف مزید طیش میں آگئے اور ساراتھانہ سر پر اٹھا لیاانتہائی گستاخانہ زبان ا ستعمال کی اور راقم کو بھی حوالات میں بند کروادیا گیا ۔جہاں ہمیںماورائے قانون حراست /حبس بے جا میں رکھ کراکرم سندھو نے ہماری بے بسی کا مذاق اڑایا، الیاس چانڈیو نے جی بھر کر بھڑاس نکالی گندی، ننگی گالیاں دیں اور انتباہ کرتا رہا کہ پولیس مزید کیا کچھ کرسکتی ہے بعدازاں راقم کے بھائی احمد فراز خان لودھی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی جانب سے ایس ایچ او عبد الرزاق وڑائچ جو تھانہ میں موجود نہ تھے کے فون پر رابطہ کیا گیاجن کے احکامات پر ہمیں رہائی ملی۔ راقم نے پولیس اہلکاروں کی اس زیادتی، اختیارات سے تجاوز کرکے ذلیل وخوار کرنے اور حبس بے جا میں رکھنے میں جیسے غیر اخلاقی،غیر قانونی اقدامات بارے مقامی افسران، اعلیٰ اتھارٹی کو آگاہ کیا جس پر انکوائری لگ گئی۔

دو مرتبہ کال پر ڈی ایس پی وزیرآباد آفس میں پیش ہوچکا ہوں پہلی بار میں الیاس چانڈیو نے برملا یہ تسلیم کر لیا کہ اس نے راقم اور اس کے بھائی کو حوالات میں بند کیا اور ساتھ ہی اپنے دفاع میں گالی دینے کا الزام راقم پر لگا دیا جبکہ دوسرا سب انسپکٹر حاضر نہ ہوا جس کی وجہ سے دوسری بار پھر پیشی رکھی گئی اب کی باردفتر سے یہ جواب ملاکہ چونکہ آپ اپنا بیان زبانی اور تحریری ریکارڈ کرواچکے ہیں اس لئے آپ کو آنے کی ضرورت نہیں اکرم سندھو سب انسپکٹر اب بھی کسی کیس کی پیروی کیلئے ہائی کورٹ لاہور گئے ہوئے ہیں۔ پندرہ روز سے زائد گزر جانے کے باوجود سائل کی دادرسی کیلئے گزاری گئی درخواستوں پر محکمہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا۔پیشیوں پر بلا کر گھنٹوں وقت ضائع کرکے شکایت گزاروں کو پیروی سے مایوس کرنے کی یہ پریکٹس نئی نہیں بہت پرانی ہے۔ غیراخلاقی،غیرقانونی اقدام کے دفاع میں سائلین پرہی بدتمیزی کا الزام لگا دئے جانے کا جومعاملہ ہے ،عام فہم انسان بھی جانتاہے کہ کوئی محبوط الحواس یا ذہنی مریض بھی تھانہ میں جا کر پولیس سے بدتمیزی یا گالی گلوچ کا تصور بھی نہیں کرسکتا اورجہاں تک راقم یا اس کے بھائیوںکی بات ہے تو ہماری تربیت ہی ایسی نہیں ہوئی کہ ہم کسی کو گالی دیں اور بالخصوص اپنے سے بڑوںکیساتھ بدتمیزی کریں۔ راقم ایک تعلیم یافتہ نوجوان اور ایم ایس سی ماس کیمیونیکیشن تعلیمی قابلیت کا حامل ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وطن عزیز میں جہاں راج دلاری جمہوریت کا دوردورہ ہو ذمہ دار اداروں میں موجود غیر ذمہ دار اہلکاروں کی ہتھ چالاکیوں، بدمعاشیوں جیسے ماورائے قوانین اقدامات کوبرداشت کرنا یقینا نہ صرف اپنی ذات، اخلاقیات، اخلاقی اقدار بلکہ ریاست کیساتھ دشمنی ہے۔ چند پولیس اہلکاروں کی غیر ذمہ داری، اختیارات سے تجاوز کرنے کی عادات اور شریف شہریوں کیساتھ بداخلاقی کے واقعات کی وجہ سے یہ ادارہ مسلسل بدنام ہو رہا ہے۔

پولیس اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں میں اس ادارہ کی ہی طرف سے (جس کا مقصد عوام الناس کو تحفظ فراہم کرنا ہے) عدم تحفظ کا عنصر غالب آرہا ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا میں ہر روز نئی رپورٹس سامنے آتی ہیں اکثر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح برملا پولیس اہلکار غلیظ زبان کا استعمال کرنے کیساتھ ساتھ ملزموں کے علاوہ نہتے شریف شہریوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گندی زبان سے لوگوں کے جذبات کو چھلنی کرتے ہیں اوراہلکاروں کے ایسے رویوں کیلئے پولیس گردی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ پولیس گردی میں روز بروز اضافہ حکومتی گذ گورننس پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کروڑوں کے فنڈز ہر سال پولیس جیسے ادارے کو عوام دوست بنانے کیلئے جاری ہوتے ہیں مگر ایک دوانی (سکہ) کا بھی فائدہ نظر نہیں آتا ۔اگر ہر سال کروڑوں روپے ضائع کرنے کے باوجود پولیس اہلکاروں کو شریف شہریوں کی تذلیل سے روکا نہیں جاسکتا تو کم ازکم گالی گلوچ کیلئے قانون پاس کردیا جائے۔ہمارے معززحکمران تجربہ کار افسروںکیساتھ مشاورت کریں جوتجربہ کار اہلکاروں کی مدد سے نت نئی گالیاں ایجاد کرواکے قانون کا حصہ بنائیں سائل اور ملزم کیلئے الگ الگ گالیاں، مال پانی نہ دینے والوں کیلئے الگ اسی طرح ہر کٹیگری کیلئے مناسب گالیوں کا اہتمام کروایا جائے تاکہ قانون کا رستہ اپنانے والے شریف شہریوں کی مزید اچھے انداز میں عزت افزائی ہوسکے نیزپولیس اہلکاروںتھانیداروں کو شہریوں کی تذلیل کرنے کی کھلے عام آزادی دی جائے تا کہ کوئی بھی شخص دادرسی کے چکر میں اعلیٰ افسران کو شکایات کرکے اپنا مزید وقت، سرمایہ اور عزت دائو پر لگنے سے بچاسکے ۔۔۔ امید ہے اس عرضداشت پر ضرور غور فرمایا جائے گا۔

Aqeel Ahmed Khan Lodhi
Aqeel Ahmed Khan Lodhi

تحریر : عقیل احمد خان لودھی

Share this:
Tags:
Aqeel Ahmed Khan Lodhi change law Rule Society states system حکمران ریاستیں قوانین معاشروں نظام
Javed Masih and Zohaib Javed
Previous Post بیٹا بے گناہ، مذہب تبدیل نہ کرنے پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا، والد زوہیب جاوید
Next Post انٹرنیٹ کے معاشرتی فوائد اور نقصانات
Internet

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close