سندھ (محسن شیخ) چوہدری نثار فوج کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ پرویز رشید جیو کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انکا یہ بیان وزیر اعظم نواز شریف کا حامد میر کے پاس جانا عیاں کرتا ہے کہ حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے؟ یہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات ابھی بھی بہتر نہیں ہوئے، وزیر اعظم حامد میر کے پاس چلے گئے لیکن قومی سلامتی کے ذیلی ادارے آئی ایس آئی کو بھول گئے، اگر وہ اس ادارے کے ہیڈ کوارٹر کو وزٹ کرلیتے اور فوج کے حق میں بیان دے دیتے تو فوج کا مورال مزید بلند ہوجاتا۔
دوسری طرف ایک ٹاک شو میں ن لیگ کی لوٹی عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ جیو اور آئی ایس آئی دونوں ہمارے لیے برابر ہیں، دونوں اداروں کا ہم برابر کا احترام کرتے ہیں۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکومت ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ساتھ کیوں کھڑی ہے، پاک افواج اور آئی ایس آئی کے ساتھ کھڑا ہونے سے کیوں کترا رہی ہیں۔
بقول شیخ ریشد صاحب کے آئی ایس آئی کے سربراہ کو ٹارگٹ کلر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، یہ ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے، اس ملک میں خبر بنانے کے لیے پنگا لینے کا بھی بڑا رواج ہے۔ یہ تاثر بن رہا ہے کہ جیو فوج مخالف سوچ کو پروان چڑھا رہا ہے۔ میر شکیل الرحمان سے عرض ہے کہ وہ اپنے اثاثے کو ضائع نہ کریں، آپ اس بارودی سرنگ پر پائوں رکھنے جارہے ہیں، جس سے آپ کی باپ دادا کی خدمات کو نقصان پہنچنے کا قوی امکان ہے، ان مشیروں سے بچیں جو کہہ رہے ہیں چڑھ جا بیٹا سولی رام بھلی کرے گا،
قومی معاملات میں نواز شریف کے ترجمان نہ جانے کس کے ترجمان ہیں پرویز رشید سے کون کہے کہ کچھ دل کی ترجمانی بھی ہوتی ہے، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے ہیں۔ یہ سنگین بے وفائی ہوتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں کمزور بزدل اور مفاد پرست سیاستدانوں سے بچائے سب سے دلیرانہ بیان چوہدری نثار کا ہے، مگر یہ وزراء کے بیان میں تضاد کیوں ہے، تضاد ہمیشہ مفاد سے جڑا ہوتا ہے اور اسکے پیچھے فساد ہوتا ہے، چوہدری صاحب کا کہنا بالکل بجا ہے کہ قومی اداروں کو دشمن کی ہدایت پر نشانہ بنانا دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے، یہ زہریلا پروپیگنڈہ پوری دنیا میں پھیلایا جارہا ہے، اس میں پاکستان کا خصوصی میڈیا اور بھارتی میڈیا ایک ساتھ اور ایک جیسا کردار بلکہ بد کرداری ادا کررہے ہیں، چوہدری نثار کا شکریہ کہ انہوں نے دفاعی اداروں پر الزامات کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ گمرا کن فرار دیا، پر پرویز رشید کو کیا سوچی کہ اس نے جیو سے وفا نبھائی وزیر اعظم اینکر پرسن کے پاس چلے گئے مگر دفاعی اداروں کے لیے کلمہ حق کہنے کی توفیق بھی انہیں نہیں ہوئی، کراچی میں روز لوگ مرتے ہیں مگر کسی کے لیے بھی ایک لفظ حکومتی لوگوں کی زبان سے نہیں نکلتا۔
پرویز رشید کہتے ہیں کہ حکومت غلیل والوں کے ساتھ نہیں دلیل والوں کے ساتھ ہیں یہ انتہائی ظالمانہ بیان ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے اینکر پرسن کی عیادت کرکے ثابت کردیا کہ حکومت کس کے ساتھ ہیں، بھارتی لابی بھی اینکرز پرسن اور اسکے ادارے کے ساتھ کھڑی ہے، تو کیا دونوں میں کچھ فرق نہیں ہے پرویز رشید یونہی بھولے بنتے ہیں انہیں پتہ بھی ہے کہ غلیل سے ہاتھی کو نہیں مارا جاسکتا مگر یہ لوگ توپ سے مکھی مارنے والے ہیں، پرویز رشید یہ تاثر دے رہے ہیں کہ انکے مشورے پر وزیراعظم حامد میر کی عیادت کو گے انکے پیچھے بلاول بھٹو کو بھی پرویز رشید نے بھیجا ہوگا، بلاول کے کئی بیانات ایسے ہے جو نواز شریف کی عزت خاک میں ملانے والے ہیں، پرویز رشید کو یہ دھول اڑتی ہوئی نظر نہیں آتی پرویز رشید ابھی تک چھوٹے بچوں کی طرح لاڈلے انداز میں بات کرتے ہیں، جیو کے آئی ایس آئی پر الزامات سے ملک بھر میں ایک سروے خود بخود ہوگیا کہ عوام فوج کے ساتھ ہے اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ عوام کو فوج سے لڑایا جاسکتا ہے، انکا بیڑہ غرق ہو گیا۔
