
حکومت کی جانب سے شہریوں کو کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے ہلاک کرنے کے الزامات کے بعد شام پرعالمی دباو میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔برطانوی قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے نہتے عوام کو مارا گیا جسکو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے پرشام کی حکومت کوجہاں سخت مخالفت کا سامنا ہے وہیں کچھ آوازیں اس کی حمایت میں بھی اٹھ رہی ہیں۔ روس، چائینہ اور ایران نے امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ امریکا اور برطانیہ شام کے خلاف فوجی ایکشن کے حامی ہیں۔ برطانیہ کی سلامتی کونسل کا کہنا تھا کہ بشار الاسد حکومت نے نہتے عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے اور بتا دینا چاہتے ہیں کہ آج کی دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کی گنجائیش نہیں۔ سعودی عرب نے بھی شام کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شامی وزارت خارجہ نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں نے امریکا، برطانیہ اور فرانس کی مدد سے کیا اور کہا کہ بیرونی جارحیت کادفاع ایسے وسائل سیکیا جائیگا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔ اقوامِ متحدہ کی بیس رکنی ٹیم شام میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ دمشق کے نواحی علاقے میں ہونے والے کیمیائی حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
