
کاروباری سلسلہ میں کئی روز گھر سے باہر رہنے کے بعد اس نے بیوی بچوں کیلئے کپڑے، چھوٹی کیلئے پیاری سی گڑیا اور دیگر ضروری سامان خریدا شاپنگ کرتے کافی دیر ہوگئی ریل نکلنے کا وقت ہو چلا تھا وہ بھا گم بھاگ ریلوے اسٹیشن پہنچا ٹکٹ خریدا اور سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ ٹرین چلی تو وہ اپنے گھرانے کے بارے سوچنے لگا چھوٹی کی معصوم باتیں اور پپو کی توتلی زبان سے بولتے بے ربط جملوں کی ذہن میں بازگشت گونجنے لگی وہ بے اختیار مسکرا دیا ٹرین کئی مقامات پر رکتی پھر بھی چھکا چھک بھاگتی ہی چلی جاتی۔
فیصل آباد آنے کو تھا اچانک اسکو کسی نے شانہ پکڑ کر ہلایا وہ یک لخت خیالی دنیا سے نکل کر جیتے جاگتے ماحول میں واپس آیا اسے کسی کی اس حرکت پر بے انتہا غصہ آیا لیکن اپنے سامنے ایک چھوٹے سے پیارے سے بچے کو دیکھ کر اس نے پوچھا”کیا بات ہے؟ بچے نے جوس کا ایک پیکٹ اس کے سامنے کر تے ہوئے کہا انکل! لے لو میں نے تو صبح سے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ اسے بچے پر ترس آگیا جیب سے پیسے نکال کر اسے دئیے اور جوس پینے لگاجوں جوں ٹرین فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر رکنے کیلئے آہستہ ہونے لگی اس کے حواس ساتھ چھوڑنے لگے اس نے اٹھنے کی کوشش کی کامیاب نہ ہو سکا۔
اسے ہوش آیا تو معلوم ہوا وہ ہسپتال میں ہے زہریلا مشروب پینے پر اس کی یہ حالت ہو گئی کسی نے ریلوے اسٹیشن کے باہر اسے بے ہوش دیکھ کر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی تھی بروقت طبی امداد ملنے پر جان بچ گئی لیکن نوسر باز سامان، نقدی اور قیمتی اشیاء لوٹ چکے تھے۔ ایک خاتون بیٹی سے مل کر لاہور سے فیصل آبادآئی واپس اپنے گھر جانے کیلئے ویگن کے انتظار میں کھڑی تھی کہ اچانک ایک مرد اور ایک عورت نے نہ جانے وہاں کیا تلاش کرنا شروع کر دیا پھر وہ اس خاتون سے کہنے لگے ہمارے پیسے گم ہوگئے ہیں آپ نے تو نہیں دیکھے خاتون کے انکار پروہ کہنے لگے ہمیں تو آپ پر شک ہے کیونکہ اس جگہ کچھ دیر پہلے ہماری رقم گر گئی ہے اور اب یہاں آپ کھڑی ہیں خاتون نے پھر سختی سے انکار کیا مردکی ساتھی عورت نے کہا صورت سے تو آپ چور نہیں لگتیں لیکن میرا خاوندبڑا شکی مزاج ہے ماں جی مسجد میں جاکر آپ قسم کھا لیں تو اسے یقین آجائے گا میں کیوں قسم کھائوں؟ خاتون نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تم سچی ہو تو قسم کھانے میں کیا حرج ہے؟ ساتھی عورت نے کہا اب مجھے یقین ہو گیا ہے مردنے کہا میری رقم تمہارے پاس ہے نکالو میرے پیسے ساتھی عورت کہنے لگی مجھے یقین ہے پیسے تمہارے پاس نہیں شکل سے تو آپ کسی اچھے خاندان کی لگتی ہو میں نے تو پہلے ہی کہا تھا میرا خاوندبڑا شکی مزاج ہے تم اللہ کے گھرمیں قسم کھالو اسے تم پر اعتبار آجائے گا۔
خاتون بادل نخواستہ محض اپنی جان چھڑانے کیلئے مسجد جانے کیلئے ان کے ہمراہ ہو لی موقع پاکر پیچھے سے ان کے ساتھی نے خاتون کو کچھ سونگھا دیا خاتون کے بے ہوش ہوتے ہی وہ اس کے طلائی زیورات اور نقدی لوٹ کر چلتے بنے لوگ مسجدمیں نماز پڑھنے آئے تو پتہ چلاایک خاتون بے ہوش زمین پر پڑی ہے اب تازہ ترین ایک اور واقعہ بھی سن لیجئے انجینئرنگ کا ایک طالبعلم اپنے کزن کی شادی پر لاہور سے فیصل آباد آیا سفر کے دوران اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک نوسر باز نے اسے کچھ کھلانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا فیصل آباد آنے پر جب لوگ اترنے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے انجینئرنگ کے طالبعلم کو نوسرباز نے کچھ سونگھا دیا اور اغواء کر کے رکشہ میں لے گئے آتے جاتے حواس کے ساتھ طالبعلم نے مزاحمت کی تو اسکی نہ صرف پٹائی کی گئی بلکہ اسے زہریلی چیز کھلا کر فائیو ایس موبائل، کپڑے اور ہزاروںکی نقدی لوٹ لی گئی اور اسے نڑ والا چوک کے قریب نیم مردہ پھینک کر فرار ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے عملے نے طالبعلم کو طبی امداد کے لئے DHQ ہسپتال منتقل کیا جہاں کئی گھنٹوں بعد اسے ہوش آیا اور شادی والے گھر میں ایک کہرام مچا رہا اس جیسے ملتے جلتے نہ جانے کتنے واقعات روزانہ ملک میں رونما ہو رہے ہیں اور نہ جانے کتنے لوگوں کو نوسرباز لوٹ رہے ہیں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مینار پاکستان، داتا دربار، لاری اڈہ اور ریلوے اسٹیشن پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں لاری اڈہ نڑ والا چوک اور ریلوے اسٹیشن راولپنڈی میں فیض آباد، راجہ بازار، لاری اڈہ اور ریلوے اسٹیشن نوسربازوں کے خاص مراکز ہیں جہاں روزانہ درجنوں وارداتیں ہورہی ہیں اب تو فراڈئیے بے ہوش کرنے والا محلول بھی سپرے کرنے لگے ہیں مسافر بے ہوش ہو جائے تو اسے طبی امداد کے نام پر ذرا سنسان علاقے سے میں لے جا کر لوٹ لیا جاتا ہے مزاحمت کرنے والوں کی مرمت کی جاتی ہے اور زبردستی زہریلا مشروب پلادیا جاتا ہے نوسرباز انتہائی مہلک زہر اور بے ہوش کرنے والی دوابھی استعمال کرتے ہیں جس سے ایک تہائی متاثرین کی موت واقع ہو جاتی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں فیصل آباد میں سب سے زیادہ نوسربازی کے واقعات ہورہے ہیں صرف DHQ ہسپتال میں روزانہ چار پانچ متاثرین لائے جارہے ہیں اتنی وارداتوں کے باوجود اصلاح احوال کیلئے اقدامات نہ کرنا فہم سے بالاتر ہے نوسربازی کے متاثرین میں زیادہ تر تھانے کچہری جانے سے کتراتے ہیں چونکہ زیادہ تر متاثرین مسافر ہوتے ہیں اس لئے وہ جان بچ جانے پر ہی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔
عوام میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ نوسربازی کے متاثرین کو محض رپٹ درج کر کے ٹرخا دیا جاتا ہے بیشتر درخواستوں پر سرے سے کوئی کارروائی ہی نہیں ہوتی اور یوں وہ رجسٹروں میں درج ہو کر ماضی کے قصے کہانیاں بن جاتی ہیں پاکستان میں ملزمان کے خلاف مؤثر ایکشن نہ لینے کی وجہ سے بھی جرائم کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہو تا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کے بعد پولیس ہی عوام کی جان و مال کی محافظ ہے جو جتنا بڑا افسر ہے اس کی ذمہ داری بھی اتنی زیادہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے حضور اتنا ہی زیادہ جوابدہ ہے۔ ہر ایس ایس پی اپنے ضلع میں عوام کی جان و مال کا محافظ ہے میرے خیال میں نوسرباز چور، ڈاکو سے زیادہ خطرناک ہے جو عوام کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ اس کی جان کا بھی اس سے زیادہ دشمن ہے سٹریٹ کرائم میں برابر اضافہ، نوسربازی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سماج دشمنوں کو کھلی چھٹی دینے کا مطلب ہے ہر ایس ایس پی سو رہا ہے شاید اسی وجہ سے عوام لٹ رہے ہیں نو سرباز ان کی جان سے کھیل رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے عوام کا مقدر سو گیاہے؟ مجھے امید ہی نہیں یقین واثق ہے کہ جس روز فیصل آباد کے ایس ایس پی جاگ گئے نوسرباز یہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اس دوران الہی سب کی خیر ہو۔
تحریر: سرور صدیقی
